1. ہوم
  2. غزل
  3. شائستہ مفتی
  4. گھر لوٹ کے جائیں گے تو پائیں گے اماں بھی
Shaista Mufti

گھر لوٹ کے جائیں گے تو پائیں گے اماں بھی

گھر لوٹ کے جائیں گے تو پائیں گے اماں بھی
آنکھوں کی تھکن کرنے لگی راز عیاں بھی

یوں دل نہ بہاروں سے لگاؤ کہ سنا ہے
رستے میں محبت کے ہے اک عہدِ خزاں بھی

گر تجھ سے الجھتی ہیں نگاہیں تو برا کیا؟
اس دل میں تری چاہ کا رہتا ہے گماں بھی

بدلے ہوئے موسم کو کوئی جا کے بتائے
نظروں کے بدلنے سے بدلتا ہے سماں بھی

بارش میں نہ بہہ جائے مرا کچا گھروندا
بکھرا ہے جو اس بار یہ خوابوں کا نشاں بھی

اب کون وفاؤں کا طلبگار یہاں ہے
اس دل سے ندارد ہے جو احساسِ زیاں بھی