1. ہوم
  2. غزل
  3. شائستہ مفتی
  4. بزم میں آئے ہیں امید کے تارے لے کر
Shaista Mufti

بزم میں آئے ہیں امید کے تارے لے کر

بزم میں آئے ہیں امید کے تارے لے کر
چاکِ دامان و گریبان کے خسارے لے کر

کیسی وحشت ہے کہ سہمے ہوئے لگتے ہیں خیال
بے اماں گزری ہے شب، درد تمھارے لے کر

دل سادہ کہ بہل جاتا ہے ارمانوں سے
شام وعدہ چلی آئی ہے نظارے لے کر

ایک تعبیر کا بھی لمس میسر نہ ہوا
ڈھل گئی عمر تو خوابوں کے سہارے لے کر

کون پاتال سے الفت کے گہر لائے کا
ڈوب جاتے ہیں سمندر بھی کنارے لے کر