Tuesday, 12 November 2019
/ کالمز / سید حسین عباس / بھارت کی کہانی

بھارت کی کہانی

بھارت سے اچّھے تعلقات کے خواہشمند پہلے بھارت کو سمجھ لیں۔ اس کی تاریخ اور سسٹم سے اچھّی طرح با خبر ہوں۔ پھر اَمَن کی آشا کی بات کریں۔ چند روز پہلے میں ایک مضمون۔ بھارت میں نئی تحریک آزادی۔ کے عنْوان سے لکھ چکا ہوں اس مِیں مَیں نے بھارت کی ہسٹری پر نظر ڈالی ہے۔ اور ایک دوسرا مضمون۔ بھارت مِیں انسَانوں کیسَاتھ غیر انسَانی سلوک۔ کے عْنوان سے لکھَا ہے۔ تیسرا مضمون۔ بھارت مِیں تَہذیب کا فقدان، اگر آپ ان تینوں پر نظر ڈال سکیں تو بھارت کی وہ تصویر ابھرے گی جس سے اندازہ ہو گا کہ بھارت مَیں مسَلمانوں کے خلاف اتنی شدید خون آشامی کیوں؟ پہلی بات یہ کہ اس ملک کا نام ہندوستان نہیں ہے۔ یہاں کے سارے لوگ ہندو نہیں ہیں۔ فی الحقیقت ہندو نام کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ بھارت میں جو مذہب پریکٹس کیا جاتا ہے۔ اسکا نام ہے سناتن دھرم۔ یا برہمن دھرم اور اس دھرم کو ماننے وا لابرہمن بھارت کی آبادی کا ساڑھے تین فیصد ہے۔ یہ اس ملک کا باشندہ نہیں ہے۔ اس کا ڈی۔ این۔ اے یہودیوں سے ملتا ہے۔ یہ خود کو آریا سماج کہتے ہیں۔ ہندو کا لفظ اس دھرم کی کسی کتاب میں نہیں ہے۔ اس لفظ سےتو آنے والے ایرانیوں اور عربوں نے پکارا۔ انہوں نے اس ملک کو ہند کہا اور اس کے باشندوں کو ہندو کہا۔ بھارت کے پرانے باشندے ہندو لفظ کو گالی کے مترادف سمجھتے تھے۔ دو ہزار سال پہلے جب برہمن اس سر زمین میں داخل ہوا تو اسنے یہَاں کی سادہ اور معصوم آبادی کو غلام بنا لیا۔ اور ان پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کیلئے انکو چھ ہزار ذاتوں میں تقسیم کردیا۔ برہمن کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے کہ شڈیول کاسٹ۔ شڈیول قبیلے۔ دوسرے پیچھے رہ جانے والے خاندان۔ بھارت کی اصل آبادی۔ بودھ۔ جین لنگائت۔ سب ہندو ہیں۔ مزید یہ کہ سکھو ں کو بھی ہندو ہی شمار کرتے ہیں۔ انڈیا کا سْپریم کورٹ بھی ان کو ہندو نہیں مانتا۔ برہمنوں کا ان کو ہندو کہنے میں فائدہ یہ ہے کہ ان کو ملا لینے سے برہمنوں کی تعداد بہت بڑی اکثریت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ویسے برہمن ان سب کو اچھوت (Untouchable)کہتے ہیں۔ ان کیساتھ بیٹھنے کو بھی برا سمجھتے ہیں انکو انسان کا درجہ بھی نہیں دیتے۔ ان کی یہودی سوچ کےمطابق یہ خود کو اللہ کی منتخب امّت کے افراد کہتے ہیں۔ باقی دنیا کے لوگ انسانی شکل میں انکے غلام خدمتگار ہیں۔ دنیا مَیں جتِنے بھی مذاہب ہیں انکے مذہب قبْول کرنے پر ایک نہ ایک نشانی ہوتی ہے جیسے مسلَمان ہونے کیلئے نہا دھو کرکلمہ پڑھتے ہیں اور پورے سطر کا لبَاس پہنتے ہیں۔ اسی طرح عِیسائیوں کے ہاں بپتسمہ (نام رکھنے کی ایک رسم ہے جسمیں مقدّس پانی میں غوطہ بھی دیا جاتا ہے) یہودیوں کے ہاں بچّوں کو بلوغیت کے قریب مِیکوا ہ کی رسم سے گذرنا ہوتا ہے۔ یہاں بھی نہانا ہو تا ہے۔ پھر مخصوص لبَاس ہوتا ہے۔ پارسی مذہب کے لوگ بھی کاٹن کا ایک مخصوص لبَاس ہمیشہ اندر پہنتے ہیں۔ برہمن ایک لمبے دھَاگے کواپنے گلے میں لٹکاتے ہیں اسے جَنِیو کہتے ہیں۔ (یہ تو ہمیشہ سے ٹوائلیٹ سے محروم ہیں )۔ تو جب یہ کھیت میں فارغ ہونے جاتے ہیں تو جَنِیو کے لمبا ہونے کی وجہ سے اسکے دوچار پھیرے سیدھےکان پر لپیٹ لیتے ہیں۔ تاکہ جَنِیو نیچے نہ لٹک جائے۔ انکے دھرم میں گھر مِیں ٹوائلیٹ بنانا منع تھا اسی لیئے صَبح صَبح ساری جنتا ریلوے لائین کے دونوں طرف بیٹھی ہوتی ہے۔ جس طرح یہودی اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں کرتے۔ یہودی کا بیٹا ہی یہودی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح برہمن کا بیٹا ہی برہمن ہو سکتا ہے۔ تو پھر ساری جنتا کو ہندو کہنے کا کیا حق ہے؟ کیا انہوں نے کسی کو جَنیو پہننے کی اجازت دی ہے؟
ویسے بھی اچھوت کے دھرم اور برہمن کے دھرم میں بڑا فرق ہے۔ براہمن دھرم میں ایشور ایک ہے اور اسکی کوئی تصویر یا مورتی نہیں ہے۔ جبکہ ان برہمنوں نے جو دھرم اچھوتوں کو بنا کر دیا اس میں رنگ برنگے بھگوان دیویاں دیو داسیاں۔ پھر رام کی جنم بھومی اگر رام بھگوان پیدا ہوئے وہ بھی مسجد میں۔ پھر انکی دیو مالائی کہانیوں کو جنِسی رنِگینی کیلئے انکے دیوتائوں کے بلات کار۔ تو بھلا یہ ہندو کیسے ہو گئے۔
جب انگریز بھارت چھوڑ کر جا رہا تھا پوچھاکہ اچھوت ذاتوں کی مردم شماری ہو گی؟ جیسَا کہ ہر سال ہوتی تھی۔ تو پنڈت جواہر لال نہرو نے کہا، ہم بعد مِیں کرا لیں گے اور حقیقت یہ ہے کہ آج جون ۲۰۱۹؁ ہو گیا ہے مگر یہ مردم شماری نہیں ہوئی۔ آخر کیوں؟ وہ اس لیے کہ برہمن اچھی طرح جانتا ہے کہ برہمن صرف تین فیصد ہی رہ جائیگا اور ستّانوے فیصد دوسری جاتیاں(ذاتیں) تو جمہور میں اس کا کیا مقام ہو گا۔ پھر یوں اتنی ذلت اٹھاکر آخر کسی کو ہندو بننے میں کیا فائدہ ہے۔ ان لفنگوں کے پاس کوئی ملازمت اور کوئی کاروبار تو ہے نہیں۔ جو چاٹو ہیں وہ ان کا مال کھاتے ہیں اور انکی غلامی میں آگے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی تو جرائم پیشہ لوگ سیاسی پارٹیوں کی چمچہ گیر ی میں قتل عام کرتے پھرتے ہیں۔ اسی طرح ان اچھوتوں اور دَلت کو برہمن نے بتایا ہے کہ مسلمان ہی انکے تمام مسائل کی بنیاد ہے۔ اور وہ گلی کوچوں میں مسلمانوں کا قتل عام کرتے پھر رہے ہیں۔ اچھوتوں کے ایک بڑے لیڈر مسٹر وامن میشرام کا کہنا ہے کہ گذشتہ اکتالیس برس سے اپنی برادری کو جگانے میں لگا ہوا ہوں۔ انکے ساتھ ایک مسلم عالم خلیل الرحمٰن سجّاد نعمانی بھی اچھوتوں سے یکجہتی اور اتّحاد کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ کیونکہ ہمارے قرآن کی تعلیمات میں سب انسان برابر ہیں سب سے عزّت دار وہ ہے جو اللہ سے جتنا زیادہ ڈرتا ہے (انّ اَکرمکم اللہ عنداللہ اتقاکم)۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جب تک بھارت میں برہمنوں کا راج ہے۔ پاکستانی دوستی کا تصوّر بھی نہیں کر سکتے۔ کیونکہ بھارت اسرایئل کا بڑا بھائی ہے۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ نوجوت سنگھ سدّو یا کسی غیر برہمن کو موقع مل جائے نریندر مودی برہمنوں کا نامزد کردہ ہے یہ بات ایسے ہی ہے جیسے کوئی اپنے غلام سے کام کراتا ہے۔ یہ اگرچہ نیچ ذات کا تیلی ہے مگر یہ اپنی ذات اور قبَیلے کی بھلائی کیلئے کچھ نہیں کر سکتا۔ ، ۲۰۱۹؁ کے الیکشن مِیں۔ اچھوت، مسلمان، سکھ، عِیسائی، جَین، بودھ، لنگائت سب کا زبردست اتّحاد تھا اور مودی کے جیتنے کا سوال ہی نہیں تھا۔ مگر (EVM) الیکٹرانک ووٹینگ مشین کےذریعہ بے ایمانی کرکے جیت گیا اگرچہ کہ یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے۔ مگر کوئی سنتا ہے؟ سینٹ، پارلیمنٹ، میڈیاِ، سب برہمنوں کی ملکیت میں ہیں۔ اور غریب لوگ صرف سوشل میڈیا کے سہارے اپنی کوشش کر پا رہے ہیں۔ آپ یقین کریں کہ ایک بڑا فلسطِین بھارت میں ہے جہاںوہ اسی طرح مظلوموں کو مار رہا ہے۔ بھَارت مِیں آبادی کا ایک بڑا حصّہ بنیادی حقوق سے مَحروم ہے۔ اچھوتوں کی مَردم شمَاری روک کر انکے حقوق کو غصب کیَا ہوا ہے۔ اسی برہمن نے تقسِیمِ بھَارت کے موقع پر سکھوں سے جھوٹے وعدے کرکے مسَلمانوں کے قتل عَام پر آمادہ کیا تھا۔ اور آج بھی بھَارت کے مسَلمانوں کو پاکستان ڈھکیِلنے پر تلا ہوا ہے۔ دنیا کو بھارت کی دہشتگردی نہیں نظر آتی۔ گذشتہ ستّرسالوں سے کشمیر پر ظلم توڑ رہا ہے۔ کیا دنیا اندھی ہے؟ مگر یہ مسلمان دشمنی ہے۔ اور اس میں مختلف بہانوں سے سب شامل ہیں۔ مذہبِ انسانیت کے علمبردار کہاں غائب ہیں؟ جب مسلمانوں پر ظلم کی بات آتی ہے تواسکو انسان ماننے پر بھی تیّار نہیں ہیں۔ بھارت سے دوستی کے لئے ہاتھ بڑھانے والوں انتظار کرو کہ جب بھارت میں غریبوں کو انسان مان لیا جائے۔

سید حسین عباس

سید حَسین عبّاس مدنی تعلیم ۔ایم ۔اے۔ اسلامیات۔ الیکٹرانکس ٹیلیکام ،سابق ریڈیو آفیسر عرصہ پچیس سال سمندر نوردی میں گذارا، دنیا کے گرد تین چکر لگائے امام شامل چیچنیا کے مشہور مجاہد کی زندگی پر ایک کتاب روزنامہ ’امّت‘ کیلیئے ترجمہ کی جو سنہ ۲۰۰۰ اگست سے اکتوبر ۲۰۰۰ تک ۹۰ اقساط میں چھپی۔