1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. سید علی ضامن نقوی/
  4. عید میلاد النبی ص

عید میلاد النبی ص

تو کجا من کجا، تو کجا من کجا

تو امیرِ حرم، میں فقیرِ عجم
تیرے گن اور یہ لب، میں طلب ہی طلب
تو عطا ہی عطا، میں خطا ہی خطا
تو کجا، من کجا، تو کجا، من کجا

آج ویسے ہی طبیعت بوجھل تھی، بیٹھے تھے کہ کہیں دور سے یہ چند بول سنائی دیے۔۔۔

بول تھے کہ سحر تھا ان میں ۔۔ عجب کشش، نیٹ کھولا اور اس کلام کو ڈھونڈ کر لگایا جو کہ ایک قوالی کی شکل میں مل گیا۔۔۔

تو عطا ہی عطا، میں خطا ہی خطا
تو کجا، من کجا، تو کجا، من کجا

جیسے جیسے مرحوم نصرت فتح علی کی پر سوز آواز میں قوالی آگے بڑھتے گئی توں توں دل میں بے قراری بڑھتی گئی۔۔

وہ کیا ہستی ہوں گی جنہیں وجہِ تخلیقِ کائنات کہا گیا،

وہ کجا من کجا

وہ جو سیدہ فاطمہ زہرا س کے پدر ہیں، وہ جو حسنین ع کے نانا ہیں
وہ جو مولا علی ع کے آقا ہیں

وہ کجا من کجا

وہ جن کا خلق، خلقِ عظیم قرار پایا۔۔۔

وہ جن سے ملاقات کی خواہش ہر نبی ع نے کی

وہ کجا من کجا

وہ جو حبیبِ پروردگار ہیں، وہ پروردگار کہ کل جہان جس کی خوشنودی ڈھونڈے اور وہ چاہے کہ آپ ص راضی ہو جائیں

وہ کجا من کجا۔۔۔

جیسے جیسے سوچیں بڑھتی گئیں ویسے ویسے آنکھوں پر اختیار جاتا رہا۔۔۔ وہاں جہاں ابھی تک خشکی تھی وہاں آنسؤں کی جھڑی لگ چکی تھی اور دل سے ایک ہی صدا بار بار اٹھ رہی تھی

مولا۔۔۔۔۔
تو کجا من کجا۔۔۔

کتنا غلط سمجھا مولوی نے جس نے ہمیں جنت کے حور و غلمان کی لالچ دینے کو تبلیغِ دین سمجھا۔۔۔ حوروں کے نقشے کھینچے گئے۔۔۔ اس دور کے ایک بڑے مبلغ نے ایسے ایسے انداز میں حوروں کے جسم کے پیچ و خم بتائے کہ سن کے آنکھیں شرم سے جھک جائیں ۔۔۔ کیا ان کے لیے نامِ نامیِ مصطفیٰ ص کافی نہ تھا دین کی دعوت دینے کے لیے۔۔۔؟

تو حقیقت ہے میں صرف احساس ہوں
تو سمندر، میں بھٹکی ہوئی پیاس ہوں
میرا گھر خاک پر اور تری رہگزر سدرۃ المنتہیٰ،
تو کجا من کجا، تو کجا من کجا

دل میں خیال اٹھا کیسے بدنصیب ہوں گے جن کے دل میں جنت جانے کی خواہش ان دنیاوی و نفسانی لذتوں کے لیے اٹھے، ہمارے لیے تو اس سے بڑا انعام اور کیا ہو گا کہ ہمیں ان کی زیارت نصیب ہو جائے گی۔۔ ان کے قدموں میں بیٹھنے کا شرف مل جائے گا۔۔ کیا اس سے بڑی سعادت کوئی اور ہو پائے گی۔۔۔

شاعر نے کہا تھا نا۔۔۔

تیری ص معراج کہ تو ص لوح و قلم تک پہنچا
میری معراج کہ میں تیرے ص قدم تک پہنچا

ہمارا عقیدہ واضح ہے۔۔۔ ہم نے تو قرآن کو بھی قرآن آپ ص کے کہنے پر مانا۔۔۔ آپ ص نے فرما دیا یہ جملہ جو کہا یہ قرآن تھا اور یہ جو کہا یہ حدیث۔۔۔ ہم نے کہا آمنا برحق !

ڈگمگاٰؤں جو حالات کے سامنے
آئے تیرا تصور مجھے تھامنے
میری خوش قسمتی، میں ترا اُمتی
تو جزا میں رضا، تو کجا من کجا

علامہ‫ طالب جوہری نے سیرت النبی ص بیان کرتے ہوئے کیا خوب کہا تھا کہ ۔۔۔۔
محمّد (ص) اور قرآن دونوں علم الہی کا پرتو ہیں ۔۔۔ جیسا قرآن ویسا محمّد (ص)۔۔ جب علم الہی لفظوں میں ڈھلا قرآن کہلایا ۔۔۔ جب نور کے پیکر میں ڈھلا محمّد (ص) کہلایا ۔۔اب اگر قرآن بے عیب ہے تو میرا نبی (ص) بھی بےعیب ہے ۔۔۔خدا کے آگے جھکنے کا نام ہے اسلام اور میرے رسول (ص) کے آگے جھکنے کا نام ہے تسلیم۔۔۔

یا حبیب اللہ، یا رسول اللہ ہم نے اپنا آپ، آپ کی خدمت میں جھکا دیا ۔۔ آپ ہمیں مقامِ تسلیم میں قبول فرما لیجیے۔۔ یقین جانیے ہماری سب سے بڑی چاہت آپ کی محبت کا حصول ہے۔۔کاش آج کا کٹھ ملا، حوروں کی لالچ کی جگہ حبِ رسول ص بیدار کرنے کی طرف توجہ دیتا۔۔ تو دنیا میں سوا امن و آتشی انسانیت محبت کے کچھ نہ ملتا ۔۔۔ اور مسلمانون کا کردار ہی اتنا ارفع ہوتا کہ لوگ خود بخود کنچھے چلے آتے، کہ جب یہ امتی ایسا ہے تو جس کا امتی ہے وہ حضور ص کیسے ہونگے۔۔۔

دوریاں سامنے سے جو ہٹنے لگیں
جالیوں سے نگاہیں لپٹنے لگیں
آنسوؤں کی زباں ہو میری ترجماں
دل سے نکلے سدا، تو کجا من کجا