/ کالمز / علی اصغر / ماواں ٹھنڈیاں چھاواں

ماواں ٹھنڈیاں چھاواں

آج بہت دن بعد والدین کی قبور پہ جانا ہوا جیسے ہی والدہ کی قبر پہ نظر پڑی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے اپنا بچپن یاد آگیا کیسے میری ماں نے اتنے مشکل مالی حالات کا مقابلہ کرکے مجھے پالا مجھے اچھی طرح یاد ہے میری والدہ سردیوں میں کپاس استری سے گرم کر کے میرے نیچے رکھتی تھیں تاکہ مجھے سکون ملے سردی سے بچ جاوں کیسے میرے والد نے غریبی کے باوجود میری ہر خواہش پوری کی۔ شاید میرے دل سے پوری زندگی یہ دکھ نا جائے کہ میں اپنے والدین کے ساتھ انکے آخری وقت میں نا تھا نا انکے جنازے میں شریک ہوسکا۔
چاہے ہم عمر کے جس حصہ میں ہوں جب زندگی کی سختیاں برداشت کر کے تھک جاتے ہیں جب زندگی کے نا ختم ہونے والی مشکلات ہمارے حوصلے پست کر دیتی ہیں تب اللہ کے بعد سب سے پہلے والدین کی یاد آتی ہے حتی کہ ہلکا سا بخار بھی ہوجائے تب بھی ماں کے ہاتھوں کے لمس کو اپنے ماتھے پہ محسوس کرنے کو ترس جاتے ہیں میری باتوں میں یہ موجود کرب شائد وہ لوگ محسوس نا کر سکیں جن کے والدین حیات ہیں (میری دعا ہے اللہ ان پر انکے والدین کا سایہ سلامت رکھے آمین) لیکن وہ لوگ ضرور محسوس کریں گے جن کے والدین دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ زندگی کے ہر موڑ پر ایک کمی ضرور محسوس ہوتی ہے دل سے پر درد آواز نکلتی ہے کاش میری والدین ہوتے۔ 32 سال عمر ہونے کے باوجود اب بھی جسے ماں کی یاد آتی ہے فوراً آنکھیں برسنا شروع ہوجاتی ہیں۔
آج کل کے نوجوان اکثر والدین پہ ناراض رہتے ہیں کیونکہ انکو وہ پرآسائش زندگی میسر نہیں کر پا رہے حالانکہ ہر ماں باپ اپنی اولاد پہ دنیا جہان کی نعمتیں نچھاور کرنے کی کوشش کرتے ہیں امیری غریبی اللہ کے ہاتھ میں اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ والدین کی محبت پہ شک کری شاید آپ کے والدین نے آپکی توقعات کو پورا نہ کیا ہو مگر یقین کریں ان کے پاس جو بھی تھا انہوں نے وہ سب آپ پر لٹا دیا ہے۔ ۔
جب ہم زندگی کی رونقوں میں مشغول ہوتے ہیں تو بھلے والدین کو بھول جائیں لیکن دکھ میں سب سے پہلے وہی یاد آتے ہیں۔ ۔ !!
والدین کی قدر کرو۔ یہ وہ درخت ہے جو اکھڑ جائے تو پھر کبھی نہیں لگتا۔ ۔ ان کی خدمت کر کے دعاؤں کے پھل سمیٹ لو۔
ماں زندگی کی تاریک راہوں میں روشنی کا مینارا ہے تو باپ ٹھوکروں سے بچانے والا مضبوط سہارا ہے۔