1. ہوم
  2. غزل
  3. شائستہ مفتی
  4. اے دل ترے مہمان سے کچھ بھول ہوئی ہے
Shaista Mufti

اے دل ترے مہمان سے کچھ بھول ہوئی ہے

اے دل ترے مہمان سے کچھ بھول ہوئی ہے
اس زلف پریشان سے کچھ بھول ہوئی ہے

اک خواب کہ جچتا نہیں آنکھوں میں ہماری
شاید تری مسکان سے کچھ بھول ہوئی ہے

اس سرد سے موسم میں خزاوں کی ہوا میں
گل رنگ ہیں ارمان سے کچھ بھول ہوئی ہے

رستوں میں خموشی کا بہت شور سنا ہے
اک منزلِ انجان سے کچھ بھول ہوئی ہے

اک عمر کہ تنہائی میں گزری ہے ہماری
ہوتی ہے جو انسان سے کچھ بھول ہوئی ہے

بھولے نہیں بھولے گا ترا طرزِ تخاطب
یہ دل ہے کہ نادان سے کچھ بھول ہوئی ہے