اتوار, 08 دسمبر 2019
/ اسلامک / علی اصغر / مومنِ قُریش (2)

مومنِ قُریش (2)

جدہ سے ایک قدیمی راستہ ہے جو مختلف چھوٹے چھوٹے گاوں سے نکلتا ہوا مکہ مکرمہ جا نکلتا ہے، ان سے گزرتے ہوئے آپ کو عرب کے قدیمی کلچر کی جھلک ہر جگہ نظر آئے گی، ایسا لگتا ہے آج بھی قریش کے سردار جسے زمانہ سید البطحاء کہتا ہے، کی یہ رعایا ہے اور ان سب پہ آج بھی اس سردارؑ کا رعب و دبدبہ باقی ہے اسی طرح آپ اگر مکہ مکرمہ کے اندرونی قدیمی محلہ جات میں جائیں تو پرانی بوسیدہ دیواریں، بڑے بڑے حویلی نما گھر دیکھنے کو ملتے ہیں، کسی کسی جگہ بلند قدیمی مکان بھی نظر آتے ہیں، ان گلیوں سے اگر آپ مغرب کے بعد گزریں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ قریش کا سردار ابھی آپ کے پاس سے گزرا جس کے اردگرد اس کے بیٹے ہوں گے پیچھے پیچھے خدام کی لمبی قطار ہے، پرسکون اور تاریک گلی میں ایک عجیب سا سکون ہے، تاریخ کے بکاو راویوں نے حضرت ابو طالبؑ کے ایمان پہ جھوٹ لکھ کر اپنے ایمان کا تو سودا کرلیا مگر ابوطالبؑ کی شان میں رتی برابر بھی کمی نا کرسکے، ہر زندہ ضمیر رکھنے والے کا سید و سردار ابو طالبؑ ہی ہیں۔

حضرت ابوطالب کے متعلق تین نام مشہور تھے جو کہ ابو طالب، عبد مناف اور عمران ہیں لیکن سب سے زیادہ مشہور نام ابوطالب ہی حالانکہ یہ کنیت تھی لیکن یہ نام کی حیثیت اختیار کر گیا، جناب ابو طالبؑ کے بہت سے القابات بھی ہیں، عرب کے مشہور شاعر تابط شرا سے جب پوچھا گیا کہ تمہاری نظر میں عرب کا سردار کون ہے تو اس نے کہا بے شک سید العرب سیدنا ابوطالبؑ ہیں۔ آپؑ کو مومنِ قریش، شیخِ قریش، رئیس مکہ اور سید البطحا بھی کہا جاتا ہے۔ حضرت ابوطالبؑ ایک باکمال شاعر کے علاوہ حلیم، بردبار، دانا سیاست دان اور بہترین سردار تھے، اکثم بن صیف سے پوچھا گیا کہ تم نے حکمتیں، سرداری، بردباری اور حلم کہاں سے لی تو اس نے جواب دیا میں نے یہ سب کچھ عبدالمطلب کے بیٹے ابوطالب سے سیکھا ہے۔

آپؑ انتہائی حسین و جمیل، قدآور شخصیت کے مالک تھے آپ میں قدرتی طور پہ بادشاہوں جیسی شان و شوکت اور دانشمندی پائی جاتی تھی۔ اہل مکہ ان کو شیخ کہہ کرپکارا کرتے تھے آپ کی عظمت و جلالت سے اتنے خائف تھے کہ جب تک آپؑ زندہ رہے کسی کی جرآت نا تھی کہ وہ آقا کریم حضرت محمدؐ کو اذیت پہنچانے کی جسارت کرتا۔ آپ کا نسب تاریخ کی کتب میں یوں ملتا ہے کہ آپ ابوطالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بم غالب بن فہربن مالک بن النضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزاربن معد بن عدنان سے تھے۔

ولادت کے وقت آپ کا نام عمران یا عبد مناف رکھا گیا تھا جب حضرت ابو طالبؑ کے ہاں بڑے بیٹے کی ولادت ہوئی تو اسی کی مناسبت سے آپؑ کی کنیت ابوطالب ہوگئی۔

امام علیؑ نے جب قرآن کریم کی تکمیل کی تو آخر میں یہ الفاظ تحریر کئیے:- اس قرآن کو علی ابن ابی طالبؑ نے تحریر کیا ہے۔

جو لوگ حضرت ابو طالبؑ کے ایمان پہ انگلی اٹھاتے ہیں ان کو اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے روز محشر وہ رب کی بارگاہ میں کس منہ سے جائیں گے؟ کیا ایسے لوگوں کو سورہ الضحیٰ کی آیت نمبر 6 کی تلاوت کرتے ہوئے بھی شرم نہیں آتی؟