/ کالمز / آصف علی / تہوار یا خوشی

تہوار یا خوشی

عمومی طور پر عید کی رسموں میں مسلمانوں کا آپس میں "عید مبارک" کہنا اور گرم جوشی سے ایک دوسرے سے نہ صرف ملنا بلکہ مرد حضرات کا آپس میں بغل گیر ہونا، رشتہ داروں اور دوستوں کی آؤ بھگت کرنا شامل ہیں۔ علاوہ ازیں بڑے بوڑھے بچے اور جوان نت نئے کپڑے زیب تن کرتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں، ایک دوسرے کی دعوت کرتے ہیں، مختلف قسم کے کھانے پکائے جاتے ہیں اور جگہ جگہ میلے ٹھیلے منعقد ہوتے ہیں۔
عید کی نماز کا وقت سورج کے ایک نیزہ کے برابر بلند ہونے سے ضحوہ کبریٰ تک ہے۔ ضحوہ کبریٰ کا صبح صادق سے غروب آفتاب تک کے کل وقت کا نصف پورا ہونے پر آغاز ہوتا ہے۔ ہر نماز کے ادا کرنے سے پہلے اذان کا دیا جانا اور اقامت کہنا ضروری ہے مگر عید کی نماز کو اذان اور اقامت سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے جبکہ اس نماز کی صرف دو رکعات ہوتی ہیں؛ پہلی رکعت میں ثناء کے بعد اور دوسری رکعت میں قرآت سورت کے بعد ہاتھ اٹھا کر تین تین زائد تکبیریں مسنون ہیں۔ عیدالفطر کی نماز کے موقع پر خطبہ عید کے علاوہ بنی نوع انسانیت کی بھلائی اور عالم اسلام کے لیے خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں جس میں اللہ تعالٰی سے کوتاہیوں اور گناہوں کی معافی مانگی جاتی ہے۔ اللہ تعالٰی سے اس کی مدد اور رحمت مانگی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں خطبہ عید میں عید الفطر سے متعلق مذہبی ذمہ داریوں کی تلقین کی جاتی ہے جیسے فطرانہ کی ادائیگی وغیرہ۔ اس کے بعد دعا کے اختتام پر اکثر لوگ اپنے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے مسلمان بھائیوں کو عید مبارک کہتا ہوا بغل گیر ہو جاتا ہے۔ نماز کی ادائیگی کے بعد لوگ اپنے رشتہ داروں؛ دوستوں اور جان پہچان کے تمام لوگوں کی طرف ملاقات کی غرض سے جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ زیارت القبور کی خاطر قبرستان کی طرف جاتے ہیں۔
نماز عید کے لئیے کچھ مخصوص شرائط جو صدقہ فطر کے نام سے موسوم ہیں۔
صدقہ فطر واجب ہے۔ صدقہ فطر نمازِ عید سے پہلے ادا کرنا چاہیے ورنہ عام صدقہ شمار ہو گا۔
صدقہ فطر ہر صاحب نصاب مسلمان مرد، عورت، آزاد، عاقل، بالغ پر واجب ہے۔
صدقہ فطر دو 2 کلوگرام گندم، ساڑھے تین (500۔3) کلو گرام جو، کھجور یا کشمش میں سے جو چیز زیر استعمال ہو، وہی دینی چاہیے یا ان کی جو قیمت بنتی ہے۔
عید کا دن تمام عالم اسلام کے مسلمانوں کے لئیے اخوت بھائی چارے اور محبت کا ایک ایسا پیغام ہےجس کی مثال نہیں ملتی۔ مسلم دنیا کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے مسلم اور نان مسلم افراد کے لئیے ایک بامثال موقع ہے۔
تاریخ کے اوراق میں عید کوحوالے سے ہجرت مدینہ منورہ سے پہلے یثرب کے لوگ دو عیدیں مناتے تھے، جن میں وہ لہو و لعب میں مشغول ہوتے اور بے راہ روی کے مرتکب ہوتے۔ خالص اسلامی فکر اور دینی مزاج کے مطابق اسلامی تمدن، معاشرت اور اِجتماعی زندگی کا آغاز ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں ہوا، چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی مدنی زندگی کے ابتدائی دور میں عیدین کا مبارک سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس کا تذکرہ سنن ابی داؤد کی حدیث میں ملتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل مدینہ دو دن بہ طور تہوار منایا کرتے تھے جن میں وہ کھیل تماشے کیا کرتے تھے، رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے دریافت کیا فرمایا : یہ دو دن جو تم مناتے ہو، ان کی حقیقت اور حیثیت کیا ہے؟ ( یعنی اب تہواروں کی اصلیت اور تاریخی پس منظر کیا ہے؟)انہوں نے عرض کیا کہ ہم عہد جاہلیت میں (یعنی اسلام سے پہلے) یہ تہوار اسی طرح منایا کرتے تھے۔ یہ سن کر رسول مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالٰی نے تمہارے ان دونوں تہواروں کے بدلے میں تمہارے لیے ان سے بہتر دو دن مقرر فرما دیے ہیں، یوم (عید) الاضحٰی اور یوم (عید) الفطر۔ غالباً وہ تہوار جو اہل مدینہ اسلام سے پہلے عہد جاہلیت میں عید کے طور پر منایا کرتے تھے وہ نوروز اور مہرجان کے ایام تھے، مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ تہوار منانے سے منع فرما دیا اور فرمایا اللہ تعالٰی نے ان کے بدلے میں اپنے خصوصی انعام و اکرام کے طور پر عید الفطر اور عید الاضحٰی کے مبارک ایام مسلمانوں کو عطا فرمائے ہیں۔
رسول اللہ صلی علیہ و آلہ و سلم کے ارشاد کے مطابق؛ جب مسلمانوں کی عید یعنی عید الفطر کا دن آتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر فرماتا ہے، اے میرے فرشتو! اس مزدور کی کیا جزاء ہے جو اپنا کام مکمل کر دے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: اس کی جزاء یہ ہے کہ اس کو پورا اجر و ثواب عطا کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے فرشتو! میرے بندوں اور باندیوں نے اپنا فرض ادا کیا پھر وہ (نماز عید کی صورت میں) دعا کے لیے چلاتے ہوئے نکل آئے ہیں، مجھے میری عزت و جلال، میرے کرم اور میرے بلند مرتبہ کی قسم! میں اِن کی دعاؤں کو ضرو ر قبول کروں گا۔ پھر فرماتا ہے: بندو! تم گھروں کو لوٹ جاﺅ میں نے تمہیں بخش دیا اور تمہارے گناہوں کو نیکیوں میں بد ل دیا۔ نبی پاک صلی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: پھر وہ بندے (عید کی نماز سے) لوٹتے ہیں حالانکہ ان کے گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں۔
قرآن مجید میں سورہ ء المائدہ کی آیت 114 میں حضرت عیسی علیہ السلام کی ایک دعا کے حوالے سے عید کا ذکر موجود ہے :ارشاد باری تعالٰی ہے: عیسی ابن مریم نے عرض کیا کہ اے اللہ! ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار دے (اور اس طرح اس کے اترنے کا دن) ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے (بہ طور) عید (یادگار) قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو بہترین رزق عطا فرمانے والا ہے۔ (5:114) اس سے اگلی آیت میں ارشاد ہے: اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ میں یہ (خوان) تم پر اتار تو دیتا ہوں، مگر اس کے بعد جو کفر کرے تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو سارے جہانوں میں اور کسی کہ نہ دیا ہو۔ کسی قوم کی خوشی اور مسرت کے دن کا قرآن نے عید کے عنوان سے ذکر کیا ہے اور جو دن کسی قوم کے لیے اللہ تعالٰی کی کسی خصوصی نعمت کے نزول کا دن ہو وہ اس دن کو اپنا یوم عید کہہ سکتی ہے۔
آج پوری دنیا میں مسلمان بڑی دھوم دھام سے عید الفطر کا تہوار مناتے ہیں جہاں خوشی منانے کے ساتھ ساتھ اسلامی اخلاقی اقدار کی پاسداری بھی کی جاتی ہے۔ جبکہ اقوام عالم امت مسلمہ کے اس تہوار کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان میں جو ایک اسلامی نظریاتی مملکت ہے؛ عید بڑے شاندار طریقے سے منائی جاتی ہے۔ سرکاری طور پر عام تعطیل ہوتی ہے۔ بچہ ہو یا بڑا؛ عید کی تیاری میں جوش و خروش کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ خواتین اور بچوں کی تیاری تو قابل دید ہے۔ عید کی تیاری میں نت نئے لباس و دیگر لوازمات کی شاپنگ دیکھنے کو آتی ہے جو ایک زندہ قوم کی روح رواں کے طور پر سامنے آتی ہے۔
کیا ہم عید اور دیگر خوشی میں فرق کر سکتے ہیں؟ یہاں پر ایک بات قابل غور ہے کے عام خوشی جو کسی خاص موقع کی نسبت سے حاصل ہوتی ہے یا کوئی ایسی رسم و رواج جس میں دوست احباب اور مہمانانِ عظام کی شرکت یقینی بنائی جاتی ہے اور ایک دوسرے میں خوشیاں بانٹی جاتی ہیں، اور عید بھی ان تمامی احباب میں خوشی کی وہ لہر دوڑا رہی ہوتی ہے جس سے والدین کا بچوں کے ساتھ دوست احباب کا اپنے دوستوں کے ساتھ اور دیگر رشتہ داروں کا آپس میں گہرا تعلق قائم و دائم رکھنے میں معاون ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ مالک بے نیاز سے بےشمار اجر و ثواب موصول ہونے کا ایک خاص موقع ہوتا ہے۔