1. ہوم
  2. غزل
  3. شائستہ مفتی
  4. کتنے ارمان سجائے رہا ماں باپ کا گھر
Shaista Mufti

کتنے ارمان سجائے رہا ماں باپ کا گھر

کتنے ارمان سجائے رہا ماں باپ کا گھر
اپنے دامن میں چھپائے رہا ماں باپ کا گھر

وہ گلی اور محلہ میرے بچپن کا سکوں
میرے دکھ درد اٹھائے رہا ماں باپ کا گھر

جب بھی مایوس اندھیروں نے مجھے گھیرلیا
آس کا دیپ جلائے رہا ماں باپ کا گھر

وقت کی تیز ہواؤں نے مٹائے جو نقوش
میری تصویر سجائے رہا ماں باپ کا گھر

کون اب شام کے وعدوں کا بھلا پاس کرے
کان آہٹ پے لگائے رہا ماں باپ کا گھر

آ کے مل بیٹھیں گے اک بار سبھی گھر کے مکیں
کتنی امید بندھائے رہا ماں باپ کا گھر