1. ہوم
  2. غزل
  3. شاہد کمال
  4. ہوا کی ڈور میں ٹوٹے ہوے تارے پروتی ہے
Shahid Kamal

ہوا کی ڈور میں ٹوٹے ہوے تارے پروتی ہے

ہوا کی ڈور میں ٹوٹے ہوے تارے پروتی ہے
یہ تنہائی عجب لڑکی ہے سناٹے میں روتی ہے

محبت میں لگا رہتا ہے اندیشہ جدائی کا
کسی کے روٹھ جانے سے کمی محسوس ہوتی ہے

خموشی کی قبا پہنے ہے محو گفتگو کوئی
برہنہ جسم تنہائی مرے پہلو میں سوتی ہے

یہ اس کی آنکھ اپنے آنسووں کے سرخ ریشم سے
نئے کچھ خواب بنتی ہے کوئی سپنا سنجوتی ہے

لہو میں تیرنے لگتا ہے جب وہ چاند سا چہرا
ہوائے درد سینے میں کوئی نیزہ چبھوتی ہے

یہ شہر رفتگاں ہے اب یہاں کوئی نہیں آتا
یہ کس کے پاؤں کی آہٹ مجھے محسوس ہوتی ہے

بریدہ سر پڑا کشہ امید صحرا میں
اداسی خاک پر بیٹھی ہوئی آنچل بھگوتی ہے