1. ہوم
  2. کالمز
  3. علی اصغر
  4. ماواں ٹھنڈیاں چھاواں
Ali Asghar

ماواں ٹھنڈیاں چھاواں

آج بہت دن بعد والدین کی قبور پہ جانا ہوا جیسے ہی والدہ کی قبر پہ نظر پڑی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے اپنا بچپن یاد آگیا کیسے میری ماں نے اتنے مشکل مالی حالات کا مقابلہ کرکے مجھے پالا مجھے اچھی طرح یاد ہے میری والدہ سردیوں میں کپاس استری سے گرم کر کے میرے نیچے رکھتی تھیں تاکہ مجھے سکون ملے سردی سے بچ جاوں کیسے میرے والد نے غریبی کے باوجود میری ہر خواہش پوری کی۔ شاید میرے دل سے پوری زندگی یہ دکھ نا جائے کہ میں اپنے والدین کے ساتھ انکے آخری وقت میں نا تھا نا انکے جنازے میں شریک ہوسکا۔
چاہے ہم عمر کے جس حصہ میں ہوں جب زندگی کی سختیاں برداشت کر کے تھک جاتے ہیں جب زندگی کے نا ختم ہونے والی مشکلات ہمارے حوصلے پست کر دیتی ہیں تب اللہ کے بعد سب سے پہلے والدین کی یاد آتی ہے حتی کہ ہلکا سا بخار بھی ہوجائے تب بھی ماں کے ہاتھوں کے لمس کو اپنے ماتھے پہ محسوس کرنے کو ترس جاتے ہیں میری باتوں میں یہ موجود کرب شائد وہ لوگ محسوس نا کر سکیں جن کے والدین حیات ہیں (میری دعا ہے اللہ ان پر انکے والدین کا سایہ سلامت رکھے آمین) لیکن وہ لوگ ضرور محسوس کریں گے جن کے والدین دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ زندگی کے ہر موڑ پر ایک کمی ضرور محسوس ہوتی ہے دل سے پر درد آواز نکلتی ہے کاش میری والدین ہوتے۔ 32 سال عمر ہونے کے باوجود اب بھی جسے ماں کی یاد آتی ہے فوراً آنکھیں برسنا شروع ہوجاتی ہیں۔
آج کل کے نوجوان اکثر والدین پہ ناراض رہتے ہیں کیونکہ انکو وہ پرآسائش زندگی میسر نہیں کر پا رہے حالانکہ ہر ماں باپ اپنی اولاد پہ دنیا جہان کی نعمتیں نچھاور کرنے کی کوشش کرتے ہیں امیری غریبی اللہ کے ہاتھ میں اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ والدین کی محبت پہ شک کری شاید آپ کے والدین نے آپکی توقعات کو پورا نہ کیا ہو مگر یقین کریں ان کے پاس جو بھی تھا انہوں نے وہ سب آپ پر لٹا دیا ہے۔ ۔
جب ہم زندگی کی رونقوں میں مشغول ہوتے ہیں تو بھلے والدین کو بھول جائیں لیکن دکھ میں سب سے پہلے وہی یاد آتے ہیں۔ ۔ !!
والدین کی قدر کرو۔ یہ وہ درخت ہے جو اکھڑ جائے تو پھر کبھی نہیں لگتا۔ ۔ ان کی خدمت کر کے دعاؤں کے پھل سمیٹ لو۔
ماں زندگی کی تاریک راہوں میں روشنی کا مینارا ہے تو باپ ٹھوکروں سے بچانے والا مضبوط سہارا ہے۔