1. ہوم
  2. غزل
  3. شائستہ مفتی
  4. دیکھو تو اشکبار ہیں یہ چاک اور چراغ
Shaista Mufti

دیکھو تو اشکبار ہیں یہ چاک اور چراغ

دیکھو تو اشکبار ہیں یہ چاک اور چراغ
بارش میں سوگوار ہیں یہ چاک اور چراغ

تنہائیوں کے کنج میں بیتے سمے کی چاپ
یک گو نہ یادگار ہیں یہ چاک اور چراغ

اس دھند نے تو چھین لی آنکھوں سے روشنی
اشکوں کا کاروبار ہیں یہ چاک اور چراغ

اس چومکھے چراغ کی ہمت کو ہے سلام
امید کا حصار ہیں یہ چاک اور چراغ

چھو کر میں دیکھتی ہوں ہر اک یاد کی کرن
رنگوں سے مشک بار ہیں یہ چاک اور چراغ