/ کالمز / احسن اقبال / ہائے کس ڈھنگ سے اچھوں کو برا کہتے ہیں

ہائے کس ڈھنگ سے اچھوں کو برا کہتے ہیں

کون سا لفظ ذکر کروں کس کو نظر انداز کروں۔ الفاظ کے آپس میں تناذعات اتنے کہ قرعہ ڈالنا پڑا کہ کن الفاظ کا چناؤ کیا جائے۔ ہر لفظ اپنے آپ کو پیچھے دھکیلتا ہے کہ میرا استعمال نہ کرنا تیرا احسان ہے مجھ پر۔ لیکن قلم کی نوک پر جو بھی آجائے قلم لحاظ نہیں کرتا۔ اسی لیے قلم ہی وہ ہتھیا ر ہے جو اگر بلا لحاظ شخصیت اٹھایا جائے تو بہت سارے ظالم و جابر بھی اسکی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ 

آج ہماری عوام کے سا تھ جو برتاؤ ہو رہا ہے اسکا ذمہ دار کس کو ٹھرایا جائے۔ کس کے سامنے فریاد کی جائے کہ آپس کے اختلاف میں عوام کو کیوں گھسیٹا جا رہا ہے۔ یہ کیسی سیاست کی جا رہی ہے کہ جس میں تختہ مشق عوام کو بنایا جا رہا ہے۔ اس میں ان عوام کا کیا قصور ہے جو ہر دفعہ ایک نئی امید تمہارے ساتھ وابستہ کر کے تمہیں اس جگہ تک پہنچاتے ہیں جہاں تم انکے خوابوں کی تعبیر بن سکتے ہواگر چاہو تو۔ وہ الگ بات ھیکہ انتخابات کے بعد تو شاید وقت نہ ملے لیکن پانچ سال میں اگر چند دن آپکا واسطہ عوام سے پڑتا ہے تو اس میں ان کو عزت سے اگر نہیں نوازا جا سکتا تو کم از کم انکے جذبات کو مجروح تو نہ کیا جائے۔ عوام اگر سب کا ساتھ دے رہے ہیں تو اس جرم کی سزا یہ ہیکہ اب ان سے آزادی رائے کے حق کو بھی چھینا جائے۔ کوئی آزادی سےاپنی پسند کا اظہار نہ کرے۔ کیونکہ اب الفاظ کے تیروں کا رخ انکی پسند کے ساتھ ساتھ انکی اپنی ذات کو بھی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ اورایسی عجیب و غریب قسم کی ذہنیت کو پروان چڑھایا جا رہا ہے کہ ؛الامان و الحفیظ۔ میرا آپ سے اختلاف ہے تو یہ میرا حق ہے۔ لیکن اگر آپ اپنی رائے میرے اوپر مسلط کریں اسکا حق آپکو کس نے دیا۔ اور عجیب منطق ہے کہ کچھ لوگوں کا اختلاف آپس میں ہے اور اپنے درمیان موجود فیصل کواپنے اختلاف کی مد میں ایسے الفاظ سے نوازیں کہ جن کووہ اپنی ذات کے لیے استعمال کرنا گوارہ نہ کرتے ہوں۔ تو اہل شعوران لوگوں کو اگر زیادہ نہ بھی تو الفاظ کا اتنا ہدیہ ضرورپیش کریں گے کہ اس حد کو کراس کرنے کی جراءت کیوں کی گئی کہ ہمارےمستقبل کے فیصل (عوام) کو کوئی گدھا کہ رہا ہے تو کوئی طوائف کی اولاد غرض یہ کہ تیر جس کمان سے بھی نکلے اسکا نشانہ عوام ہیں۔ اور یہ صرف اس اقتدارکی حوس میں کیا گیا جس پر چڑھنے کی خاطراس معاشرے میں انسانیت سے گر جانا کوئی بڑی بات نہیں۔ لہذااس بداخلاقی کو ہر گز نظر انداز نہ کیا جائے۔ 

ایک طرف ان کو آزادی رائے سے روکنے کے لئے ان پر خود کش حملے کیے جارے ہیں، فائرنگ کی جارہی ہے تو دوسری طرف رہی سہی کسر ان الفاظ نے نکال دی جو آجکل ہمارے سیاسی لیڈر بڑی بہادری سے استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ تو شکر ہے ہماری لشکری زبان میں "مذمت" کا لفظ ہے جس کے ساتھ بھرپور کا لفظ بڑھا کر ہماری ذمہ داری شاید پوری ہو جاتی ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو نہ جانے ہمارے نمائندے کس لفظ کی آڑ میں خود کو چھپائے پھرتے۔ اوراس ستم ظریفی کے عالم میں عوام کو ایسا جھانسا دیا جاتارہا کہ وہ ملک جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے موسوم ہے۔ اسکے اوپر ایسے لوگوں کو مسلط کیا جاتا رہا جن کو اسلام کی الف، ب کا پتہ نہیں۔ اور دعوے اسلامی ریاست کو دوبارہ اسلامی ریاست بنانے کے ہیں۔ خدا کرے کہ ۲۵ جولائی کا سورج غروب ہوتے وقت اسلام مخالف قوّتوں کو بھی ایسی اندھیری میں غرق کر ڈالے کہ جیسا ان قوّتوں نے ہمارے سادہ لوح مسلمانوں کو اندھیرے میں رکھا ہوا ہے۔