/ کالمز / سید ابرار حسین / نان فائلر ہوں، چور نہیں ہوں

نان فائلر ہوں، چور نہیں ہوں

جناب وزیراعظم!
آپ نے خطاب کیا اوروہ اعداد و شمار بیان کئے جو سوشل میڈیا پر روایت کئے جاتے ہیں، مجھے فی الوقت ملک پر تیس ارب یا اکتیس ارب کے قرضوں بارے کچھ نہیں کہنا کہ جنہوں نے قرضے لئے وہ اس کی قابل قبول اور تسلی بخش وضاحت پیش کر چکے مگر مجھے آپ سے اپنے بارے ضرور کہنا ہے کہ میں پاکستان ایک عام شہری، نان فائلر ضرور ہوں مگر ٹیکس چور نہیں ہوں، یہ کتنی بڑی زیادتی ہے کہ آپ میرے دئیے ہوئے ٹیکس پر ایوان وزیراعظم میں رہیں، ایک سال میں ایک ارب سے زائد خرچ بھی کریں، آپ کے صدرعلوی صاحب میرے ٹیکسوں سے اپنے طوطوں کے لئے بیس، بیس لاکھ کے پنجرے بنانے کے اشتہارات بھی جاری کروائیں، بتیس بتیس لاکھ کے مشاعرے بھی کروائیں، آپ کے کسی دیہات سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ ایک برس میں بیس بیس کروڑ کے ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں پر جھولا بھی جھولیں اور اس کے بعد آپ کہیں کہ ہم پاکستانی ٹیکس نہیں دیتے۔ سرکار ! یہ ریاست اور اس کے تمام ادارے ہمارے ہی ٹیکسوں سے چلتے ہیں کسی کے ذاتی اکاونٹ سے نہیں۔
جناب وزیراعظم!
اگر صرف ایک فیصد پاکستانی ٹیکس دیتے ہوں تو یہ ملک ہرگز نہ چلے، نہ دفاعی اخراجات پورے ہوں اور نہ ہی شہری کہ ٹیکس تو پاکستان کا ہر شہری دیتا ہے۔ وہ بوڑھا شخص بھی جو کسی دور دراز کے علاقے میں کسی پہاڑی پر بیٹھا سگریٹ کے کش لگا رہا ہے، وہ جو کسی گاوں میں گرم دن میں پنکھا چلا لیتا اور رات کو بلب جلا لیتا ہے۔ وہ شہری جو ایک گاڑی چلاتا ہے تواس کے خریدنے پر ٹیکس دیتا ہے، ا س کی رجسٹریشن پر ٹیکس دیتا ہے، ڈرائیونگ لائسنس بنوانے پر ٹیکس دیتا ہے، پٹرول ڈلوائے تو اس پر ٹیکس دیتا ہے، چلائے یا نہ چلائے مگر اس کا ٹوکن ٹیکس بھرتا ہے، کسی اچھی سڑک پر گاڑی لے جائے تو ٹال ٹیکس دیتا ہے، لائن، لین یاکسی اشارے کی خلاف ورزی ہوجائے تو اس پر ٹیکس دیتا ہے۔
چلیں، گاڑی والے کو چھوڑیں، ایک شخص مہینہ بھر محنت مزدوری کرنے کے بعد تنخواہ لیتا ہے تو ٹیکس دیتا ہے، گھر میں پانی کانلکا کھولتا ہے تو ٹیکس دیتا ہے، چولہا جلاتا ہے تو ٹیکس دیتا ہے، اپنے پیاروں سے بات کرنے کے لئے فون کرتا ہے تو ٹیکس دیتا ہے، بازار سے بنیان، کرتا، شلوار اور چپل خریدتا ہے تو ٹیکس دیتا ہے، ٹی وی دیکھے یا نہ دیکھے ٹیکس دیتا ہے، بچے کی سالگرہ کرتے ہوئے خوش ہوتا ہے تو کیک اور غباروں پر ٹیکس دیتا ہے، اس کا کوئی پیارا مرجاتا ہے تو اس دفنانے سے رشتے داروں کو کھلانے تک پر ٹیکس دیتا ہے، بیٹی یا بیٹے کی شادی کرتا ہے تو اپنی ایک ایک مسکراہٹ پر ٹیکس پر دیتا ہے، اب کیا وہ ٹیکس میں اپنی جان دے دے؟
جناب وزیراعظم!
یہ تصور درست کروا دیجئے، ٹیکس ہر پاکستانی دیتا ہے مگر ریٹرن کے فائلر صرف ایک فیصد ہیں اور ان دونوں کے درمیان فرق کرنا بہت ضروری ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستانی فائلر کیوں نہیں بنتے توا س کا جواب بھی بہت سادہ ہے کہ جب ہر پاکستانی ٹیکس دے رہاہے تو اسے فائلر ہونے میں کیا مسئلہ ہے، جان لیجئے، اسی سوال کے جواب سب سے بڑی حقیقت چھپی ہوئی ہے کہ خرابی ٹیکس دینے والے میں نہیں بلکہ ٹیکس لینے والے میں ہے۔ ہرپاکستانی اسی طرح سوچتا ہے جس طرح آپ وزیراعظم بننے سے پہلے سوچتے تھے کہ ہمارا ٹیکس ہماری فلاح و بہبود پر خرچ نہیں کیا جاتا اور ہمیں بتاتے تھے کہ آپ نے آف شور کمپنی اس لئے بنائی تاکہ ٹیکس بچایا جا سکے۔
بصد احترام، میں آپ کی گذشتہ تین برس کی انکم ٹیکس ریٹرنز دیکھتا ہوں تو میرے سامنے آتا ہے کہ آپ تین یا چار سو کنال کے گھر میں رہتے اور ہوائی جہازوں میں اڑتے پھرتے رہنے کے باوجودسالانہ اوسطاً ایک لاکھ روپے بھی براہ راست ٹیکس ادا نہیں کرتے رہے کیونکہ ہم سب پاکستانی یہی سمجھتے ہیں کہ ہمارے حکمران طبقات چاہے وہ سیاستدانوں اور بیوروکریٹوں سمیت کوئی بھی ہوں، ہمارا ٹیکس کھا جاتے ہیں تو پھروہ ٹیکس ہم خود ہی کیوں نہ کھا جائیں مگر اس کے حقیقت ہونے کے باوجود میں اسے براہ راست ٹیکس نہ دینے کا جواز نہیں بناتا۔
جناب وزیراعظم!
وفاقی حکومت نے گیارہ کھرب بیس ارب کے اضافی ٹیکس لگائے تو پنجاب کی حکومت بھی پیچھے نہیں رہی اور اس نے ہر طبقہ ہائے زندگی پر ٹیکس باقاعدہ ’ ٹھوک، دئیے، اب اس کا ردعمل کیا آتا ہے وہ ایک سیاسی سوال ہے اور یہ کالم سیاسی نہیں ہے۔ غیر سیاسی طور پر عرض یہ کرنا ہے کہ آپ کے اداروں اور ان اداروں کے اوپر بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس ذہنی اور جسمانی طور پر وہ صلاحیت ہی نہیں ہے کہ ٹیکس اکٹھا کر سکیں۔ آپ کے ٹیکس انسپکٹر جب کسی فیکٹری اونر کے پاس جاتے ہیں تو اسے بتاتے ہیں کہ تمہارا ٹیکس ایک لاکھ روپے بنتا ہے، پچیس ہزار جمع کرواو، پچیس ہزار مجھے دو اور پچاس ہزار کی بچت کرو۔
وہ اگر اس’ فراخدالانہ، اور’ سمجھدارانہ، پیش کش کو قبول نہ کرے تو اسے نہ صرف ایک لاکھ ٹیکس دینا پڑتا ہے بلکہ کئی لاکھ کی خواری الگ ہوتی ہے۔ مسئلہ ہی یہ ہے کہ ٹیکس نیٹ میں آنے والا ہرشخص رگڑا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک آسان شکار ہوتا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ ایمنسٹی سکیم کا استعمال کیا جائے اور میرا کہنا ہے کہ اگر آپ اس سکیم کے ذریعے اپنے وزیر خزانہ کے ہی اثاثے ڈکلیئر کروا دیں تو قوم آپ کی پیش کش پر اعتماد کر لے گی۔
جناب وزیراعظم!
حقیقت تو یہ ہے کہ سرکاری ادارے ٹیکس لینا ہی نہیں چاہتے۔ ایف بی آر کہتا ہے کہ اسے ہر برس’ ریٹرن، جمع کروائی جائے جو وصولیوں اور ادائیگیوں پر ٹیکس کی رسید ہوتی ہے مگراس ریٹرن کا تیار کرنا ایک عام آدمی کے بس کی بات ہی نہیں، اسے انتہائی مشکل اور ٹیکنیکل بنایا گیا ہے مگر اس سے بھی دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ ریٹرن آپ کے بنک اکاونٹ کی بنیاد پر بنتی ہے یعنی اگر آپ نقد لین دین کریں تو ریٹرن کی زدمیں نہیں آتے۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کے سترہ ہزار سات سو انچاس بنکوں کے تقریبا پانچ کروڑ بنک اکاؤنٹس کا ڈیٹا تو سنٹرلائزڈ ہے اور اداروں کی انگلیوں کے نیچے ہے تو آپ ان پانچ کروڑ اکاؤنٹس کو جمع شدہ گوشوارے کیوں ڈیکلئیر نہیں کر دیتے جس کے بعد آپ کے فائلرز کی تعداد اچانک اٹھارہ، بیس لاکھ سے بڑھ کے چار سے پانچ کروڑ ہوجائے گی۔
آپ سچ پوچھیں تو ریٹرن ایک رسید ہے کہ میں نے کتنا ٹیکس ادا کیا اور رسید ہمیشہ وصول کرنے والا دیتا ہے، ہونا تو یہ چاہئے کہ میرے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ پر میری تنخواہ کے علاوہ پانی، بجلی، گیس، پراپرٹی، پٹرول، فون اور دیگر مدات پر جتنا ٹیکس کٹا اس کی رسید مجھے ایف بی آر دے اور میرا شکریہ ادا کرے مگریہاں الٹی گنگا بہتی ہے کہ ٹیکس بھی میں ہی دیتا ہوں اور نان فائلر ہونے کی وجہ سے چور بھی میں ہی کہلاتا ہوں۔
جناب وزیراعظم!
اگر آپ شناختی کارڈ نمبر کو ہی نیشنل ٹیکس نمبر بنا کے کام شروع کر دیں اور بنک اکاونٹس ہی گوشوارے بنا دیں تو صرف ایک مزید کام کرتے ہوئے پوری کی پوری اکانومی کو ڈاکومنٹڈ کیا جاسکتا ہے کہ ایک لاکھ روپے سے زائد کسی بھی نقد ادائیگی یعنی کیش پے منٹ کو قانونی تسلیم کرنے سے انکا رکر دیا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہر شہری اپنی ادائیگیوں کے قانونی تحفظ کے لئے بنکنگ چینل استعمال کرے گا۔
جب ہر زیر استعمال بنک اکاونٹ ایک گوشوارہ ہو گا تواس کے بعد کوئی امیر آدمی نان فائلر نہیں رہے گا اور جو رہے گا وہ اپنے رسک پر ہو گا کیونکہ کسی بھی تنازعے کی صورت میں عدالتیں اس کا دعویٰ قبول نہیں کریں گی۔ یوں ہمارے چہرے سے یہ کالک بھی اتر جائے گی کہ صرف ایک فیصد لوگ ٹیکس دیتے ہیں، جی ہاں، اس سوشل میڈیائی تصور کو درست کرنا از حد ضروری ہے کہ پاکستانی ٹیکس نہیں دیتے، ٹیکس تو ہر پاکستانی دیتا ہے مگر فائلرز صرف ایک فیصد ہیں۔