1. ہوم/
  2. مختصر/
  3. ابنِ فاضل/
  4. پُرآسیب وادی

پُرآسیب وادی

ایک بوسیدہ سی ریل گاڑی کھائی سے نکلنے کی کوشش کررہی ہے۔ کمزور سا انجن پورا زور لگاکر بھی اسے کھینچ نہیں پارہا۔ مسافروں کو علم ہے کہ کھائی ختم ہونے والی ہے اس کے بعد آگے ہموار زمین ہے جس پر یہ کمزور سا انجن بھی گاڑی کو دامے درمے منزل تک لیجائے گا۔ سو تقریباً سبھی مسافر باہر نکل کر گاڑی کو دھکا لگانے لگتے ہیں۔ ڈرائیور بھی پوری جانفشانی اور مہارت سے انجن کا پورا زور لگوا رہا۔۔ قریب ہے کہ گاڑی کھائی سے نکل جائے گی۔

اتنے میں گاڑی کا گارڈ آتا ہے، انجن اور گاڑی کو جوڑنے والی پن نکال دیتا ہے۔ گاڑی دھکا لگاتے مسافروں کو روندتی ہوئی واپس کھائی کی تہہ میں جالگتی ہے۔ انجن بے قابو ہو کر پٹری سے اتر جاتا ہے۔

گارڈ سے پوچھا جاتا ہے کہ تم نے یہ کیا حرکت کی۔ وہ اطمینان سے کہتا ریلوے کے قانون کے مطابق میں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ قانون کی کتاب میں درج ہے کہ جب مجھے محسوس ہوگاڑی کو خطرہ ہے میں گاڑی کی پن نکال سکتا ہوں۔ اور ویسے بھی ایک پن ہی تو تھی وہی کہیں پڑی ہوگی پھر سے لگالو۔

یہ وادی بھی کوئی پر آسیب وادی ہے۔ یہاں صدیوں سے یہی کھیل جاری ہے۔ مسافر بدل جاتے ہیں، ڈرائیور اور گارڈ بھی لیکن گاڑی جب بھی کھائی سے نکلنے لگتی ہے کوئی نہ کوئی پن نکال دیتا ہے۔