اتوار, 08 دسمبر 2019
/ کالمز / سید علی ضامن نقوی / شوکت علی اور پھولوں کے گلدستے

شوکت علی اور پھولوں کے گلدستے

اگر کبھی آپ کو معروف گلوکار جناب شوکت علی خان صاحب کے ہاں جانے کا موقع ملے تو آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے ان کے ڈرائینگ روم کے شوکیسز میں اتنے ایوارڈ، شیلڈز اور سوئینیرز ہیں کہ اب مزید رکھنے کو جگہ ختم ہو چکی ہے۔

پنجابی زبان میں دورِ حاضر میں ان سے بڑا لوک گلوکار نہیں آیا۔ اسی لیے سرحد کے ِاس پار ہو یا ُاس پار انہیں پنجاب کی آواز کہا جاتا ہے۔ ہندوستانی پنجاب میں جتنے بھی لوک گلوکار اور نئے گانے والے آ رہے ہیں وہ شوکت علی خان صاحب کے ہی گائے ہوئے گانے گا کر اپنی پہچان بنا رہے ہیں۔ وہاں والے کہتے ہیں خان صاحب آپ کاش ہمارے یہاں ہوتے تو آپ کو اپنے سر کا تاج بنا کر رکھتے۔

بہرحال پرستاروں کی محبت ایک طرف، خان صاحب نے اپنی زندگی پاکستان میں ہی گزاری اور نہ صرف گزاری بلکہ اس وطن کو جب جب آپکی ضرورت پڑی آپ نے ایسے شاہکار اور لازوال قومی گیت گائے جو ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گئے۔

جاگ اٹھا ہے سارا وطن، ساتھیو مجاہدو

اپنا پرچم ایک اپنا قائدِ اعظم ایک ہے

آج خان صاحب بیمار ہے ہسپتال میں ایڈمٹ ہیں۔ علاج مہنگا ہے جس کے لیے پیسہ چاہیے، خان صاحب ملک کا اثاثہ ہیں۔ اس وقت حکومت کو، اداروں کو آگے آنا چاہیے، خان صاحب سے ملیں اور پوچھیں کہ آپ قومی ہیرو ہیں آپ نے اپنی پوری عمر اپنے فن اور اس ملک کی خدمت میں گزار دی، بتائیے اب ہم کس طرح آپ کی خدمت کر سکتے ہیں۔ خالی پھولوں کے گلدستے دے دینے سے ہماری ذمہ داری ادا نہیں ہوجاتی۔

ہمیں مردہ پرست قوم ہونے کا ٹیگ اتارنا ہوگا کہ جب کوئی مر جائے تو اسے یاد کرتے ہیں جیتے جی قدر نہیں کرتے۔

اللہ پاک خان صاحب کو شفاء دے اور حکومت، اداروں اور ساتھی فنکاروں اور ان کی تنظیموں کو توفیق دے کہ مشکل کی اس گھڑی میں بھرپور انداز میں دامے درمے سخنے خان صاحب کے ساتھ کھڑی ہو۔ ہو سکے تو اس پیغام کو آگے پہنچائیے تاکہ ہم اس زمین کے قابلِ فخر فنکار کو وہ عزت دے سکیں جن کے وہ حقدار ہیں۔