1. ہوم
  2. افسانہ
  3. صفحہ 4

راہِ گزر

ڈاکٹر تہمینہ عباس

وہ میری کولیگ تھی، عمر میں مجھ سے بیس برس چھوٹی، میری بردبار اور متین شخصیت کی شیدائی۔ میرا بڑا بیٹا اس سے پانچ برس چھوٹا تھا۔ اس کی آنکھوں کی چمک، لچک دار کمر،

مزید »

دفن شدہ حرف

محمد عامر حسینی

جس روز رافع کو اخبار سے نکالا گیا، اس روز شہر میں ہوا معمول سے کم تھی۔ گلی کے نکڑ پر کھڑا نیم کا درخت ساکت تھا، جیسے کسی نے اس کی شاخوں کو تنبیہ کر دی ہو کہ آج

مزید »

ٹیٹ امتحان

ریٔس احمد کمار

باپ کا سایہ کم عمری ہی میں سر سے اٹھ جانے کے بعد ندیم کی کفالت اس کی ماں نے ہی کی۔ آمدنی کے قلیل ذرائع ہونے کی وجہ سے اسے بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تین

مزید »

نربدا کی نرتکی

سید محمد زاہد

"اس کا کہنا تھا کہ وہ نِربدا کی نیل دھار کے سنگ بہتی آئی تھی: پون کے دوش پر لہراتی نربدا تٹ پر اتری تھی۔ ورش بیت گئے، اب وہ واپس جانا چاہتی تھی۔ روزانہ رات تٹ ک

مزید »

قیامت کے بعد

سید محمد زاہد

"خوش آمدید، ہرمِس، آج رات کیسا محسوس کر رہے ہو؟" وہ کمرے میں داخل ہوا تو ہیستیا کی آواز کانوں میں رس گھولنے لگی۔ آواز میں ایک ہلکا سا ارتعاش تھا۔ ہمیشہ سے موجو

مزید »

دستک

سید احسن تقویم

پورے چاند کی روشنی رات کی تاریکی میں گھل کر اس کا اثر زائل کررہی تھی۔ وہ دن کا تھکا ہارا بستر پر سویا پڑا تھا۔ کروٹ بدلی تو آنکھ کھل گئی۔ بہت کوشش کی مگر دوبارہ

مزید »

سراب شب

سید احسن تقویم

وہ لمحہ اس کی زندگی کا ایک نیا باب تھا۔ پورے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ ایسا لمحہ اس کی زندگی میں پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔ نئے لمحات ہمیشہ دلفریب ہوتے ہیں۔ عین اس

مزید »

ڈیتھ پارٹنر

سید محمد زاہد

دیارِ غیر میں تم جیسا دوست مل جانا نعمت غیر مترقبہ تھی۔ پہلا بَیج جس کو ایف سولہ کی ٹریننگ کے لیے ہل ائیر فورس بیس اوتاہ بھیجا گیا اس میں جنید کا نام شامل تھا ا

مزید »

وہ کون تھا

رابعہ خان

پہاڑ بلاتے ہیں۔۔ سرمئی، برفیلے، پتھریلے، ہرے بھرے اور پھولوں سے ڈھکے ہوئے پہاڑ بلاتے ہیں۔۔ لیکن کس کو؟ ہر کسی کو یا پھر صرف اپنے محبوب کو میں ایک مرتبہ پھر

مزید »