/ کالمز / پیرزادہ شرف عالم / مسکرانا تو سب کو آتا ہے

مسکرانا تو سب کو آتا ہے

میں: اور ...کیسے ہو
وہ: اس سماج میں جیسا ایک سفید پوش
آدمی ہوسکتا ہے ویسا ہی ہوں
میں: آج مزاج کچھ برہم لگتا ہے
وہ: ایسا لگتا ہے لوگ مسکرانا ہی بھول گئے ہیں
تحمل اوربرداشت کا رویہ تو کہیں نظر نہیں آتا
میں: کچھ پتہ تو چلے آخر ہوا کیا ہے
وہ: ہونا کیا ہے، کوئی سیدھے منہ بات ہی نہیں کرتا
کسی دکان پہ چلے جاؤ، کسی پتھارے والے سے کچھ لینا ہو
یہاں تک کے بینکس میں بھی کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھے افراد
اس طرح بات کرتے ہیں جیسے آپ پر احسان کررہے ہوں
میں: بات کیا ہوئی
وہ: ابھی کل ہی کی بات ہے میں نے ایک کراس چیک جمع کروایا
اورصرف اتنا پوچھا کہ بھائی یہ ایک دن میں میرے اکاؤنٹ
میں ٹرانسفر ہوجائے گا۔ تُنک کے جواب دیا نہیں جی کم از کم
چار دن لگیں گے۔ میں نے کہا جناب اب تو سب کچھ
آن لائن ہوگیا ہے ایک ہی شہر کا چیک
اسی دن ٹرانسفر ہوجاتا ہے
میں: توپھر ان بینکر حضرت نے کیا کہا
وہ: کہنے لگے وہیں جمع کرادیں جہاں سے ایک دن میں
ہوجاتا ہے
تم ہی کہوکہ یہ انداز گفتگو کیا ہے
میں: تم صحیح کہہ رہے ہو ہماری کسٹمر سروس بد سے بدتر
ہوتی جارہی ہے۔ خندہ پیشانی سے پیش آنا
مسکرا کر بات کرناتو اب کسی کاؤنٹر پر نظر نہیں آتا
وہ: سیانے کہا کرتے تھے گاہک گھرآئے مہمان کی طرح
ہوتا ہے، وہ اپنے ساتھ اللہ کی رحمت بھی لاتاہے
میں: ویسے دکان داروں کے اس رویے کی ایک وجہ اوربھی ہے
جب سے ان ایئرکنڈیشنڈ شاپنگ مالز اورسپر اسٹورز
کا چلن عام ہوا ہے۔ ان گلی محلے کے دکان داروں
پر بڑ ااثر پڑا ہے۔ شاید ان کا یہ انداز ان کے کاروبار
میں کمی کی وجہ سے مزاج کی جھنجلاہٹ کا نتیجہ ہو
وہ: لیکن میرے دوست ایسے میں تو انہیں زیادہ
خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ ان کا گاہک
سپر اسٹور کے بجائے اسی کے پاس آنے کو ترجیح دے
میں: تم اسے کس نظر سے دیکھتے ہو
وہ: دیکھو معاملہ صرف ان بے چارے پرچون اورکریانہ والوں
کا نہیں ہے۔ میرے خیال سے یہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے
میں: نفسیاتی؟ پھر تم نے گول گول گھماناشروع کردیا
وہ: میری بات تو پوری ہونے دو
دیکھو کاؤنٹر کے دوسری طرف کھڑا کوئی بھی فرد خواہ وہ
مرد ہو یا عورت اس کے ذہن میں یہ بات راسخ ہوتی ہے
کہ ہم تک جو بھی آتا ہے وہ اپنی مجبوری یا ضرورت کے تحت
آتا ہے۔ لہٰذا اس کے لیے کسی گاہک کا مسکر اکر استقبال کرنا
اوراسے اہمیت دینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔
میں: یعنی تم یہ کہنا چاہ رہے ہو کہ کاؤنٹر کی دوسری جانب کھڑافرد
خود کو ہم سے برتر سمجھتا ہے؟
وہ: بالکل ایسا ہی.... جبکہ اصل میں وہ ہماری خدمت پر مامور ہے
اورگاہک کو اہمیت دینا اس کافرض ہے۔ کیوں کہ یہ اس کے
منصب کا تقاضا ہے۔ اور وہ ایساکرکے کسی پر
احسان نہیں، اپنی ذمہ داری پوری کرے گا
میں : تمھاری بات میں وزن تو ہے
مگر آج کے حالات، گھریلو پریشانیاں، معاشی مسائل
اوردیگر کئی عوامل کی وجہ سے مجموعی طور پر دیکھو تو
یہ رویہ کاؤنٹر کے اِس پار یا اُس پار تک محدود نہیں
ہم سب ہی اس صورت حال کاشکا ر ہیں
بقول اجمل سراجؔ
مسکرانا تو سب کو آتاہے
یاں مگر کون مسکراتا ہے