Thursday, 17 October 2019
/ افسانہ / سید تنزیل اشفاق / بھاگ بھری۔۔

بھاگ بھری۔۔

ماں جی آپ کا کیا نام ہے؟
پتر پتہ نہیں، کیا نام ہے میرا۔۔
کہاں کی رہنے والی ہیں آپ؟
پتر پتہ نہیں۔۔۔
آپ کا کوئی والی وارث؟
پتر پتہ نہیں۔۔
چلیں آپ یہاں آئیں، اس پنکھے کے نیچے بیٹھیں، ویسے بھی گرمی بہت ہے آج۔۔
کرم داد، جی سر۔۔ اماں جی کے لئے ٹھندا پانی لے کر آو۔ جی بہتر۔۔
ٹھنڈے پانی کا پہلا گھونٹ جیسے ہی گلے سے نیچے اُترا، اماں جی کے اوسان بحال ہونا شروع ہوئے۔
اماں جی بھوک لگی ہے؟ اماں جی نے ڈرتے ڈرتے اثبات میں سر ہلایا۔
کرم داد، جی سر، یہ لو پانچ سو روپے اور اماں جی کے لئے بہترین کھانا لے کے آو۔ جی سر۔۔
اماں جی کے سامنے کھانا چُن دیا گیا، لیں اماں جی کھائیں کھانا۔۔
اماں جی کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کہاں سے کھانا شروع کرے، کہ ایسے پکوان قسمت والوں کو ہی نصیب ہوتے ہیں۔
اماں جی نے نان کا پہلا نوالا توڑا اور چکن کڑاہی کی پلیٹ سے تھوڑا سا سالن نوالے کو لگایا اور نوالہ منہ میں دال دیا۔
اماں جی بلا جھجھک کھائیں، آپ نے یہ سارا کھانا کھانا ہے۔
پُتر تو بھی کھا، نئی اماں جی میں نہیں کھاوں گا، صرف آپ کو کھاتے دیکھوں گا۔ کیوں پتر؟ اماں جی میری ماں جی کا چہرہ آپ سے بڑا ملتا ہے، لیکن میری بدقسمتی کہ وہ میرے بچپنے میں ہی گزر گئیں۔ جی بھر کے پیار بھی نہ کرسکا۔ خیر اماں جی آپ یہ بتائیں کہ آپ رہتی کہاں ہیں؟ ایس ایچ او عمران نے پھر پوچھا؟
اماں جی کے ہاتھ میں آخری نوالہ تھا، مگر سوال سن کہ گویا اماں جی پتھرا گئی ہوں۔۔۔۔
☆☆☆☆☆
بھاگ بھری کو شادی کے دس سال بعد اللہ نے بیٹا دیا، گہرے سانولے رنگ کا حامل بچہ جسے شفیق کا نام دیا گیا۔
شفیق ابھی 3 سال کا ہوا کہ اس کے باپ کا انتقال ہو گیا۔ بھاگ بھری سے جیسے بھاگ روٹھ گئے۔
شفیق، پتر، آج سکول نئی گیا؟ میں نئی جانا سکول۔ مجھ سے نئی جایا جاتا۔
ماسٹر روز مارتا ہے، پُتر ماسٹر تیرے بھلے کے لئے ہی مارتا ہے۔
چل، آج میں تجھے خود چھوڑ کے آتی ہوں، پھر میں نے کام پہ بھی جانا ہے۔
بھاگ بھری، شفیق کو سکول چھوڑ کے جیسے ہی وڈیرے کی حویلی پہنچی، چودھرائن، زخمی شیرنی کی طرح بھاگ بھری کی طرف لپکی، تڑاخ، تڑاخ، تڑاخ۔ ۔ ۔ تھپڑوں کی آواز کمرے میں موجود تمام افراد نے سنی۔
آج دیر سے کیوں آئی ہے۔ وہ جی، شفیق، سکو۔۔ ، سکول ابھی ادھورا ہی تھا کہ ایک اور تھپڑ چہرے پہ غربت کے جرم میں ثبت ہوا۔ کرتی ہوں تیرا بندوبست۔
بھاگ بھری، چودھرائن کے قدموں میں گر کے، مافی، مافی چوہدرائن۔ کرم، کرم۔ اچھا، اچھا ٹھیک ہے۔ پر آئندہ دیر نہ ہو۔
جی بی بی جی۔ ۔ ۔
ہماری بھی کیا زندگی ہے، میری ماں بھی ایسے ہی ظلم سہتے سہتے دنیا سے چلی گئی، شاید میری قسمت میں بھی ایسے ہی جانا لکھا ہے۔ بس میرا پُتر شفیق پڑھ لکھ جائے، پھر خیر ہی خیر ہے۔ بھاگ بھری دل ہی دل میں سوچتی رہی۔
شفیق، سکوں سے چھٹی کرتا، اور سارا دن باہر اپنے دوستوں کے ساتھ سگریٹ پیتا، فلم دیکھتا۔ شفیق پہ فلمی رنگ چڑھنے لگا۔ اسے لگتا کہ فلم میں جیسے ہیرو وہ ہی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے، شفیق کی زبان کے ساتھ ساتھ ہاتھ بھی چلنا شروع ہوگئے۔ اور پھر جب شفیق شراب پی کے دوسرے محلے میں غل غپاڑہ کرتا تو بھلے بھلے راستہ چھوڑ دیتے۔
پتر تو آگیا ہے، کھانا لگادوں، بھاگ بھری نے جھولتے شفیق سے پوچھا۔ نئی میں نے کھانا نئی کھانا۔ شفیق اپنے بستر پہ گرا اور جلد ہی نیند کی وادی میں پہنچ گیا۔
اگلی صبح، سورج نکل چکا تھا، لیکن شفیق بدستور سو رہا تھا۔ ناشتہ بن چکا، بھاگ بھری نے شفیق کو جگایا، پتر اٹھ، ناشتہ کر لے۔ اماں مجھے پیسے چاہئے، شفیق نے جیسے بھاگ بھری کی بات سنی ہی نہ ہو۔ پتر میرے پاس پیسے کہاں سے آئے۔ لے کھانا کھا۔۔ ، یہ بالیاں مجھے دے دے۔ شفیق کی نگاہیں ماں کے کانوں پہ ٹک گئیں۔ پتر یہ تیرے ابے کی دی ہوئی آخری نشانی رہ گئی ہے میرے پاس۔ یہ نہیں دے سکتی۔
شفیق انکار نہ سن سکا، غصے میں پاگل ہو گیا، تڑاخ کی آواز ایک کمرے کے گھر میں گونجی۔ ابھی بھاگ بھری سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ شفیق نے ماں کے کانوں سے بالیاں کھینچ لیں۔ یہ تھپڑ بھاگ بھری کے چہرے پہ نہیں، بھاگ بھری کے دل پہ لگا۔ گویا بھاگ بھری کے کانوں کے ساتھ اس کا دل بھی چیر ڈالا ہو شفیق نے۔ بھاگ بھری صرف اتنا ہی کہ پائی، ہائے میں مرگئی۔ ۔ ۔
شام ڈھل گئی لیکن شفیق نہ آیا۔ بھاگ بھری اس دوران شفیق کے لئے دعائیں ہی مانگتی رہی۔ اللہ کرے میرا شفیق خیر سے ہو۔ اللہ جی میں ختم دلاوں گی، حلوے کا۔ بچوں کو کھلاوں گی۔ میرا شفیق بس خیر سے ہو۔
تین دن بعد، پیسے ختم ہوچکے تھے، جسم نشے سے ٹوٹ رہا تھا، شفیق گھر داخل ہوا، ماں کے لہجے میں شکایت نہیں تھی، بار بار بلائیں لے رہی تھی۔ حلوہ بنا کے ختم دلایا۔ بچوں کو کھلایا۔ کہ شفیق واپس آگیا ہے۔
اب جتنی دیر شفیق گھر میں رہتا، بھاگ بھری کی جی بھر کے دُھلائی کرتا، جیسے شفیق کی آنکھوں کا پانی خشک ہوگیا ہو۔ جیسے بھاگ بھری اس کی ماں ہے، شاید یہ سب سے بڑا گناہ ہو۔
نہ جانے کتنے برس بھاگ بھری کے بھاگ میں یہ ظلم لکھا تھا۔ لیکن ایک دن بھی بھاگ بھری نے شفیق کو بد دعا نہیں دی۔  ایک دن شفیق نے کپڑے دھونے والے ڈنڈے سے ایسا ظلم کیا کہ، بھاگ بھری کے سر سے خون نکلنا شروع ہو گیا۔ ڈاکٹر نے مرہم پٹی کر تو دی، مگر اس ضرب سے بھاگ بھری اکثر اپنے اوسان کھو بیٹھتی۔۔۔
☆☆☆☆☆
بستی کے بچے آگے آگے بھاگ رہے تھے، ساتھ ہی ساتھ 'بل بتوڑی' کا نعرہ باجماعت لگا رہے تھے۔
ضعیفہ ہاتھوں میں لاٹھی کا سہارا لئے ان کے پیچھے پیچھے چلتی اور کہتی، بل بتوڑی تیری ماں، بل بتوڑی تیری بہن۔۔۔
یہ سارا منظر ایس ایچ او عمران ناکے پہ کھڑا دیکھ رہا تھا، کرم داد، جی سر۔۔
اماں جی کو لے کر آو ادھر، جی سر۔۔
کیا نام ہے اماں جی آپ کا، پتر پتہ نہیں، کہاں کی رہنے والی ہیں آپ، پتر پتہ نہیں۔۔
کرم داد، چلو اماں جی کو تھانے لے چلو، جی سر۔۔
☆☆☆☆☆
جی اماں جی، کیا نام ہے آپ کا، جیسے ہی کھانا کھا کے ٹھنڈے پانی کا گلاس پیا، پتر میرا نام 'بھاگ بھری' ہے، آپ کا کوئی والی وارث ہے، پتر میرا ایک پتر ہے۔ کیا نام ہے اسکا جی شفیق جی۔
چلو آپ کو گھر لے چلوں۔ ۔ ۔
چل پتر، تیرے کہنے پہ چلتی تو ہوں پر 'میرے پتر نوں سمجھاویں کہ ہن ماریں ناں'۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سید تنزیل اشفاق

سید تنزیل اشفاق، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل، سافٹ ویئر انجینیر ہیں۔ اردو، اسلامی، سماجی ادب پڑھنا اور اپنے محسوسات کو صفحہ قرطاس پہ منتقل کرنا پسند کرتے ہیں۔