Thursday, 17 October 2019
/ کالمز / حمزہ خلیل / ہندوستان میں ناپید ہوتی انسانی اقدار

ہندوستان میں ناپید ہوتی انسانی اقدار

اس کی بے باکی دیدنی تھی۔ اعتماد اور بے باکی میں بس تھوڑا سا فرق ہوتا ہے لیکن یہ اپنے مفہوم میں کئی معنی رکھتے ہیں۔ بے باکی دو وجوہات سے آتی ہے۔ پہلی"انسان کے پاس کھونے کو کچھ نہ بچا ہو" دوسرا "انسان سے کوئی کچھ نہ کھو سکتا ہو"۔ اب ایک ایسا انسان جس کا جسم ہر کسی کی دسترس میں ہو اس پر پہلی وجہ پوری ہوتی ہے۔ وہ میری موجودگی کا مقصد جان کر حیران ہوئی، پھر قہقہوں کے شگوفے پھوٹ پڑے۔ میرے یقین دلانے پر کہ اس کی "دیہاڑے" نہیں مرتی، وہ کچھ وقت ساتھ گزارنے پر رضامند ہوگئی۔

اس کے بچپن میں باپ کا انتقال ہو گیا تھا، ماں نے معاشرے کی گندی نظروں سے خود کو اور اپنی بیٹی کو بچانے کے لئے دوسری شادی کرلی۔ سب کچھ اچھا تھا، ماں سکول ٹیچر تھی اور سوتیلے باپ کا اپنا کاروبار تھا۔ ایک دن اس کو سکول سے جلدی چھوٹی ہوگئی، اس کی ماں گھر پر نہیں تھی اورسوتیلا باپ موجود تھا۔ اس نے اپنی سوتیلی بیٹی کو دودھ پینے کو دیا اور کپڑے بدلنے کو کہے۔ دودھ میں بےہوشی کی دوا ملی ہوئی تھی، پھر وقت نے دیکھا کہ انسان اپنی عظمتوں سے تاریکی کی گہرائیوں میں گر چکا ہے۔ سوتیلے باپ نے اسے سیڑھیوں سے نیچے پھینک دیا اور پھر اٹھا کر ہسپتال لے گیا۔ ہسپتال پہنچ کر بیوی کو فون کی کہ بیٹی سیڑھیوں سے گر گئی ہے۔ اس کے مکمل چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے شوہر سے ہٹ کر بیوی کو بتایا کہ اس کی بیٹی سے زیادتی کی گئی ہے۔

ماں نے اپنے دوسرے شوہر سے طلاق لے لی لیکن وہ اب جوانی میں بوڑھی ہورہی تھی۔ ماں دل کے عارضے میں مبتلا ہوئی تو کرائے کے مکان اور پیٹ کا جہنم ٹھنڈا کرنے کے لئے اس نے ملازمت کا سوچا۔ ملازمت کے لئے جہاں جاتی اس کی سلیکشن کا معیار ایک رات ہوتا جو کہ اس کو منظور نہ تھا۔ وقت گزرتا گیا اور زندگی اپنے راستے بند کرتی رہی۔ پھر پیٹ کے ہاتھوں، اس نے اپنی ایک رات کا سودا کر لیا۔ لیکن یہ ایک رات نہیں تھی یہ راتوں کا ایک سلسلہ تھا جو اس کا ہر سینئر ہر موقع پر اس سے مطالبہ کرتا تھا۔ پھر ایک دن اس نے سوچا کہ مجبوری کی کالک کو کیوں نہ مستقل طور پر منہ پر مل کر چونک میں کھڑا ہوا جائے۔

اوپر بیان کردہ ایک واقعہ ان بے شمار واقعات میں سے ایک ہے، جو ہمارے آس پاس اپنے ہونے کا اعلان کرتا ہے اور ہم میں سے ہر کوئی اس بہتی گنگا میں نہانے کی جستجو میں خاموشی اختیار کئے رکھتے ہیں۔ یہ ان بے شمار عنایتوں میں سے ایک عنایت ہے جو ہندوستانی کلچر نے ہماری اخلاقیات کا جنازہ نکال کر ہمارے معاشرے کو عطاء کی ہے لیکن بہرحال یہ قانونی نظر میں ایک جرم ہے۔ میں اب آپ کو اپنے پڑوسی ملک میں لے چلتا ہوں۔

دیپک مشرا ہندوستانی سپریم کورٹ کے 45 ویں چیف جسٹس تھے جو 2 اکتوبر2018 کو ریٹائر ہوئے۔ انہوں نے اپنا عہدہ 28 اگست 2017 کو سنبھالا تھا۔ انہوں نے اپنی مدت ملازمت کے دوران بہت سے اہم کیسوں کا فیصلہ کیا لیکن یہاں میں ان کے ایسے دو فیصلوں کا ذکرکروں گا جو ناصرف ہندوستانی معاشرے بلکہ انسانیت پر بھی بدنما داغ ہیں۔ ہندوستانی سپریم کورٹ نے 27 ستمبر 2018 کو 157 سالہ قانون (دفعہ 497) کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ جس کے بعد شوہر کا دوسری عورتوں کے ساتھ ناجائز تعلق اور بیوی کا دیگر مردوں کے ساتھ ناجائز تعلق زنا نہیں کہلائے گا، یعنی اب بیوی جب چاہے شوہر کی مرضی کے بغیر کسی بھی مرد سے جنسی تعلقات قائم کرسکتی ہے، اور اسی طرح شوہر جس وقت چاہے کسی بھی عورت کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرسکتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی عورت کسی کمپنی میں کام کرتی ہے تو وہ اپنے باس کے ساتھ جہاں چاہے گھوم سکتی ہے اور جنسی تعلقات قائم کرسکتی ہے، باس کی بیوی کو اپنے شوہر یا اپنے شوہر کی کمپنی میں کام کرنے والی عورت کے خلاف قانونی طور پر بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ اسی طرح اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے فیملی ڈرائیور سے جنسی تعلقات رکھنا چاہتی ہے تو شوہر منع کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اس سے قبل 6 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے 158 سالہ ہندوستانی قانون (دفعہ 377) کو غیر آئینی قرار دے کر یہ فیصلہ دیا تھا کہ مردوں یا عورتوں کا آپس میں جنسی تعلقات قائم کرنا جرم نہیں ہے، یعنی دو مرد یا دو عورتیں آپس میں بھی شادی کرسکتے ہیں۔ اس سے پہلے ہندوستانی قانون کی نظر میں ہم جنس پرستی قابل سزا جرم تھا جس پرپانچ سال تک قید ہوسکتی تھی۔

عدالت کی طرف سے اِن دونوں فیصلوں کے جو اسباب بیان کیے گئے ہیں، اُن کا خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ قوانین ہندوستان کی اُن قدیم روایات پر مبنی ہیں جن کے تحت عورت مرد کے تابع تھی۔ اب آزادی کا دور ہے، عورت شادی کرنے کے بعد شوہر کی غلام نہیں بن سکتی، بلکہ وہ شادی کرنے کے باوجود کسی بھی مرد کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے کا مکمل حق رکھتی ہے۔ اسی طرح مرد بھی شادی کرنے کے باوجود کسی بھی دوسری عورت کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ ہندوستان کی عدالت عظمیٰ کے یہ دونوں فیصلے ہندوستانی ثقافت اور انسانیت کے خلاف ہونے کی وجہ سے تمام مذاہب کے ماننے والوں کی طرف سے ان کے خطرناک نتائج سے آگاہ کیا جارہا ہے کیونکہ اس کے بعد جہاں بے حیائی اور عریانیت میں اضافہ ہوگا، وہی خاندانی نظام مزید کمزور اور طلاق کے واقعات کثرت سے واقع ہوں گے۔ ہندوستانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے اہم مسائل پر جلد بازی کے فیصلے عمومی طور پر ہندوستانی ثقافت اور انسانیت کے خلاف قرار دیے جارہے رہیں۔

اس وقت دنیا کے 27 ممالک ایسے ہیں جن میں ہم جنس پرستی کو قانونی تحفظ حاصل ہے اور اب اس لسٹ میں بھارت بھی شامل ہوچکا ہے۔ بھارت ہمارا ہمسایہ ملک ہے جس کے معاشرتی حالات ہمارے ملک میں بہت زیادہ اثر رکھتے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل کو جس شدت کے ساتھ بھارتی میڈیا متاثر کرتا ہے اس پر بھارتی قانون میں ہونے والی حالیہ تبدیلی ایک بہت بڑی تباہی کی طرف اشارہ کررہی ہے۔

ہم جنس پرستی، جنسی بےراہ روی، جنسی آزادی یہ سب ایک ہی قسم کے گناہ میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ وہ پہلا غیر فطری عمل ہے جو آج سے نہیں بلکہ زمانہ قدیم سے چلتا آرہا ہے اس وجہ سے حضرت لوط علیہ سلام کی قوم پر بھی عذاب آیا تھا لیکن یہ غیر فطری عمل اور گناہ کا کام آج بھی جاری ہے۔

آپ غور کیجئے کہ اسلام آپ کو اپنی بیوی کے ساتھ بھی جنسی تعلقات میں توازن اور اخلاقیات کا درس دیتا ہے تو پھر ہم جنس پرستی بہت دور کی بات ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں اس وقت جنسی مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد یورپی ممالک میں پائی جاتی ہے۔ کیوں؟؟ کیونکہ وہ لوگ اس چیز کا خیال نہیں کرتے وہاں تو باقاعدہ ان چیزوں کو پروموٹ کیا جاتا ہے اور اس فعل کے کرنے سے انسانی جسم کو کس قدر نقصان پھنچ سکتا ہے آپ صرف اندازہ ہی کر سکتے ہیں۔

اس فعل کے کرنے سے کئی قسم کی بیماریاں ہو جانے کا اندیشہ رہتا ہے جس کی وجہ سے انسان 20 سال کی عمر میں ہی بوڑھا ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات تو یہ مرض اتنی شدّت اختیار کر لیتا ہے کے آپ خود کو نامرد سمجھنے لگتے ہیں آپ کو خود پر غصّہ آتا ہے آپ لوگوں میں ملنے سے گھبراتے ہیں۔ خود کو تنہائی کا شکار کر لیتے ہیں۔ ڈپریشن آپ پر سوار ہو جاتا ہے اور اس کا انجام باز اوقات خود کشی جیسے اقدامات پر ہی جا کر روکتا ہے۔

ہندوستان اور پاکستانی معاشرے میں کچھ مذہبی رسومات کے علاوہ زیادہ فرق نہیں کیا جاسکتا یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کا پرنٹ میڈیا پاکستانی معاشرے پر بہت گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔ ہندوستانی اعلیٰ عدلیہ کے اس فیصلے کے بعد ہندوستانی معاشرے میں، جو کہ پہلے ہی تنزلی کا شکار ہے، اخلاقی اقدار کو زیادہ اعتماد کے ساتھ پامال کیا جائے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کی وجہ سے بھارتی چینلز کی بندش مخص عارضی ہے لیکن یہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ پاکستان میں بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پرنٹ میڈیا اور شوشل میڈیا کے استعمال کی کچھ حدود کو متعین کیاجائے۔