Sunday, 15 September 2019
/ کالمز / علی اصغر / انٹرنیٹ کی دنیا اور ہمارے بچے

انٹرنیٹ کی دنیا اور ہمارے بچے

شاید میں چھٹی کلاس میں پڑھتا تھا سکول سے واپسی پہ مجھے گلی میں پڑا ایک تاش کا پتا ملا جس پہ ایک نیم برہنہ تصویر بنی ہوئی تھی میں نے وہ اٹھا لیا اور بیگ میں رکھ لیا، جب رات کو ہوم ورک کرنے کے لئے کتابیں باہر نکالنے لگا ساتھ وہ تاش کا پتا بھی باہر نکل آیا ساتھ بیٹھی والدہ نے وہ دیکھ لیا اور بہت غصہ میں آگئیں ساتھ میری پٹائی کر رہی تھیں اور زور زور سے رو رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں ہائے میرے خدایا ہمارا کون سا ایسا گناہ ہے جو ہمارے بچے پہ اثر انداز ہو رہا ہے، خدایا ہمیں معاف فرما ہمارے بچے پہ رحم کرنا، مجھے آج بھی یاد ہے کئی دن تک والدہ اس بات پہ غمگین رہیں۔ 

دس پندرہ سال پہلے عید والے دن ٹی وی پہ فلم لگتی تھی جس کو سب گھر والے بڑے شوق سے دیکھتے تھے لیکن بچوں کو پھر بھی نہیں ساتھ نہیں بیٹھنے دیا جاتا تھا، اگر وی سی آر پہ انڈین فلم چل رہی ہوتی اور کوئی رومانٹک سین بھی آجاتا تو فوراً اسکو فارورڈ کر دیا جاتا تھا۔ 

میرے دادا اور دادی کے سامنے میرے والدین احتراماً ایک چارپائی پہ نہ بیٹھتے تھے، والدہ کے سر سے کبھی دوپٹہ اترا ہوا نا دیکھا تھا، بچوں کو عینک والا جن یا صرف کارٹون دیکھنے کی اجازت ہوا کرتی تھی، کزنز، بہن بھائیوں میں ایک حیاء کا پردہ ہوا کرتا تھا وہ دور بہت سچا اور پر سکون تھا، لیکن چونکہ اب ہم لوگ ترقی کر چکے ہیں لہذا ٹی وی پہ جو کچھ بھی آرہا ہو ہم نے پروا نہیں کرنی آزاد خیالی کے نام پہ اپنی جوان بیٹیوں اور بیٹوں کو کھلی چھوٹ دے دی ہے، اور خدانخواستہ اگر بچے کوئی الٹا قدم اٹھا لیں تو بعد میں پھر ہم بیٹھ کر روتے ہیں۔

کچھ دن پہلے میری فرینڈ لسٹ میں ایک فرینڈ نے ایک فحش پیج کی ایک فحش تصویر پہ کمنٹ کیا وہ کمنٹ بمع تصویر میری طرف بھی شو ہو رہی تھی کمنٹ پہ نظر پڑی تو کافی دیر تک دل غمگین ہوگیا سوچتا رہا ہم اور کتنا اخلاقی طور پہ گریں گے؟ بے غیرتی کی اور کتنی حدیں پار کریں گے، اس تصویر پہ لکھا تھا آپ کو اپنی امی کے جسم کا کونسا سا حصہ پسند ہے نیچے دو ہزار کے قریب کمنٹ تھے بیشتر کمنٹ کرنے والے پاکستانی ہی تھے اور سب اپنے اندر کی گندگی کمنٹ کی شکل میں نکال رہے تھے۔ 

حج پہ جانے والوں میں دوسرے نمبر پہ آنے والا ملک پاکستان شاید فحش مواد سرچ کرنے میں پہلے یا تیسرے نمبر پہ ہے، اور افسوس کی بات تو یہ کہ دنیا میں جتنے ممالک میں فحش مواد دیکھا جاتا ہے ان ممالک میں پانچ ملک اسلامی شامل ہیں جن میں پاکستان، سعودیہ اور ایران سرفہرست ہیں۔

آج تقریباً ہر گھر میں انٹر نیٹ والا موبائل ہے اور والدین بخوشی اپنے بچوں کو موبائل بطور تحفہ خرید کر دے رہے ہیں، خاص طور پہ نویں دسویں کلاس تک پہنچنے والی لڑکیوں کے پاس تو ضرور ہی ٹچ سکرین موبائل ہے والدین اچھے نمبر آنے پہ موبائل تحفے میں لے کر دے تو دیتے ہیں لیکن بعد میں یہ کبھی نوٹ نہیں کرتے کہ ہمارا بیٹا یا بیٹی بیلنس کہاں سے لیتا ہے، انٹر نیٹ پیکج کہاں سے کرواتا ہے؟ کیا ہم جو پاکٹ منی دیتے ہیں اتنے پیسوں سے انٹر نیٹ پیکج لگ جاتا ہے؟ یہ کبھی خیال نہیں کیا کہ آخر ہمارے بچے ایسا کیا دیکھتے ہیں کہ انکو کھانے پینے کا بھی ہوش نہیں، بچیوں نے موبائل میں نمبرز اپنی سہیلیوں کے نام پہ محفوظ کر رکھے ہیں کیا وہ واقعی انکی سہیلیوں کے نمبرز ہیں؟ والدین اپنے اپنےموبائلوں میں مصروف اور بچے اپنے کمروں میں اپنے موبائلز پہ مشغول، ایک سروے کے مطابق پاکستان میں گیارہ سے چودہ سال کی عمر میں ہر بچہ فحش مواد دیکھ چکا ہوتا ہے۔ 

بہت پریشان کن صورت حال ہوتی جا رہی ہے، جس پہ کوشش کر کے ابھی سے قابو پایا جا سکتا ہے، وقت اور عمر گزر گئی تو پھر بچوں کی عادات کو سدھارنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہوجاتا ہے۔ 

خداوند متعال ہمیں اور ہمارے بچوں کو ہر برائی سے محفوظ رکھے آمین۔