1. ہوم
  2. غزل
  3. شائستہ مفتی
  4. تمھارا جیون سنوارتے بھی
Shaista Mufti

تمھارا جیون سنوارتے بھی

تمھارا جیون سنوارتے بھی
بحال رہتے جو رابطے بھی

ہم ایسے بے حس نہیں تھے ہر گز
تمھاری یادوں میں جاگتے بھی

کہیں جو امید ہوتی کوئی
دیا جلا کر تلاشتے بھی

تمھارے خوابوں کی جوت جلتی
تمھاری آنکھوں میں جھانکتے بھی

پکارا ہوتا جو تم نے ہم کو
پلٹ کے تم کو پکارتے بھی

جو قرض ہوتا محبتوں میں
تمھاری خاطر اتارتے بھی

بہت اداسی کے جنگلوں میں
کوئی تو رستہ نکالتے بھی

نشان ہوتا جو منزلوں کا
مسافرت کو گزارتے بھی

گلاب رستوں کی چاہتوں میں
خزاں رتوں کو سہارتے بھی