/ کالمز / احسن اقبال / لوگ کیا کہیں گے؟

لوگ کیا کہیں گے؟

چار الفاظ پر مشتمل اس جملے کی اگر طاقت پر غور کیا جائے تو اس میں اتنی طاقت ہے کہ یہ جملہ بڑے بڑے ارادوں کو لمحوں میں نیست ونابود کر دیتا ہے۔ اور لاکھوں خوابوں کو فقط اک خواب سے زیادہ کا درجہ دینے سے روکے رکھتا ہے۔ اس جملے کا اپنا وجود تو یقینی نہیں لیکن اسکا ادنیٰ سا خوف بھی کسی عظیم معمار کے سانچوں کو ہلا کر رکھ دیتاہے۔ کسی بلندی پر چڑھتے قدم میں زنجیر ثابت ہوتا ہے،  اس جملے کی آندھی لاکھوں  چراغوں کو گل کر کے رکھ دیتی ہے۔ یہ جملہ بہتے پانی کے آگے باندھے گئے بند کی سی رکاوٹ سے کم نہیں۔ اور اسکے اتنا طاقت ور ہونے کا راز یہ ہیکہ ہمارے معاشرے میں کوئی بھی کام سر انجام دینے سے پہلے اکثر لوگ اس طرف ضرور توجہ دیتےہیں کہ لوگ کیا کہیں گے؟ اور اس کشمکش میں وہ اپنے مقاصد اور شریعت کے بتائے ہوئے رستے سے کوسوں دور چلے جاتے ہیں، اور شریعت کے وہ کام جو آسانی سے سر انجام دیے جاسکتے ہیں ان میں ایک بڑی رکاوٹ اسی جملے کی وجہ سے کھڑی کر دی جاتی ہے جس کا نقصان دنیاوی لحاظ سے مالدار آدمی کو تو اتنا نہیں ہوتا لیکن غریب کی کمر ضرور جھک جاتی ہے، اس لئے کہ جب وہ ان تمام رسومات کی طرف نگاہ دوڑاتا ہے تو  ایک طرف اسکی معاشی حالت اسے اس کام کی اجازت نہیں دیتی اور دوسری طرف لوگوں کے بول کا ڈر اسے ایک غیر ضروری بلکہ ناجائز عمل کرنے پر اکساتا بھی ہے۔ مثلا شادی بیاہ کے موقع پر بہت سی ایسی رسومات جو ہندوؤں کی تھیں آج ہمارے اکثر مسلمانوں نے انکو ایک لازمی جز کے طور پر پکڑ رکھا ہے، اگر کسی موقع پر انکو کوئی خدا بندہ اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ان رسومات سے منع کرے تو جواب میں یہ الفاظ سننے کو ملتے ہیں کہ اگر فلاں رسم نہ کی گئی تو لوگ کیا کہیں گے۔ ۔ ؟اور ان ہی رسومات کی ادائی میں لوگ لاکھوں روپے صرف اس خوف سے خرچ کر ڈالتے ہیں کہ کہیں لوگ کچھ کہہ نہ ڈالیں۔ ایک صاحب حج یا عمرہ کرنے جا رہے ہیں اور جتنا خرچہ حج و عمرہ پر آتا ہے اس سے زیادہ کا بندوبست کرتے ہیں۔ اگر کوئی پوچھ بیٹھے کہ باقی رقم کا کیا کیا جائے گا حج و عمرہ تو اس سے کم رقم میں آسانی سے ادا ہو جاتا ہے۔ تو جواب میں یہ الفاظ سننے پڑتے ہیں کہ واپسی پر کچھ سامان لایا جائے گا، جو کھجور، جائے نماز، کنگن اور دیگر چیزوں پر مشتمل ہوگا جو ان حضرات کی خدمت میں پیش کیا جائے گا جو حاجی صاحب کو مبارک باد کہنے آئیں گے۔ تو کوئی خدا بندہ یہ پوچھنے کی ہمت کر لے کہ کیا اگر مبارک باد دینے والوں کو یہ سامان نہ دیا جائےاور مناسب تواضع کر کے رخصت کر دیا جائے تو آپکے حج کے ثواب میں کوئی کمی آجائے گی۔ ۔ ؟تو حاجی صاحب فرماتے ہیں نہیں، نہیں بلکہ اس ڈر سے دیا جاتا ہیکہ اگر نہ دیا تو لوگ کیا کہیں گے۔ ۔ ؟

اسی طرح دیگرمعاملات میں بھی لوگوں کے کچھ کہنے کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ قوم کا معمار جب اپنی تہذیب کو پس پشت ڈال کر مغربی تہذیب کی پشت پناہی کرنے لگتا ہے، تو جب اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکی توجہ اسکی اپنی تہذیب  کی تعمیر و ترقی کی طرف دلائی جائے تو اسکے بڑے بھی جو خود کو روشن خیال تصور کرتے ہیں اسکی راہ میں اس بات کا سہارا لے کر رکاوٹ پیدا کرتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ ۔ ؟ کوئی  ایسا انسان جو مستقبل کا ایک اچھا شاہسوار قلم بننے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہو اور اپنے قلم کو پہلی دفعہ ہاتھوں میں تھامےاور پھر اچانک اس خوف سے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ ۔ ؟ قلم کی نوک توڑ ڈالے، تو اس سے قوم ایک اچھے مصنف سے محروم ہو جاتی ہے۔ کوئی کلی کھلنے کے قریب ہوتی ہے اور اپنی خوشبو سے فضا کو معطر کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے اور وہ بھی اس ڈر سے مرجھا جاتی ہیکہ لوگ کیا کہیں گے۔ ۔ ؟ جس سے قوم ایک پر امن فضا پیدا کرنے والی شخصیت سے محروم ہو جاتی ہے۔ ایک چراغ روشن ہوتا ہے اور تاریکی میں آفتاب بننے کا اراداہ رکھتا ہے لیکن وہ پھر اچانک اس خوف سےگل ہوجاتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ ۔ ۔ ؟ تو اس طرح قوم ایک اچھے عالم سے محروم ہو جاتی ہے۔ 

برادران محترم۔ ۔ !

آخر کب تک ہم ہر کام میں لوگوں کے بول کی طرف دیکھتے رہیں گے۔ ۔ ؟اس دنیا میں ایسا کون سا انسان گزرا ہے جو لوگوں کے بول سے اپنے آپ کو بچا سکا ہو۔ ۔ ؟ خدا کے بعد جو عظیم ہستی گزری ہے اس پر بھی بول بولے گئے، مزاق اڑایا گیا۔ لیکن اپنے مقصد سے ایک قدم پیچھے ہٹنا گوارا نہیں کیا اور پھر جہاں والوں نے دیکھا کہ استقامت کی ایسی مثال قائم ہوئی گویا کہ بلند وبالا اورمضبوط چٹانیں بھی قدموں میں گرنے کے لئے تیار ہوگئیں۔ اور رہی بات لوگوں اور برادری کی تو اگر ان پر جاں بھی فدا کر دی جائے تو طرز فدا میں بھی نقص نکالیں گے۔ تواگر ہم ان کی ناراضگی و رضا مندی کو ایک سائیڈ پر رکھ لیں، اور دلبرداشتہ ہو کر اس اچھے کام کو ترک کرنے کے بجائے اپنے کام سے کام رکھیں اور اس میں خدا کی رضامندی و ناراضگی کی فکرکریں تو پھر ہمیں اس بات کا بخوبی احساس ہوگا کہ ہمارے کتنے ہی ایسے کام ہیں جو صرف لوگوں کے بول اور ان کو ہر صورت راضی رکھنے کے چکروں میں مشکل ہو چکے ہیں حالانکہ حقیقت میں نہیں۔ اور اس جملے(لوگ کیا کہیں گے۔ ۔ ؟)کا خوف ذہن سے نکال کر کوئی کام استقامت سے سر انجام دیں۔ اور لوگوں کی عادت ہے وہ کچھ نہ کچھ کہتے رہیں گے۔ ایک دن کہیں گے، دوسرے دن کہیں گے آہستہ آہستہ خود ہی بھول جائیں گے۔ لیکن اگر ہم یہ خیال رکھتے ہیں کہ ہم تب تک کچھ نہیں کریں گے جب تک کہ لوگ کچھ کہنا ترک نہیں کر دیتے تو ایں خیال است ومحال است و جنوں۔