Thursday, 17 October 2019

معافی

امی دیکھا آپ نے یہ ابھی تک سو رہی ہے۔ ۔ 

بیٹا میں سمجھا سمجھا کہ تھک گئی ہوں، کیا کہوں اب۔ ۔ 

لیکن امی اس کا نقصان اس کو ہوگا، آپ دیکھ لینا ایک دن، فرمان نے امی سے کہا۔۔

بیٹا جب شادی ہو جائے گی اور یہ اپنے گھر بیاہ کے چلی جائے گی۔  پھر تو تمہاری جان چھوٹ جائے گی۔

سمینہ نے اپنی خواب آلود آنکھیں ملتے ہوئے سخت غصے کے عالم میں فرمان کو دیکھا جیسے وہ اس کا بھائی نہیں ازل کا دشمن ہے، پر سمینہ منہ سے بولی کچھ نہیں۔۔ سیدھے واش روم جا کر سانس لیا۔ ہاتھ منہ دھویا اور ساتھ ہی ساتھ بڑبڑاتی رہی۔ پتا نہیں بھائی خود کو کیا سمجھتا ہے، آخر میں بھی کام کرتی ہوں، فارغ تو نہیں بیٹھی رہتی۔ شادی ہو لینے دو، ان کو سمجھ آجائے گی۔ بڑبڑاہٹ جاری رہی۔۔۔ 

واش روم سے باہر آکر غصہ کافی حد تک کم ہو چکا تھا، مگر فرمان سے بات نہیں کی اور سیدھے اپنے کمرے میں جا کر دم لیا۔ 

کپڑے چینج کیئے اور ہلکا پھلکا میک اپ کیا، میک اپ کے بغیر بھی بھلا کیا زندگی ہوتی ہے، نہ جانے سمینہ کے دل میں یہ خیال کہاں سے کوندھ آیا، میک اپ کے اختتام تک، آج ہونے والی جھڑپ کی حدّت کافی حد تک معدوم ہو چکی تھی۔ 

سمینہ جیسے ہی کمرے سے باہر آئی، ایک سڑا ہوا جملہ گویا اس ہی کا انتظار کر رہا تھا، میک اپ کرنے کا وقت ہے کام کرنے کا وقت نہیں۔ ۔ فرمان بڑبڑایا۔ 

امی دیکھ لو فرمان کو، کام کوئی فرشتے تو آکر نہیں کرتے، صبح سے شام تک صفائی کرتے کرتے تھک جاتے ہیں۔ ویسے فرمان بھائی آپ کونسا توپ چلاتے ہیں؟ فرمان تلملایا۔ میں بھی کام کرتا ہوں، جتنی دیر میں تم میک اپ کرنے میں وقت لگاتی ہو میں اپنا کام ختم کرچکا ہوتا ہوں۔ ۔ 

امی جی روٹی پکائی ہے؟ سمینہ نے پوچھا۔ 

ہاں ہاں، اب نواب زادی کو روٹی بھی پکا کے دو، میں پکا دوں، فرمان نے جملہ چُست کیا۔ 

مہربانی، میں خود پکا سکتی ہوں۔ تو پکا لو، ہمارے لئے بھی پکا دینا۔ 

کیوں جی، خود پکاو اور خود کھاو۔ یہ کہتے ہی سمینہ نے کچن کی راہ لی۔ 

امی روضے تمام ہونے والے ہیں اور آج 19 روضے گزر گئے ہیں، نئے سوٹ کب لے کے دینے ہیں۔ ۔ 

ابھی آخری جملہ منہ میں تھا کہ فرمان کمرے میں داخل ہوا، جی جی لے دو سوٹ، وہ جو بڑے بھائی کی شادی پہ کپڑے لئے تھے انہیں تو ابھی  دو ماہ بھی نہیں ہوئے، فرمان نے دلیل دی۔ 

وہ سب نے دیکھ لئے ہیں، اس لئے وہ عید پہ نہیں پہنے جا سکتے۔ کیوں جی؟ فرمان نے سوال کیا۔ 

تمہیں نہیں دیکھا سب نے شادی پہ، تمہیں بھی نہ بدل دیں؟

امی یہ سب دیکھ رہی تھیں، دونوں کی لڑائی میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اچھا اچھا لے دوں گی نئے کپڑے بھی۔ ۔ 

سمینہ نے بات بنتے دیکھی تو ساتھ ہی نئے سینڈل کی فرمائش داغ دی۔ ماں کے دل میں نہ جانے کیا چل رہا تھا، بیٹی کو نہ نہ کہہ سکی۔ 

لے دو، سینڈل بھی، امی، آپ کا یہ لاڈ اس کو بگاڑ دے گا۔ او پتّر کوئی گل نہیں۔ 

عید کی شام، سمینہ نئے کپڑے پہنے بن سنور کر سہیلیوں کے ہمراہ گپیں ہانک رہی تھی۔ 

دروازے پہ دستک ہوئی، فرمان نے دیکھا اور امی سے کہا، امی شکیلہ آنٹی آئی ہیں۔ 

شکیلہ، فرمان کے ہمسائے میں رہتی تھیں اور اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ شکیلہ اکیلے نہیں بلکہ ساتھ میں ایک اور خاتون تھیں جو شناسا نہیں تھیں۔ 

شکیلہ، آو آو، کیا حال ہے، آو بیٹھو۔ 

سمینہ، آو دیکھو شکیلہ آنٹی آئی ہوئی ہیں۔ السلام علیکم، شکیلہ آنٹی، سمینہ نے چائے کی ٹرے میز پر رکھتے ہوئے سلام کیا۔ 

وعلیکم السلام بیٹا کیسی ہو، شکیلہ نے ساتھ آئی خاتون کو آنکھوں سے اشارہ کیا۔ 

ساتھ آئی خاتون کی آنکھوں میں چمک سی آگئی۔ 

شکیلہ نے ساتھ آئی خاتوں کا تعارف کروایا، یہ باجی فریدہ ہیں، ساتھ والی سوسائٹی میں رہتے ہیں، کافی کھاتے پیتے لوگ ہیں، اپنا گھر ہے، اپنا کاروبار ہے۔ وہ  جو آپ نے رشتے کے لئے کہا تھا، اسی سلسلے میں آئے ہیں۔ ۔ ۔ 

فریدہ نے اپنے خاوند کو قائل کرتے ہوئے کہا کہ بچی والے کافی مالدار ہیں، اپنی بیٹی کو جہیز بہت دیں گے۔ 

فریدہ بیگم، لالچ کرنا اچھی بات نہیں، رشتہ جہاں بھی ہو، ہمیں جہیز نہیں، ایک عدد بیٹی چاہئے۔ 

اوہ ہو، ایک تو آپ بھی نہ، انہوں نے ہمیں نہیں اپنی بیٹی کو جہیز دینا ہے۔ 

آئے گا تو ہمارے ہی گھر نہ، فریدہ بیگم، یہ اچھی بات نہیں، مجھے یہ سب اچھا نہیں لگ رہا۔ 

چلیں آپ چل کہ دیکھ لیں کہ لڑکی کیسی ہے۔ اچھا کل چلیں گے۔ 

فرمان نے نہ چاہتے ہوئے بھی، بازار سے سامان لانے کی حامی بھر لی۔ 

فرمان کی واپسی تک سارے گھر کی صفائی ہو چکی تھی اور گھر چم چم کر رہا تھا۔ 

فرمان نے آتے ہی سمینہ کو دیکھتے ہی جملہ چست کیا کہ خیر ہے، شادی کی اتنی جلدی، سارا گھر چم چم کر رہا ہے۔ 

فضول باتیں نہ کرو، یہ بتاو سارا سامان مل گیا ہے؟ نہیں، کیک پیس نہیں ملے، فرمان نے جان بوجھ کر جھوٹ بولا۔ وہ تو ضروری تھا، اس کے بغیر تو دعوت ادھوری ادھوری رہے گی۔ جاو ابھی لے کر آو۔ امی دیکھ رہی ہو آپ، ہمارے لئے تو کبھی اتنا اہتمام نہیں ہوا، ابھی رشتہ ہوا نہیں اور یہ حال ہے۔ 

مہمان آئے اور اپنے استقبال سے کافی خوش ہوئے۔ 

توقعات سے بہت جلد رشتہ طے پا گیا، آنے والے چند دنوں میں سگن بھی ہوگئے۔ اب باری تھی مہندی اور بارات کی۔ 

نہ جانے فرمان کیوں چپ چپ سا رہنے لگا۔ بھائی میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ کافی دنوں سے چپ چپ ہو، کیا ہوا؟

کچھ نہیں بس ایسے ہی، فرمان آنکھیں چراتے ہوئے بڑبڑایا۔ 

بھائی آپ رو رہے ہو، نہیں تو، فرمان نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔ 

سمینہ بہت خوش تھی، نیا گھر، نیا گھرانا، نئے لوگ۔ 

گھر والے فیشن ایبل تھے اور سمینہ کو بھی فیشن کرنے کا کہا جاتا، سمینہ کی تو جیسے عید ہو گئی۔ 

سب کچھ بہتر تھا، صرف ایک مشکل تھی کہ کافی دن ہو چکے تھے، سمینہ اپنے میکے نہ جاسکی۔ مصرفیت اتنی ہوتی کہ کچھ ہوش ہی نہ آتی۔ ۔ ۔ 

امی، آج کتنے دن ہوگئے ہیں، سمینہ نہیں آئی؟

اچھا، تمہیں تو شکر کرنا چاہئے، ماں نے فرمان کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ 

ماں کا سوال کرنا تھا کہ فرمان کی آنکھوں سے جیسے جھڑی سی لگ گئی ہو۔ ماں کے گلے سے لگ کے فرمان بے ساختہ ہچکیاں لے لے کہ رونے لگا۔ امی مجھے معاف کردیں۔ میں نے سمینہ کے ساتھ بڑی زیادتیاں کی ہیں۔ 

پتّر، اب تو سمینہ اپنے گھر چلی گئی ہے، اب انکے سسرال چاہے ملنے دیں یا نہ۔ امی ایسا کیوں، ہم نے بہن بیاہی ہے، بیچی نہیں، فرمان جذباتی ہو گیا۔ ہمارا حق ختم تو نہیں ہو گیا۔ 

اگلے دن سمینہ چند لمحوں کے لئے اپنے میکے آئی، آنکھیں بتا رہی تھیں کہ سب ٹھیک نہیں ہے۔ 

ماں سے بیٹی کی آنکھیں پوشیدہ نہیں تھیں۔ لیکن ماں بولی کچھ نہیں۔ 

فرمان بھی بہت کچھ پوچھنا چاہ رہا تھا مگر نہ پوچھ پایا، ابھی کچھ کہنے ہی والا تھا کہ سمینہ اپنے خاوند کے اشارے پر اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

کہاں چلے، کچھ کھا تو لیں، نہیں امی ایک ضروری کام ہے، انہیں، سمینہ نے خاوند کی طرف اشارہ کیا۔ 

وہ دن اور یہ دن سمینہ اپنے میکے نہیں آپائی۔ 

یہ بات فرمان کو کھا گئی، اس سب کا سزاوار فرمان خود کو سمجھتا رہا۔  فرمان خود نہیں جانتا تھا کہ وہ سمینہ سے بہ ظاہر لڑتا رہتا تھا، لیکن درحقیقت وہ اپنی بہن کو بے انتہا پیار کرتا تھا۔ لیکن ساری زندگی کبھی اس کا اظہار  نہیں کر پایا۔ فرمان سوچا کرتا کہ شاید سمینہ ساری زندگی میرے پاس رہے گی۔ اسے پھر بتا دوں گا۔ لیکن وہ یہ اظہار کبھی  نہ کر پایا۔

یہ سب سوچتے سوچتے فرمان ذہنی مریض بن گیا۔ 

بیماری اتنی بڑھی کہ فرمان ہر وقت بڑبڑاتا رہتا، معافی، معافی، معافی۔ ۔ ۔ 

آخر ایک دن فرمان کو معافی مل گئی جب بہ رضاء الٰہی، فرمان اس دنیا سے چلا گیا۔ 

سمینہ اس وقت آئی جب فرمان کو لحد میں اتارا جا رہا تھا۔ 

یوں تو   فرمان کی زبان پہ سکوت طاری تھا، مگر  اس کا انگ انگ گویا معافی، معافی  پکار رہا تھا، سمینہ   خاموش نگاہوں سے معافی کی طلب گار تھی،  لحد میں اترتے خاموش نگاہوں سے سمینہ کی نگاہیں معافی، معافی، معافی پکار رہیں تھیں۔ ۔ ۔ ۔ 

سید تنزیل اشفاق

سید تنزیل اشفاق، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل، سافٹ ویئر انجینیر ہیں۔ اردو، اسلامی، سماجی ادب پڑھنا اور اپنے محسوسات کو صفحہ قرطاس پہ منتقل کرنا پسند کرتے ہیں۔