1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. آصف علی/
  4. ضمانت

ضمانت

آدم کے کسی روپ کی تحقیر مت کرنا

خدا پھرتا ہے زمانے میں بھیس بدل کر

آج جب میں نے کچھ لکھنےکا ارادہ کیا، جب تھوڑی ہی دیر گزری میں اپنی کتاب کے چند صفحات لکھ چکا تھا تو دروازے پر ایک سوالی نے دستک دی۔ اور اس کے دستک دینے سے پہلے بہت سریلی آواز میں نعت پڑھی جا رہی تھی جو میرے کانوں میں رس گھولے جا رہی تھی۔ میرا جی چاہ رہا تھا کہ نعت سنتا رہوں اور دل کو سکون میسر آئے۔ ساتھ ہی جب میں نے دروازے کی طرف دیکھا وہ فقیر جو سائل بن کر دروازے پے دستک دے رہا تھا بڑے خوبصورت انداز سے سرکارﷺ کی تعریف بھی کر رہا تھا۔ جس طرح ہر سوالی اللہ کے نام پہ سوال کرتا ہے اور اپنی آرزو پوری کرتا ہے۔ اپنا خالی پیٹ بھرتا اور دیگر ضروریات بھی پوری کرتا ہے۔

میں نے اس کو اندر آ جانے کا اشارہ کیا تو اس کے ساتھ ہی اس نے نعت جو اونچی آواز میں پڑھ رہا تھا بند کردی۔ میں نے اس سے خوش مزاجی اور انتہائی شفت سے بیٹھنے کے لئے کہا تو وہ نیچے بیٹھنے لگا، اس کے نیچے بیٹھنے کی کوشش کے ساتھ ہی میں نے اس کے بازو سے پکڑ لیا اور کہا جناب آپ کرسی پر بیٹھو۔ یہ کس لیے ہے۔؟

میرا اس کے جسم پہ ہاتھ لگانا محظ ایک اتفاق تھا کہ اسے کرسی پر بیٹھانا تھا لیکن کی تھا کہ اس کے جسم سے جیسے آگ نکل رہی ہو، بہت تیز بخار کے ساتھ وہ در در صدا لگا رہا تھا۔ میں نے اس سے کہا آپ کے تو بہت تیز بخار ہے۔ لیکن آپ پھر بھی اتنی مشقت کر رہے ہیں۔ آپ نے کوئی دوا نہیں کھائی اس کے لیئے تاکہ ٹھیک ہو سکو۔ میرا اتنا کہنا تھاکہ اس کی آنکھوں سے آنسووں کا سمندر بہنے لگا۔ کہتا ہے صاحب جی میرے پاس گولی کھانے کے لیے بھی پیسے نہیں تھے۔ اور میرے تین بچے پچھلے دو دن سے بھوکے کھانے کو ترس رہے ہیں۔ کیا کرتا در در صدا کرنا میری مجبوری ٹھہری۔ میرے تپتے جسم سے بچوں کے آنسو زیادہ قیمتی ہیں جو میں دیکھ نہ سکا تو ان کی خاطر نکل پڑا۔ میں اس کی بات سن رہا تھا اور ساتھ ساتھ آنکھوں میں پانی بھر آیا جو موتیوں کی صورت میں باہر آ رہا تھا۔

میں نے اسے کہا آپ بیٹھو میں جناب کے لئیے کھانا لے کر آتا ہو۔ تو وہ فوراً کہنے لگا نہیں صاحب جی آپ مجھے دے دو میں اپنے بچوں کے لئے لے جاتا ہوں۔ میں نے اس کو بے فکر ہو کر کھانے کی تسلی دی کے آپ کے لئے بھی لاتا ہوں اور بچوں کے لئے بھی دیتا ہوں وہ بھی آپ خوشی سے ساتھ لے جاو۔ اس کے کھانا کھانے کے بعد ایک گلاس دودھ اوربخار کی دوا میں نے پیش کی۔ اس کے بعد اس نے اوپر آسمان کی طرف دیکھا تو اور زور سے رونے لگا۔ میرے دل کو کچھ ہورہا تھا کہ یہ اب کیوں رو رہا ہے۔ لیکن اس کا شکرانہ تھا جو اپنے مالک سے کررہا تھا۔ اس کی آنکھ کے آنسو اس بات کی ضمانت تھے کے وہ خدا تعالیٰ کی بارگاہ عالیہ میں شکریہ ادا کرتے ہوئے ناچیز کی سفارش کرتا ہے۔ کہ یا باری تعالیٰ اپنی خاص رحمت سے نواز دے اپنے اس بندے کو۔ لیکن اس کے جانے کے بعد بھی میری آنکھیں خشک ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ اور ایک عجب سی تسلی دل کو مل رہی تھی۔ کیا کہ الفاظ میں بیاں کرنا درکنار وہ مخصوص لمحات ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے قدرتی ہاتھ دل پہ دھرا ہو اور سکون ایسا کہ بادشاہ کہ نرم بستر پر بھی نہ مل سکے۔

دو دن پہلے میں ایک واقع پڑھا تھا جس سے میں بہت متاثر ہوا۔ جو میں آپ کی نظر کرنا چاہتا ہو۔

ایک مردِ صالح روایت کرتے ہیں، میں ایک مسجد میں نماز ادا کرنے گیا۔ وہاں ایک عابد اور ایک تاجر پہلے سے موجود تھے۔ عابد دُعا کر رہا تھا:

"باری تعالیٰ! آج میں ایسا ایسا کھانا اور اس قِسم کا حلوہ کھانا چاہتا ہوں۔"

تاجر نے سُنا تو کہا: " اگر یہ مجھ سے کہتا تو میں اسے ضرور کِھلاتا۔ مگر یہ تو بہانہ سازی کر رہا ہے۔ مجھے سُنا کر اللہ سے دُعا کر رہا ہے تاکہ میں سُن کر اسے کِھلاؤں۔ بخدا! میں تو اسے نہیں کِھلاؤں گا۔"

عابد دُعا سے فارغ ہو کر مسجد کے ایک گوشہ میں سو رہے۔ کچھ دیر بعد ایک شخص ہاتھ میں سرپوش (خوان پر ڈالنے کا کپڑا) سے ڈھکا ہُوا خوان لے آیا، چاروں طرف نِگاہ دوڑا کر عابد کے پاس گیا اور اسے جگایا اور دسترخوان عابد کے روبرو رکھ کر دُور ہٹ گیا۔ تاجر نے دیکھا تو اس میں وہ تمام کھانے موجود تھے عابد جن کے لیے دُعا کر چُکا تھے۔ عابد نے خواہش کے مطابق تناول فرمایا اور بقیہ واپس کر دیا۔ تاجر نے کھانا لانے والے شخص سے خدا کا واسطہ دے کر پوچھا: " کیا تم انہیں پہلے سے جانتے ہو؟ "

اس شخص نے کہا: "بخدا! ہرگِز نہیں، میں ایک مزدور ہوں میری بیوی اور بیٹی سال بھر سے ان کھانوں کی خواہش رکھتی تھیں مگر مہیّا نہیں ہو پاتے تھے۔ آج میں نے ایک شخص کی مزدوری کی تو اس نے مجھے ایک مثقال سونا دیا، میں نے اس سے گوشت وغیرہ خریدا اور میری بیوی کھانا پکانے لگی۔ اتنے میں میری آنکھ جو لگی تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا، فرمایا! آج تمہارے علاقہ میں ایک ولی آیا ہُوا ہے اس کا قیام مسجد میں ہے جو کھانے تم نے اپنے بال بچوں کے لیے تیار کرائے ہیں ان کھانوں کا اسے بھی شوق ہے اس کے پاس لے جا۔ وہ اپنی اِشتِہا (کھانے پینے کی خواہش) کے مطابق کھا کر واپس کر دے گا۔ بقیہ میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا اور میں تیرے لیے جنّت کی ضمانت دیتا ہوں۔ خواب سے اُٹھ کر میں نے حُکم کی تعمیل کی۔"

تاجر نے کہا: "میں نے اس شخص کو اللہ تعالیٰ سے انہی کھانوں کے لیے دُعا کرتے سُنا تھا، تُو نے ان کھانوں پر کتنا پیسہ لگایا۔"

مزدور نے کہا: "مثقال بھر سونا۔"

تاجر نے کہا: " کیا یہ ہو سکتا ہے کہ تُو مُجھ سے دس مثقال سونا قبول کر کے اپنے اس عملِ خیر میں سے مجھے ایک قیراط کا حِصّہ دار بنالے؟"

مزدور نے کہا: "یہ نامُمکن ہے۔"

تاجر نے کہا: " اچھا میں اتنے کے لیے تجھے بیس مثقال سونا دیتا ہوں۔"

مزدور نے پِھر بھی اِنکار کِیا۔ تاجر نے سونے کی مقدار بیس سے بڑھا کر پچاس اور سو مثقال تک پہنچائی تو مزدور نے کہا: "واللہ! جس شے کی ضمانت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی ہے اگر تُو اس کے بدلے ساری دُنیا کی دولت دے دے پِھر بھی میں اسے فروخت نہیں کروں گا۔"

تاجر اپنی اس غفلت پر نہایت نادم ہو کر حیران و پریشان مسجد سے نِکل گیا۔ گویا اس نے اپنی کوئی متاع گراں بہا گُم کر دی ہو۔

مالک کے بندے ہر روپ میں پھرتے ہیں ہر دوسرا آدمی خود سے افضل جاننا میری اولیں ترجیح ہے۔ کیا پتا وہ بندہ بارگاہِ ربوبیت میں کتنا مقبول ہو گا۔ دوسرامالک کے دیئے ہوئے عطا کئے ہوئے رزق سے اس کے بندے کو دیتے ہیں تو کیا اس سے فرق پڑتا ہے۔؟ نہیں بالکل بھی نہیں۔ یقیناًً برکت ہوتی ہے اور رزق میں وسعت ہوتی ہے۔