Thursday, 17 October 2019
/ کالمز / علی اصغر / وقتی کردار

وقتی کردار

ویسے تو مجھے سٹیج ڈرامے پسند نہیں کیونکہ اب سٹیج ڈراموں میں شرم و حیاء بالکل ہی ختم ہوچکی ہے پہلے لوگ سٹیج ڈرامے تفریح کے لئے دیکھتے تھے لیکن اب اتنی بیہودہ جگت بازی ہوتی ہے کہ بندہ اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتا، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس گھٹن زدہ ماحول میں لوگوں کے چہروں پہ جو کچھ ہنسی باقی ہے وہ انہی مزاحیہ اداکاروں کے مرہونِ منت ہے۔  
ان مزاحیہ ڈراموں میں ناصر چنیوٹی کو بادشاہ کا رول ملا ہوتا ہے اور زیادہ تر افتخار ٹھاکر کو فقیر کا، اور اسی طرح ناصر چنیوٹی مریض بنا ہوتا ہے اور نسیم وکی ڈاکٹر، کبھی ظفری پولیس افسر اور کبھی مجرم کا کردار ادا کرتا ہے۔ چونکہ یہ پروفیشنل مزاحیہ اداکار ہیں تو ان کو جو بھی رول ملے اس میں رہ کر بھی یہ ایسا ایسا مزاق کر جاتے ہیں کہ انسان قہقہ مارے بنا نہیں رہ سکتا۔ سامنے بیٹھے شائقین بھی تالیاں اور شور مچا کر داد دینے پہ مجبورہوجاتے ہیں، اگر کسی کو بادشاہ کا رول ملا ہے تو اس پہ وہ کوئی غرور و تکبر نہیں کرتا کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ یہ رول مجھے وقتی طور پہ ملا ہے اور ڈرامے کے بعد اس کی کوئی حیثیت نا ہوگی، اسی طرح اگر کوئی فقیر بنا ہوا ہے تو بالکل غمگین نہیں ہوتا اسے بھی پتہ ہوتا ہے یہ فقیری چند منٹوں کی ہے اس کے بعد وہی عام زندگی،  یہ لوگ بھی ہماری طرح اسی معاشرے کا حصہ ہیں انکی زندگیوں میں بھی ویسے ہی دُکھ سُکھ ہوتے ہیں جیسے ہمارے ساتھ ہیں، لیکن جب یہ ڈرامے کے سٹیج پہ کوئی بھی کردار ادا کر رہے ہوں تو انکے چہرہ پہ آپکو کبھی بھی کوئی پریشانی عیاں ہوتی نظر نا آئے گی کیونکہ انکو پتہ ہے اگر وہ اپنا کردار اچھی طرح سے نا نبھا پائے تو عوام میں انکی مقبولیت کم ہوجائے گی اور پھر شائد چند عرصہ بعد انکو کوئی بھی ڈائریکٹر ڈرامے میں لینے سے انکار کر دے۔  
بطور انسان ہم اکثر سوچنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں کہ خدا نے یہ کیسی تقسیم کی ہے کہ کسی کو اپنی دولت کے انبار کا بھی پتہ نہیں اور کوئی سڑک کنارے بھوکا مر رہا ہے، کسی کے گھر اولاد کی قطاریں اور کوئی ایک بیٹی کے لئے ترس رہا ہے، کوئی صحت مند تو کوئی بسترِ بیماری سے اٹھ نہیں پاتا، کوئی نالائق ہوکر بھی بڑی کرسی پہ براجمان ہے اور جس نے پڑھائی میں ٹاپ کیا وہ ہوٹل پہ ویٹر کی نوکری کرنے پہ مجبور۔  
 دنیا بھی ایک طرح کا ڈرامہ ہے اور ہم سب اس کے سٹیج پہ کھڑے ہوکر اپنا اپنا کردار نبھا رہے ہیں۔ اگر ہم امیر ترین ہیں تو بھی یہ خدا کی طرف سے کردار ملا ہے جو ہم نے نبھانا ہے، اگر غریب ہیں تو بھی یہ وقتی کردار ہے جو ہم نے ہر حال میں ادا کرنا ہے، غرضیکہ ہمیں جو بھی کردار ملا ہے اسکو اچھے طریقے سے نبھانا ہوگا ہر حال میں چہرہ پہ خوشی رکھنا ضروری ہے اور ہر سانس کے ساتھ ہمارے اس ڈرامے کے ڈائریکٹر اللہ جلہ جلالہ کا شکر ادا کرنا ہوگا، کیونکہ دنیاوی ڈرامے میں تو عام عوام سامنے بیٹھ کر ہمارے کردار کو جج کررہی ہوتی ہے جب کہ اس سٹیج کے سامنے ہمارا خالق کائینات ہے جو ہمارا ہر لمحہ جج کر رہا ہے، اس ڈرامے میں وہی کامیاب و کامران ہوگا جس نے اپنا کردار اچھے طریقے سے نبھایا ہوگا۔  
آپ دنیا کے کسی بھی شعبہ میں ہیں، یہ سب کردار وقتی ہیں اور جلد ہی ختم ہونے والے ہیں، اپنے کردار پہ نا تکبر کریں نا ہی پشیمان ہوں کیونکہ سدا بادشاہی تو رب العالمین کی ہے۔