/ کالمز / علی اصغر / کاروباری حسد

کاروباری حسد

1995 میں ضلع راولپنڈی کے شہر روات میں ہماری مٹھائی کی دوکان ہوا کرتی تھی میرے دادا کے ہاتھ کی بنائی ہوئی برفی پورے علاقے میں مشہور تھی صبح 10 سے دن 1 بجے تک جتنی برفی بناتے ساری فروخت ہو جاتی تھی پورے علاقے میں برفی کی بہت مشہوری تھی دور دور سے لوگ برفی کھانے آتے تھے آج بھی جب کبھی وہاں میرا چکر لگے تو لوگ میرے دادا کو بہت یاد کرتے ہیں۔ ایک دفعہ انگلینڈ سے کوئی پاکستانی فیملی روات شادی پہ آئی تو انکے میزبانوں نے ہماری دوکان سے برفی منگوا کر کھلائی وہ لوگ تو جیسے پاگل ہوگئے فوراَ دوکان پہ آکر دادا سے ملے اور کہا کہ ہم سے جتنے مرضی پیسے لے لیں اور ہمیں اس برفی بنانے کا طریقہ لکھ کر دے دیں ہم انگلینڈ میں برفی کی دوکان بنائں گے میرے دادا نے فوراَ کاغذ اٹھایا اور میرے ابو سے کہا کہ لکھ دو۔ برفی بنانے کا طریقہ لکھ کردینے کے بعد دادا نے ان سے کہا کہ طریقہ تو لکھوا کرلے جا رہے ہو لیکن مجھ جیسا مقدر کہاں سے لاو گے؟
 ہمارے معاشرے کا ایک المیہ ہے ہم لوگ جب کسی کو کامیاب ہوتا دیکھ لیں تو ہم سے برداشت نہیں ہوتا ہم اس انسان سے مفت کی دشمنی پال لیتے ہیں اگر اسکی کامیابی کو ناکامی میں بدل نہ سکیں تو دل میں ضرور اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ بطور مسلمان ہمیں اللہ پہ بھروسہ نہیں رہتا حالانکہ اس کامیاب انسان کا خالق و رازق بھی اللہ ہے اور ہمارا بھی رب وہی ہے، اب تو لوگ جس کو جانی و مالی نقصان نہ پہنچا سکیں تو جادو ٹونے کرنے چل پڑتے ہیں جس سے اپنا ایمان تو خراب ہوتا ہی ہے دوسرے کی زندگی بھی تباہ ہوجاتی ہے ایسا ہی کچھ پھر میرے دادا کی دوکان کے ساتھ بھی ہوا کچھ مخالفین نے کچھ ایسا کیا کہ جس دوکان پہ رش ختم ہی نہیں ہوتا تھا وہاں دو دو ہفتے گاہک دیکھتے بھی نہیں تھے اور آخر وہی برفی جس کے چرچے ہر طرف تھے پھینکنی پڑتی تھی۔  
آپ کبھی کسی فرنیچر کے شو روم میں جائیں اور وہاں کسی صوفہ یا بیڈ کی تصویر بنانے لگیں تو شو روم کا مالک آپکو تصویر نہیں بنانے دے گا وجہ پوچھنے پہ بتایں گے کہ صاحب اس طرح ڈیزاین کاپی ہو جاتا ہے اور پھر دوسرے شو روم والے بھی ایسے ڈیزاین بنائں گے توہمارے پاس کون آئے گا؟ ایسے ہی کبھی سونے کی دوکان پہ جائیں  اور کسی سونے کے سیٹ کی تصویر بنانے لگیں تو اس کا بھی یہی جواب ہو گا۔  
اصل میں یہ ایک خالص قسم کا حسد ہے جو ہر کاروباری انسان کو بے سکون کیے رکھتا ہے ہر انسان کا رزق اس کے رازق نے لکھ دیا ہے ہم نا کسی سے چھین سکتے ہیں نا ہی اپنا رزق اپنے نصیب سے زیادہ بڑھا سکتے ہیں اگر رب کی رضا میں راضی ہو کر اس کے دیئے پر صبر شکر کر لیا جائے تو کبھی بھی نا بے سکونی ہو گی ناہی ہم کسی اور کی زندگی اور کاروبار خراب کرنے کا سوچیں گے۔