/ کالمز / علی اصغر / ہمتِ مرداں مددِ خدا

ہمتِ مرداں مددِ خدا

کم سرمائے سے شروع ہونے والے کاروبار پہ میں نے ایک تحریر لکھی تھی جس کو کافی لوگوں نے سراہا تھا اور چار پانچ دوستوں نے تو انباکس میں پیغام بھی بھیجا کہ انہوں نے اپنا کام شروع کر لیا ہے، پھر ایک بہن نے انباکس میں میسج کر کے کہا کے وہ بیوہ ہیں اور انکا ایک بیٹا ہے مالی حالات خراب ہونے کی وجہ سے وہ اپنے بیٹے کو پڑھا نہیں پائیں اب اسکو کوئی کاروبار شروع کروانا چاہ رہی ہیں ایسا کام بتائیں جو بہت کم سرمائے سے شروع کیا جاسکے اور جس میں وہ اپنے بیٹے کی مدد بھی کر سکیں اور ان کو گھر سے باہر بھی نہ نکلنا پڑے۔ انکو جو مشورہ دیا وہ یہاں بھی لکھ رہا ہوں تاکہ وہ لوگ جو بہت کم سرمائے سے کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں وہ بھی اس مشورے سے مستفید ہو سکیں۔ 

اکثر دفاتر اور دکانوں پہ کام کرنے والے لوگ دوپہر کا کھانا ہوٹل سے منگوا کر کھاتے ہیں ہوٹل کا کھانا غیر معیاری ہونے کی وجہ سے یہ لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں یہ لوگ چاہتے ہیں انکو گھر کا پکا کھانا ملے، اس لیے جو لوگ کم سرمائے کا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں وہ سب سے پہلے دس ہزار روپے کا بندوبست کریں کیونکہ یہ کام با آسانی دس ہزار میں شروع ہوسکتا ہے۔ 

آپ ایک پرنٹنگ والی دکان پہ جائیں اسکو بولیں کہ ایک صفحے پہ خوبصورتی کے ساتھ پورے ہفتے کے کھانے کا مینو لکھ کر دے اور یہ بھی لکھے کہ ہم گھر کا بنا ہوا کھانا بنا کر ہر دکان پہ سپلائی کرتے ہیں اور فی ٹفن دو سو روپے لیتے ہیں، ہمارا آدمی ٹفن دے جانے کے دو گھنٹے بعد ٹفن اور پیسے لے جائے گا اور اگلے دن کا آرڈر بھی لکھ لے گا۔ صفحے کے نیچے اپنا موبائل نمبر لکھ دیں۔ پھر اس پیج کو فوٹو کاپی والی دکان پہ لے جاکر دو سو فوٹو کاپیاں کروا لیں اس طرح کل ملا کر آپکا تین سو روپیہ خرچ ہوگا۔ 

اس کے بعد آپ برتن فروخت کرنے والی ہول سیل مارکیٹ میں جائیں اچھا سا ٹفن آپکو تقریباَ ساڑھے چار سو میں مل جائے گا آپ دس ٹفن خرید لیں یہ پینتالیس سو روپے کے آئیں گے۔ پھر بازار سے دس آدمیوں کے کھانے کے لئے چکن، چنے، انڈے، گوشت قیمہ، چاول، آٹا خریدیں، پندرہ سو روپے میں آپکا یہ سامان آجائے گا۔ اب دس آدمیوں کا کھانا تیار کرلیں اور اسکو ٹفن میں ڈال کر بمع اپنے پمفلٹ کسی بڑی مارکیٹ میں چلے جائیں اور یاد رہے یہ بارہ سے ایک کے درمیان کا وقت ہو جب لوگ ہوٹل سے کھانا منگواتے ہیں۔ 

کاروبار کو چلانے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ "جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے" ٹفن آپ کے ہاتھ میں ہوں گے آپ بڑی دکانوں پہ پمفلٹ دیتے جائیں اور زبانی بھی لوگوں کو اپنے کام کا تعارف کرواتے جائیں یقیناَ لوگ ہوٹل کی بنسبت گھر کے کھانے کو ترجیح دیں گے پہلے دن اگر آپ کے دس ٹفن بُک ہو گئے تو سمجھ جائیں آپ کا کام چل نکلا، ساتھ ساتھ ایک نوٹ بک میں گاہک کا نام اور موبائل نمبر بمع دکان کا نام لکھتے جائیں،  اسی طرح جب دس ٹفن مارکیٹ میں جائیں گے تو دیکھا دکھائی دوسرے دکاندار بھی آپ کو آرڈر دینے لگیں گے، دس ٹفن روزانہ کی بنیاد پہ اگر بُک ہونے لگے تو دو ہزار روپے آپکی روزانہ کی کمائی آنے لگے گی ایک ہزار خرچہ نکال کر ایک ہزار روپے آپکا منافع اور مہینے کے چھبیس دن کے چھبیس ہزار روپے بنتے ہیں۔ کوشش کریں ایک ماہ تک پرافٹ کو خرچ نا کریں پھر ان پیسوں کے پچاس اور ٹفن خرید لیں اور دال، چاول، گھی، چنے ہول سیل ریٹ پہ خرید کر گھر میں سٹاک کر لیں۔ اگر آپ کے پچاس ٹفن روزانہ کی بنیاد پہ جانے لگیں تو دس ہزار روپے ایک دن کی آپکی کمائی ہوگی اور چھبیس دنوں کی دو لاکھ ساٹھ ہزار روپے اخراجات نکال کر ایک لاکھ بھی بچے تو یہ آمدنی ایک سرکاری آفیسر سے زیادہ کی ہوگی۔ 

جب آپ کا کام چل نکلے تو سرکاری اور پرائیویٹ دفاتر اور دوسری بڑی مارکیٹوں کا رخ کریں اور کوشش کریں کے آپ کا ایک سو ٹفن ہر روز نکلے لیکن یاد رکھیں آپ کھانے کا معیار اچھا رکھیں گے اور بہترین سروس دیں گے تو آپ کا یہ چھوٹا کاروبار ایک بڑی کمپنی کی شکل اختیار کر جائے گا۔ انڈیا میں یہی کام ایک گھر سے شروع ہوا اب سالانہ وہ آٹھ کروڑ ٹفن سپلائی کرتے ہیں۔ 

کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے اپنے زورِ بازو سے اپنا کاروبار شروع کریں۔ خدا بھی پرندوں کو دانہ تب عطا کرتا ہے جب وہ روزانہ اپنے گھونسلوں سے اڑ کر رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ 

کاروبار کامیاب کرنے کے لیے خدا سے وعدہ کر لیں کہ آپ فی ٹفن کی رقم سے دس روپے اس کے ضرورت مند بندوں پہ خرچ کریں گے ان شاء اللہ کامیابی یقینی ہوگی۔