/ کالمز / احسن اقبال / امیدوار، ووٹر اور ووٹ

امیدوار، ووٹر اور ووٹ

انتخاب کے موسم کی گھٹائیں تیزی سے چھا رہی ہیں۔ آندھی وطوفان سے بڑے بڑے ستون جھکتے نظر آئے ہیں۔ اور گھنے درختوں سے پتے جھڑنے کا سلسلہ بھی کسی سے کم نہ رہا، اور یہ تو سب کو پتہ ہے کہ عام طور پر درخت سےسب سے پہلے وہ ہی پتے گرتے ہیں جو خشک ہوں لیکن بعض دفعہ یہ دستور من کل وجوہ باقی نہیں رہتا اور تیز آندھی سر سبز و شاداب پتوں کو بھی نظر انداز نہیں کرتی۔ اور یہ منظر بھی دیکھا گیا کہ جب کسی ایک درخت سے پتے جھڑتے ہیں تو قریب میں لگے درخت اسکی وقتی پناہ گاہ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن ہوا کے اگلے ہی جھونکے وہ پتے ان درختوں سے بھی اپنا بسیرہ ختم کر کے خاک نشیں ہو جاتےہیں۔ پہلے تو انسان ان کو استعمال ہی نہیں کرتا اور اگر کرتا بھی ہے تو کہیں آگ جلانے کی خاطر۔ اوراگر انسان کے ہاتھوں بچ جائے تو اسکے بعد یا تو وہ پیروں کے تلووں سے روندھے جاتے ہیں۔ یا پھر کسی جانور کی خوراک بنتے نظر آتے ہیں۔ 

اور گرد و غبار بھی ایسا ہے کہ مطلع صاف دکھائی نہیں دے رہا۔ اگر رہبر ان حالات میں اپنے قافلے کے مسافروں کو انکی منزل مقصود تک پہنچانے کی کوشش کرے تو اسکی راہ میں لاتعداد رکاوٹیں نظر آتی ہیں۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ھیکہ تیز بارش کے موسم میں گاڑی کے سامنے والا شیشہ دھندلا جا تا ہے۔ باہر کی طرف بارش شیشہ کی شفافیت کو نشانہ بناتی ہے اور اندر کی جانب سے انسان کا اپنا نظام تنفس۔ رہی بات پانی کے ریلے کی تو پانی کا ریلا ویسے تو اپنا رستہ خود ہی متعین کرتا ہے لیکن یہ منظر بھی دیکھنے کو ملا کہ اکثر انسان اپنے فوائد کی خاطر پانی کو کوئی بھی ہتھکنڈہ استعمال کر کے اسکو اسکی راہ سے پھیر کر اپنی فصل کو لگادیتا ہے۔ جسکے فوائد تو اپنی جگہ لیکن اگر وہ بپھر جائےتو تباہی کا منظر پیش کرتا ہے۔ اگرچہ قلم کسی اور چیز کی طرف توجہ دلانے کے لیے اٹھایا لیکن اس دفعہ پاکستان میں انتخاب کے موسم کی مناسبت آندھی و طوفان سے کچھ زیادہ دکھائی دی تو اسکا بھی ذکر مناسب سمجھا۔ عقلمند را اشارہ کافی است۔  غرض یہ کہ انتخابات کا موسم کیا تبدیلی لاسکتا ہے اس معاملے میں محکمہ انتخاب بھی شش وپنج کا شکار ہے۔ 

لیکن جو بھی ہو، جیسا بھی ہو، حالات کتنے ہی پیچیدہ کیوں نہ ہوں۔ حالات کے قدموں میں قلندر نہیں گرتا۔ باشعور لوگ ایسے حالات میں بھی کوئی نہ کوئی رستہ نکالنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر ہم بھی ان لوگوں کا ساتھ دینا چاہتے ہیں تو ہمیں چند باتوں پر بڑی سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا۔ جن کا تذکرہ " اسلام اور سیاست" نامی کتاب میں کیا گیا لیکن اکابر کے طرز تحریر کا انداز تو ایک اپنی تاثیر کا حامل ہوتا ہے۔ جس کو    اگر مختصر امت کے سامنے ذکر کیا جائے تو مناسب ہوگا۔ شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات۔ 

سب سے پہلے یہ کہ ہمارے حلقے کا امیدوار کون ہے اور کیسا ہے۔ اسکی سرگرمیاں کیا تھی اور کیا ہیں۔ اسلیے کہ جو شخص امیدوار ہے وہ اپنی قوم کے سامنے دو چیزوں کا دعوےدار ہے، ایک یہ کہ وہ اس چیز کی قابلیت رکھتا ہے جس کی خاطر اسنے اپنے آپ کو انتخاب کے لیے قوم کے سامنے پیش کیا۔ اور دوسرا یہ کہ وہ اس کام کو دیانت داری سے سر انجام بھی دے گا۔ لیکن اگر وہ اس ذمہ داری کا اھل نہیں ہے تو قوم کا خائن ہو گا۔ اس لیے جو شخص کسی ممبری کے امیدوار کی حیثیت سے خود کو قوم کے سامنے پیش کرتا ہے تو پہلے اپنے گریبان میں جھانکے، کیونکہ اب اس پر صرف اپنے اھل وعیال ہی کی ذمہ داری نہیں رہی اب وہ اس حلقے میں مقیم ہر فرد کا ذمہ دار ہے اسکی تکلیف، اسکی ضرورت، اسکی راحت ہرچیز کا اسکو خیال رکھنا پڑے گا۔ اور بصورت دیگر وہ قوم اور خدا کا مجرم کہلائے گا۔ اور بروز محشر اس سے اس ذمہ داری کے متعلق سوال ہوگا۔ 

اسی طرح ووٹر جب کسی امیدوار کو ووٹ دیتا ہے تو وہ محض ایک پرچی نہیں ہوتی جس پر ایک ٹھپہ لگا دینے سےہماری ووٹ ڈالنے کی ذمہ داری مکمل ہوجائے گی۔ بلکہ اکابر نے لکھا ہے ہیکہ اس ووٹ کی قراۤن و حدیث کی روشنی میں تین حیثیتیں ہیں۔ 

ایک حیثیت گواہی کی ہے یعنی کہ ووٹر اس امیدوار کی قابلیت اوردیانت کی گواہی دیتا ہے۔ لیکن اگر ووٹر یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ شخص نالائق ہے، پھر اسکو ووٹ دیتا ہے تو یہ جھوٹی گواہی شمار ہوگی۔ جو ایک کبیرہ گناہ ہےکیونکہ آپﷺ نے جھوٹی گواہی کو شرک جیسے کبائر میں شامل کیا ہے۔ اور اگر یہ جانتے ہوئے کہ یہ آدمی اھل ہے اور اسکا نظریہ بھی اچھا ہے اسکو ووٹ نہ دینا سچی شہادت کو چھپانا ہے جو از روئے قرآن حرام ہے۔ 

دوسری حیثیت ووٹ کی سفارش کی سی ہے۔ اور قرآن میں ارشاد ہیکہ"جو شخص اچھی سفارش کرتا ہے تو اسمیں اسکا بھی حصہ ہوتا ہے، اور بری سفارش کرتا ہے تو اسکی برائی میں بھی اسکا حصہ ہوتا ہے"۔ تو اس اعتبار سے ہمارے ووٹ سے منتخب ہونے والے والے افراد اگلے پانچ سال میں جوبھی کار نامہ سرانجام دیں گے تو اس میں ووٹر کا حصہ ہوگا اگر اچھا کام کیا تو اسکا اجر اور غلط کام کیا تو اس پر پکڑ بھی ہو گی۔ اب ہم میں سے کون ایسا شخص ہے جو اچھی اور بری سفارش کو نہیں سمجھتا۔ اچھی سفارش یہ ہیکہ کہ ہم نیک، ایماندار، صالح اور ذمہ دار شخص کو اپنا ووٹ دیں اور ظالم، فاسق، خائن و غدار کو اپنا ووٹ نہ دیں۔ 

اور ووٹ کی تیسری حیثیت وکالت ہے۔ یعنی کہ جب ہم اپنا ووٹ کسی امیدوار کو دیتے ہیں تو ہم اسکو اس حلقے کے تمام حقوق کی ادائیگی کا وکیل بناتے ہیں، لیکن یاد رہے یہ وکالت صرف ووٹرکے ذاتی حق تک محدود نہیں ہے بلکہ اس وکالت میں اس حلقے کے تماف افراد کے حقوق بھی شامل ہیں۔ اب اگر اسنے کسی نالائق کو وکیل بنایا تو گویا اسنے اپنے حلقے کے تمام افراد کے حقوق کو تلف کیا جسکے گناہ کا وبال اسپر ہوگا۔ 

خلاصہ یہ کہ ہمارا ووٹ تین حیثیتوں کا حامل ہے۔ اب ہم اپنا ووٹ کس کو دیں تو اس میں ایک چیز غور طلب ہے کہ ایک نام نہاد سیاستدان ہوتے ہیں، جن کا مشن صرف دنیاوی ترقی کے خواب دکھانا ہے۔ اور ایک حقیقی معنوں میں سیا ستدان ہوتے ہیں جو کسی قوم کی دینی اور دنیاوی دونوں قسم کے مسائل کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اگر ہم فقط اپنی دنیاوی غرض کی خاطر کسی فرد کو اسکی اہلیت کے بغیر ووٹ دیتے ہیں تو یہ رشوت کے زمرے میں آئےگا۔ اور اس رشوت کا رجحان بہت بڑھ چکا ہے۔ لہذا ان انتخابا ت میں کسی حقیقی سیاستدان کے حق میں اپنا ووٹ ڈالیں۔ اوراپنے باشعور ہونے کا ثبوت دے کر ملک پاکستان کو فتح سے ہمکنار کریں۔