Thursday, 17 October 2019
/ کالمز / علی اصغر / شرفِ قبولیت

شرفِ قبولیت

میری بیٹی فاطمہ زیادہ تر میرے ساتھ رہتی ہے اسے انڈہ بہت پسند ہے اور وہ انڈے کو آلو بولتی ہے اور جب وہ فریج میں انڈے دیکھ لے تو کہتی ہے بابا جی آلو دو مجھے اسکی توتلی زبان میں بابا جی آلو دو کہنا بہت اچھا لگتا ہے میرا جی چاہتا ہے وہ مجھے سے بار بار انڈہ مانگے اور میں اسکی توتلی زبان سن کر ایسے ہی شاد ہوتا رہوں۔ میں جان بوجھ کر انڈہ ہاتھ میں پکڑ کر اپنا بازو اوپر کر لیتا ہوں وہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر زور زور سے چلاتی ہے اور میرے چہرے کی طرف دیکھ کر معصوم شکل بنا کر فریاد کرتی ہے جب وہ رو دیتی ہے تو میرا دل پسیج جاتا ہے اور اسے اپنے سینے سے لگا لیتا ہوں اور اس کی خواہش پوری کر دیتا ہوں۔ اکثر بچے اپنے والدین سے ضد کرکے اپنی بات منواتے ہیں اور بعض دفعہ رو کر دونوں صورتوں میں انکی خواہش پوری کر دی جاتی ہے۔ 

بعض دفعہ ہم پہ پریشانیوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں سمجھ نہیں آتی کہ ہم کیا کریں لاکھ کوششوں کے باوجود ہم ان مصیبتوں سے نہیں نکل پاتے۔ جب انسان اپنی پوری کوشش کر لینے کے باوجود پریشانیوں سے چھٹکارا نہیں کر پاتا تو تھک ہار کر آخر اپنے مالک کے در پہ آپڑتا ہے، لیکن پھر بھی بعض دفعہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں اور ہماری پریشانیاں ویسے کی ویسے ہی رہتی ہیں اور پھر ایک ایسا وقت آتا ہے جب اپنے رب کے سامنے مکمل ٹوٹ جاتے ہیں اسکے سامنے سجدہ ریز ہوکر گڑ گڑاتے ہیں اور بس وہی لمحہ ہوتا ہے جب ہم پہ اس ذات اقدس کا کرم ہوجاتا ہے۔ ہماری پریشانیاں خوشیوں میں، تنگ دستیاں فراخی میں، تکلیفیں راحت میں اور اضطراب قرار میں بدل جاتا ہے۔ 

در حقیقت خالق کائینات کو ہمارا اسے گڑ گڑا کے پکارنا بہت پسند ہے وہ چاہتا ہے اسکا بندہ اس سے مانگے اور وہ عطاء کرے۔ اگر دعائیں قبول نا ہورہی ہوں تو دو وجوہات ہوسکتی ہیں یا تو وہ خواہش ہمارے لئے بہتر نہیں یا پھر خدا چاہتا ہے اسکا بندہ ضد کرکے اس سے مانگے یا گڑا گڑا کر کیونکہ وہ ہماری آوازیں سننا چاہتا ہے۔ 

محمد و آل محمد ع نے اپنے حب داروں کو خدا سے مانگنے کی ہزاروں دعائیں سکھائی ہیں یقیناً انکی سکھائی ہوئی دعاؤں کو ہی خداوند متعال شرف قبولیت بخشتا ہے۔