/ کالمز / احسن اقبال / خدا کے کرشمے

خدا کے کرشمے

جب میرا رب کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ان لوگوں کے مکر وفریب کو بھی اپنے کام کے تمام ہو جانے کا سبب بناتا دیتا ہے جو اس کے کام میں خود کو خدا سمجھ کر دخل اندازی کرتا ہے۔ پھر پورے عالم پر یہ بات روز روشن کی طرح ظاہر کر دیتا ہے کہ میرے علاوہ کارساز کوئی اور نہیں، نہ تھا اور نہ ہو سکتا ہے۔ گزشتہ جمعہ نیوزی لینڈ کیے شہر کرائسٹ چرچ میں واقع جامعہ مسجد النور میں دہشت پسند لوگوں نے دنیا کے مذاہب کو آپس کی جنگ میں دھکیلنے کی ایک ناکام سازش کرتے ہوئے ایک وحشی (جو کہ انسانی روپ میں ظاہر ہوا )کے ہاتھ میں اپنے سہارے پر بندوق تھما دی، جس نے پچاس کے قریب قریب جانوں کو شہادت کے پروانے تھما دیے۔ اور ایک رپورٹ کے مطابق اس شخص کے اسلحہ پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین ہونے والی جنگوں کی تاریخیں بھی درج تھیں۔ اس سارے ڈرامے کا مقصد صرف اور صرف مذاہب عالم کو آپس کی جنگ میں لگا کر خود تماشا دیکھنے کا خواب آنکھوں میں سجائے یہ لوگ اس لمحہ کے منتظر بیٹھے تھے کہ کب کس مقام سے اس آگ کا شعلہ اٹھے گا اور ہم اس پر تیل چھڑکنے کا کا سر انجا م دیں گے۔ لیکن پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ وہ ڈرامہ جس مقصد کے لئے رچایا گیا وہ سو فیصد الٹ ہوا کہ بجائے نفرت کے اس نے ایک مذہب کے لوگوں کو دوسرے مذہب کی تعظیم میں کھڑا ہونے پر مجبور کر دیا۔ ان کی خواہش تھی کے مساجد پر اس طرح کا حملہ ہونے سے لوگ اسلام سے ڈر جائیں گے اور خدا کے گھر ویران ہو جائیں گے، لیکن آج پوری دنیا نے دیکھا کہ اس جمعہ میں مسجد النور میں آنے ولوں کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ پہلے جمعہ میں صرف مسلمان آئے تھے، لکن آج تو دیگر مذاہب کے لوگ بھی ہاتھ باندھے تعظیم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم اپنے لباس کو اسلامی تہذیب میں بدل ڈالتی ہیں، پارلیمنٹ کا اجلاس السلام علیکم سے شروع کرتی ہیں، متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتی نظر آتی ہیں، اور آج جمعہ کے دن نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈرن نے بعد از نماز جمعہ اپنے خطاب کا آغاز ہی آپﷺ کی حدیث مبارکہ سے کیا جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا جو ایمان رکھتے ہیں، ان کی باہمی رحم دلی، ہمدردی اوراحساس ایک جسم کی مانند ہوتا ہے، اگرجسم کے کسی ایک حصے کو بھی تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ اور اپنے اس خطاب کے بعد انہوں نے اسلام اور مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب ایک ہیں۔ یہ تواوپر کے درجے کی بات ہے اور یقینا اس کی ہی بدولت نچلے طبقے کے لوگ بھی ہمیں شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے نظر آئے۔ اور صحافی رپورٹر بھی حجاب پہن کر اسلام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
لیکن دوسری طرف اس ڈرامہ کو رچانے والوں کی تمام امیدوں پر پانی پھر گیا۔ انہیں اپنے ان تمام ہتکنڈوں کے باوجود بھی امن کی فضا معطر نظر آئی جو ان کی ایک بہت بڑی ناکامی ہے۔ اس قسم کے درندہ صفت انسانوں کی سب سے بڑی خواہش امن کو ٹھیس پہنچانا ہوتا ہے اس لئے چاہے وہ کسی بھی ملک میں ہوں ان کی پیداوار کا منبع ایک ہی قسم کی ذہنیت ہوتی ہے۔ اسی طرح جب ان لوگوں کو ملک پاکستان میں بھی امن کے پھول کھلتے نظر آئے تو وہ اس امن کے باغ کو کھلتا نہیں دیکھ سکتے تھے اس لئے وہ باغی بن گئے اور اس جمعہ کو پاکستان میں امن کے حامی لوگوں پر حملہ آور ہو گئے۔ مفتی تقی عثمانی صاحب جو ایک معروف و مشہور شخصیت ہیں، جامعہ دارالعلوم کراچی کے نائب صدر، سابق چیف جسٹس، ایک امن پسند شخصیت، علم کا سمندر، تقوی کا پیکر، فقاہت کا بادشاہ، غیروں کو زیر کرنے والا، ایک دلیر اور پارسا انسان جس کا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں، کسی گروہ کی پیداوار نہیں، اسلام اور پاکستان کا دفاع کرنے ولا، ان جیسی پر امن شخصیت پر حملہ ہو جاتا ہے، نماز جمعہ کے بعد اس حملے کی خبر سننے کو ملی جس میں دو افراد زخمی اور ان کے سکیوڑتی گارڈ اور ڈرائیور کی شہادت ہوئی۔ جو صورت حال بتانے والوں نے بتائی اور رپورٹ کی اور جو ان کی زبانی سننے کو ملا کہ چاروں طرف سے حملہ ہوا لیکن خدا نے بچا لیا۔ یہ تو میرے رب کا ایک کرشمہ تھا کہ مفتی تقی صاحب دامت برکاتہ کی جان بچ گئی۔ اس واقعہ میں بھی اسلام دشمن عناصر کچھ قیمتی جانیں لینے میں کامیاب ہو گئے لیکن جو ان کا اصلی ٹارگٹ تھا خدا نے ان کو اپنی حفاظت میں رکھا۔ لیکن اب حکومت پاکستان سے التماس ہیکہ کہ خدارا ان چراغوں کو جو بجھانے کے در پے ہیں ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے، اور ان عظیم معماروں کی حفاظت کا کوئی معقول بندوبست کیا جائے۔ اللہ سے دعا ہیکہ اللہ تعالی تمام مسلمانوں کی جانن، مال اورعزت حفاظت فرمائیں۔