Thursday, 17 October 2019
/ کالمز / آصف علی / بے روزگاری

بے روزگاری

بے روزگاری تقریباً تمام ممالک کا مسئلہ بنی ہوئی ہے ہر معیشت میں کسی نہ کسی طور پر بیروزگاری کے حالات پائے جاتے ہیں بیروزگاری کے مسئلے نے زیادہ شدید صورت اس وقت اختیار کی جب 1930 میں عالمی اقتصادی بحران کی وجہ سے پوری دنیا بے روزگاری کا شکار ہوئی، ان دنوں امریکہ میں کروڑوں آدمی بے روزگار ہو گئے اس طرح پوری دنیا تقریبا بے روزگاری اور مفلسی کے جال میں پھنس چکی تھی۔

بیروزگاری بنیادی طور پر بہت بڑا مسئلہ ہے جس کا سامنا ہر اس مزدور کو کرنا پڑھتا ہے جس کے پاس ہنر اور قابلیت (سکل) تو ہے لیکن اس کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں جہاں وہ اس قابلیت کا استعمال کر سکے۔ اگر سادہ اور مختصر الفاظ میں بے روز گاری کی تعریف کرنا چاہوں تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ہر وہ شخص جس کے پاس قابلیت اور ڈگری ہونے اور نوکری کرنے کی پھرپور خواہش ہونے کے باوجود وہ کام کرنے میں ناکامی کا سامنا کر رہے ہوں بے روزگار کہلائیں گے۔ یا تعلیم و ہنر کے حامل افراد جن کے پاس ایسا کوئی پلیٹ فارم میسر نہیں ہوتا جس کو استعمال کرتے ہوئے اپنی روزمرہ کی ضروریات زندگی پوری کر سکیں، اور یقیناً قابلیت کے حامل افراد کو پلیٹ فارم دستیاب کرنا ہی بڑا مسئلہ ہے۔ جس کی وجہ حکومت کی ناکام پالیسیاں، اور سرمایہ کاروں کو خسارے کا خوف اور منافع کا لالچ بھی ہے۔

بے روزگاری مختلف نوعیت کی ہو سکتی ہے، ایک بات تو طے ہے کہ وسائل نہ ہونا اور پلیٹ فارم کا نہ ملنا بے روزگاری کے بنیادی ذرائع میں شامل ہے، بے روزگاری کی پہلی قسم ہیت یا ساخت بے روزگاری ہے۔ یہ بے روزگاری کی ایسی قسم ہے جس میں ملکی ساخت میں تبدیلی کی بنا پر دیکھنے کو ملتی ہے، ملکی آبادی میں اضافہ اور دوممالک یا ریاستوں کا آپس میں اکھٹا ہونے سے آبادی کا اچانک اضافہ اور صنعتی اور تجارتی کام محدود ہونے پر ہیتی اور ساختی بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑھتا ہے۔ جیسا کہ چائینہ اور ہانگ کانگ دو ایسے ممالک تھے جن کے ایک ہونے پر بے روزگاری کا رجحان کافی بڑھ گیا تھا، چائنہ کی ساخت میں تبدیلی سے اس کے وسائل میں جو تبدیلیاں رونما ہوئیں ان کو مجموعی طور پر ہیتی بے روز گاری کہا جائے گا۔

بے روزگاری کی دوسری قسم میں رخنائی (غیر منقولہ)بے روزگاری شامل ہے۔ یہ ایسی بے روزگاری جو حادثاتی طور پرپیش آتی ہے اسے رخنائی بے روزگاری کا نام دیا جاتا ہے۔ اس قسم کی بے روزگاری میں ایسے مزدور شامل ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر کام کر رہے ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک مزدور کام پرتو جاتا ہے لیکن متعلقہ سامان کی عدم دستیابی یا افسران بالا کا موجود نہ ہونا اس کی چھٹی کا سبب بنتا ہے، جس کے نتیجہ میں اس کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑھتا ہے۔ یا پھر ملکی صورتحال میں اونچ نیچ کے سبب پیدا ہونے والے حالات کے تحت جن حالات کا سامنا کرنا پڑھتا ہے، جیسا کہ حالات حاضرہ میں دیکھا جائے کہ میر پور آزاد کشمیر میں زلزلہ کےمتاثرین افراد بے روزگاری کا شکار ہیں، سرکاری و غیر سرکاری ادارے بند ہوئے، دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی زندگی مفلوج ہو کے رہ گئی ان کے تمام ذرائع روزگار بندہونے کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ رہاہے۔ اچانک جنگی حالات نافذ ہونے یا حادثاتی طور پر پیش آنے والی بے روزگاری کو رخنائی بے روزگاری کہاجاتا ہے۔

دوری یا موسمی بے روزگاری بھی بے روزگاری کی تیسری قسم میں شامل کی جاتی ہے، اس میں ایسی بیروزگاری شامل ہے جو چلتے ہوئے موسم کے تحت آتی ہے، موسم کے لحاظ سے چلنے والے کارخانے، شوگر ملز، آئس کریم اور برف کے کارخانے شامل ہیں، جیسا کہ عام طور پر شوگر ملز اور دیگر کارخانوں میں کام کرنے والے افراد سیزن آنے پر کافی خوشحال اور مصروف نظر آتے ہیں لیکن جوں ہی سیزن اپنے اختتام کو پہنچتا ہے کنڑیکٹ کی بنیاد پر بھرتی کیے گئے ملازمین کو گھر بھیج دیا جاتا ہے اور دوسری طرف ٹریکٹر و ریڑھا مالکان بھی اس خسارےمیں شامل ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ تمام افراد متاثر ہوتے ہیں جو ان کارخانوں سے کسی لحاظ سے بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ بے روزگاری کی اس قسم کو اگر اور وسعت میں دیکھا جائے تو سالانہ چھُٹیاں جن میں عید الالضحٰی عیدقربان، محرم الحرام، ہولی، دیوالی، کرسمس ڈے اور دیگر مذہبی اور غیر مذہبی تہوار بھی شامل ہیں۔

بے روزگاری کی چوتھی قسم میں جدید تکنیکی بے روزگاری شامل ہے۔ بعض اوقات صنعتی ترقی بھی بے روزگاری کا موجب بنتی ہے، مثلاً کپڑے کی صنعت میں جب پاور لومز کا استعمال شروع ہوا تو دستی کھڈی کے لاکھوں مزدور بے روزگار ہوئے، یوں موجودہ جدید دور میں آٹومیٹک مشینوں کے استعمال سے بے روزگاری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بظاہر تو ترقی کی راہ پر گامزن ہیں لیکن حقیقی ترقی اس صورت میں ہوسکتی ہے جب بے روزگاری ختم ہو جائے، ہر انسان کو روزگار دستیاب کیا جائے جو اہل ہو، یہاں اہلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک اور بات شامل کرتا چلا جاوں کہ جدید تکنیکی اور ٹکینالوجی سےبھرپور مشینری اور صنعتی اوزار کو چلانے کے لیئے بھی ماہرین کی خدمت درکار ہے، لیکن ہمارا ملک پاکستان اس کارگری میں باقی ممالک سے کافی پیچھے ہے، یوں تو باقی ممالک بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں، امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی اس بیماری کا شکار ہیں، کیونکہ جب ایک جدید ٹیکنالوجی کے حامل مشینیں مارکیٹ میں آتی ہیں تو ان کو چلانے کے لئے ماہرین کی وہ مقدار نہیں ملتی جتنی درکار ہوتی ہے، پھر اس میں زیادہ تر نوجوان نسل پیش پیش ہے جو جدید ترین مشینری چلانے کے حامل ہوتی ہے، لیکن ان افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑھتا ہے جو پہلے سے اس انڈسٹری سے وابستہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کے پاس وہ تکنیک نہیں ہوتی جس کو استعمال کرتے ہوئے وہ مشینوں کو آپریٹ کر سکیں اور اس کو سیکھنے کے لئے ان کے پاس نہ تو ٹائم ہوتاہے اور نہ وسائل اس طرح کافی سارے مزدور، ملازمین بے روزگاری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

پانچویں قسم میں اختیاری بے روزگاری شامل ہے، یہ بے روزگاری کی ایسی قسم ہے جس میں روزگار ہونے کے باوجود بندہ بے روزگاری کا شکار ہو جاتا ہے۔ مثلاًکسی پرائیوٹ فیکڑی کے ملازمین نے اپنی تنخواہ یا کسی مطالبے کو پورا کرنے کے لئے ہڑتال کر رکھی ہو، جس کے تحت فیکڑی میں کام بند ہو جاتا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر آنے والی آمدنی بندہو جاتی ہے۔

غیر اختیاری بے روزگاری چٹھی قسم کی بے روزگاری ہے۔ اگر دیکھا جائے تو غیر اختیاری بے روزگاری سب سے بڑی بے روزگاری ہے جس کا ذکر پہلی چند سطور میں کیا جا چکا ہے۔ اس قسم کی بیروزگاری میں ایسےافراد شامل ہیں جو کام کرنے کی خواہش رکھتے ہوئے بھی کام نہیں کر پاتے، یا پھر ان کو کوئی ایسا پلٹ فارم دستیاب نہیں کیا جاتا جس کے تحت وہ اپنا روزگار کما سکے۔ اپنی کارگردگی ثابت کر سکیں اپنا ہنر دوسروں کے ساتھ بانٹے ہوئے چند پیسے کما کر اپنا پیٹ پالنے کے ساتھ ساتھ روزمرہ کی ضروریات زندگی پوری کر سکیں۔ اس کیٹگری میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو متعلقہ ملازمت جس پر وہ تعینات ہوتے ہیں لیکن ان کی قابلیت اس سےکہیں زیادہ ہوتی ہے۔ مثلاً ایک ایسا آدمی جو انجینئر ہے اور کلرک کی جگہ کام کر رہا ہو، دوسری پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر کسی جگہ پر اسسٹنٹ کی جگہ پر کام کر رہا ہے۔ ایسی بہت سی مثالیں پاکستان میں ملتی ہیں یہ سب ہماری معاشی ناکامی کے سبب پیدا ہوتی ہیں۔

پاکستان خطے میں بیروزگاری کی شرح کے حوالہ سے تیسرے نمبر پر آ گیا، ایران 11.40 فیصد کے ساتھ پہلے جبکہ افغانستان 8.5 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں بے روزگاری کی مجموعی شرح 5.79 فیصد ہے۔ خطے کے دوسرے ممالک میں چین میں بے روزگاری کی شرح 4.60 فیصد، سری لنکا 4.60 فیصد، بنگلہ دیش 4 فیصد جبکہ بھارت میں 3.67 فیصد ہے۔

بنیادی طور پر پاکستا ن ایک زرعی ملک ہے مگر افسوس اس شعبے میں بیس سے پچیس فیصد بے روز گاری جنم لیتی ہے کیونکہ چار ایکڑ زمین پر دو آدمی کام کر تے ہیں۔ یوں بظاہر وہ لوگ کام تو کر تے ہیں مگر بے کار ہیں کیونکہ چار ایکڑ زمین پر دو آدمی بھی کام کر سکتے ہیں جہاں چارآدمی مصروف ہیں یوں دو آدمی مخفی بے روزگاری کا شکار ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی جو کاشتکاری میں استعمال ہورہی ہے مثلاً گندم کاٹنے کے لئیے ہارڈویسٹر اور تھریشر استعمال ہو رہی ہے جس کی وجہ سے لاکھوں افراد بے روزگاری کا شکار ہیں۔

یوں ہنر مند آدمی بھی بے روزگار ی کے چنگل میں پھنس گیا ہے پڑھے لکھے افراد ہاتھوں میں ڈگریاں اُٹھائے سڑکوں پر خاک چھان رہے ہیں مگر رشوت دینے کے لیئے جیب گرم نہیں، سفارش کےلئیے تعلقات نہیں ہوتے، مہنگائی کے دور میں تعلیم اور ہنر بھی قیمتیں مقرر کر دی گئی ہیں۔ پرائیوٹ شعبہ جات میں بھی پہلے رشوت لی جاتی ہے تب جاکر 8000 سے 10000 کی نوکری ہاتھ آتی ہے۔ یہاں بھی تعلیم میں گریڈ دیکھے جا رہے ہوتے ہیں مگر تنخواہ میں 7500 سے 8000 تک واجبات ادا کئیے جانے کے بعد بچتے ہیں اور یوں ایک انمول نعمت ہاتھ آتی ہے۔ اب اس 8000 سے فرد بجلی کا بل 4000 اور گیس کا بل 1500 ادد کرے تو باقی پیسوں سے پورا مہینہ پیٹ کا دوزخ بھرے۔ اس کے باوجود وہ پرائیوٹ ادارے میں کام کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور اس کی وجہ صرف بے روزگاری ہے۔ اگر وہ اس کو بھی خیر آباد کہے تو باقی ضروریات زندگی کیسے پوری کرے گا۔

دوسری طرف سرکاری شعبہ جات ان شعبوں میں نوکری تو ایک عام آدمی کے خواب و خیال سے بھی بالا تر ہے کیوں کہ یہاں سب سے زیادہ رشوت سفارش اور بے ایمانی کام آتی ہے۔ وہ آدمی جس کے پاس سرمایہ ہے اور بڑی سے بڑی سفارش ہو تو نوکری ان کے لئے پہلے ہی مقرر کردہ ہوتی ہے، تنخواہ میں قابلیت کا کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ اس کے بعد برائے نام صرف اخبار میں اشتہار دئیے جاتے ہیں جس سے حکومت اور باقی پرائیویٹ آرگنائزیشن غریب، مفلس و بے روزگار عوام کی جیب سے پیسے اکھٹے کرنے میں سرفہرست ہوتی ہے۔ درخواستیں جمع کرنے کی فیس کے نام پر کروڑوں روپے جمع کیئے جا رہے ہوتے ہیں۔

بے روزگاری کئی معاشرتی برائیوں کو جنم دیتی ہے جو حالات سےگھبرائے ہوئے اور مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آگر غیر قانونی کاموں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ اس لئیے دہشت گردی اور بے راہ روی جنم لیتی ہے شاید اس لئے کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی انسان پیدائشی مجرم نہیں ہوتا بلکہ حالات اور معاشرہ اس کی افزائش کا ذمہ دار ہوتے ہیں۔

یوں تو ہم بے روزگاری اور معذور افراد میں فرق نہیں کر پائیں گے۔ معذور افراد تو ایسے ہیں جن کے پاس ان کے اعضاء ہونے کے باوجود استعمال نہیں کر سکتے، اور کچھ کو خالق کائنات نے ویسے مرحوم رکھا ہو تا ہے۔ اسی طرح ہم لوگ بھی قابلیت اور ڈگریوں کے حامل ان اپاہج لوگوں سے کم نہیں جو کچھ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتے۔