اتوار, 08 دسمبر 2019
/ کالمز / علی اصغر / آزمائش یا سزا؟

آزمائش یا سزا؟

ہم سب کے بچپن میں ایک جیسی روٹین ہوا کرتی تھی، سکول سے واپس آکر کھانا کھانے کے فوراً بعد ہمیں قریبی مسجد میں قرآن پاک کی تعلیم کے لئے بھیج دیا جاتا، واپس آکر کرکٹ اور رات کو ہوم ورک کرکے جلدی سلا دیا جاتا، موبائل، انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کا وجود نا تھا، دیہات میں رہنے والے لوگ رات آٹھ بجے والا ڈرامہ اور نو والی خبریں بہت ہی شوق سے دیکھا کرتے تھے، اس وقت لوگوں کی زندگیاں بہت پرسکون ہوا کرتی تھیں، جیسے جیسے وسائل میں اضافہ ہوتا گیا ویسے ویسے معاشرے اور گھروں میں بے چینی بڑھتی گئی، شاید ہی کوئی شخص اب ایسا ہو جو پرسکون نیند سوتا ہو۔ نماز کی ادائیگی اور قرآن کی تلاوت کے باوجود نا پریشانیوں سے چھٹکارا نا ہی روحانی و جسمانی بیماریوں سے نجات۔ امیر نیند کی گولی کھا کر سوتا ہے اور غریب زہر کی گولی کھانے کا سوچتا ہے۔

بچپن میں ہم جب بھی گاوں چھٹیاں گزارنے جاتے تو اپنے ماموں اور خالہ زاد بھائیوں کے ساتھ ملکر ایک ہی پسندیدہ مشغلہ ہوا کرتا تھا کہ دوپہر کو کھجور سے تازہ پکی ہوئی میٹھی کھجوریں اتارتے تھے، کچھ لڑکے پتھراکھٹے کرتے اور ہم میں سے نشانے بازی میں ماہر لڑکا ان پتھروں کو کھجور پہ نشانہ لگا کر پکی ہوئی کھجوروں پہ مارتا جس سے پکی ہوئی کھجوریں زمین پہ گرجاتیں ہم بھاگ بھاگ کر اپنی جھولیاں بھرلیتے اور پھر مزے لے لے کھاتے۔ اسی طرح بیری کے درخت سے بیر بھی وہ اتارتے جو پک چکے ہوتے تھے، کچی کھجوریں ہوں یا کچےبیر ان کو بچے بھی کھانا پسند نہیں کرتے۔

صوفی پنجابی شاعر میاں محمد بخش صاحب کے ایک شعر کا ترجمہ ہے کہ جس بیری پہ بیر پک جاتے ہیں تو پھر پتھر بھی اسی کو لگتے ہیں، اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو انسان اللہ کے جتنا قریب ہوتا ہے اس پہ دنیاوی مصائب اور آزمائشیں بھی زیادہ آتی ہیں، جو جتنا رب تعالیٰ کا پیارا ہوگا اللہ پاک اس کو آزمائے گا بھی زیادہ، دنیا میں پتھر اسی کو لگتے ہیں جو اپنے عشق میں سچا ہوتا ہے۔

کل دورانِ سفر ایک فیس بک دوست کا پیغام موصول ہوا کہ میں نماز کا پابندہوں ہر قسم کے گناہ سے اجتناب کرتا ہوں مگر میری زندگی میں سکون نہیں بے چینی رہتی ہے اور پریشانیاں پیچھا نہیں چھوڑتیں میں ایسا کیا کروں کہ سکون مل جائے، یہ سوال صرف اس دوست کی طرف سے نہیں تھا بلکہ یہ ہم سب کا ہی سوال ہے، ہم سب اسی مسئلہ کا شکار ہیں۔

ہمارے اندر کی یہ بے چینیاں ہماری اپنی پیدا کی ہوئی ہیں، جیسے جیسے انسان کی نفسانی خواہشات بڑھتی جاتی ہیں ویسے ویسے ذہنی و قلبی سکون رخصت ہونے لگتا ہے، یہ انسان کی فطرت ہے کہ جو حاصل ہے اس کی قدر نہیں کرتا اور جو لاحاصل یا حاصل کرنا مشکل ہے اس کی چاہ میں رہتا ہے پھر جب وہ حاصل ہوجائے تو نئے کی تلاش میں نکل پڑتا ہے، حاصل پہ صبر و شکر کرلیا جائے تو رب سائیں سکونِ قلب بھی عطاء کرتا ہے مزید بھی نوازتا ہے، ہماری روزی بھی پاک نہیں کہیں نا کہیں سے حرام شامل ہوہی جاتا ہے اور پھر جب حرام ہمارے شکم میں جا کر خون میں شامل ہوتا ہے تو سکون کیسا؟ قرار کیسا؟ حرام سے کبھی بھی اطمینان نہیں مل پاتا۔ دوسروں کی زندگی میں سُکھ دیکھ کر ہم حاسد ہوجاتے ہیں پھر اس جیسی زندگی بناتے بناتے اپنی موجودہ زندگی بھی تباہ کر بیٹھتے ہیں۔

اب اگر زندگی میں پریشانیاں، اضطرابی اور مصائب ہیں تو اس کی دو ہی وجوہات ہوسکتی ہیں، یا تو ہم اپنے سچے رب کے اتنے قریب ہوچکے ہیں کہ وہ ہمیں آزمائشوں میں ڈال کر ہم سے اپنی محبت کا امتحان لے رہا ہے یا پھر ہم اللہ سائیں سے اتنا دور ہوچکے ہیں کہ اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اس کی یاد تک بھُلا بیٹھے ہیں اور پھر اللہ نے بھی ہمیں بھلا دیا ہے۔

امیر المومنین حضرت علیؑ سے کسی نے سوال کیا کہ ہمیں کیسے پتہ چلے ہم پہ آئی مصیبت آزمائش ہے یا سزا تو آپ نے فرمایا جو مصیبت انسان کو خدا کے قریب کردے وہ آزمائش اور جو خدا سے دور کردے وہ سزا۔

اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں آزمائش والی صف میں یا سزا یافتہ مجرموں میں۔