Thursday, 21 November 2019
/ کالمز / لقمان ہزاروی / گاڑی غلط جگہ کھڑی کرنا

گاڑی غلط جگہ کھڑی کرنا

ٹریفک کے قوانین کی پاسداری میں بہت سے تکلیف دہ امور سے انسان محفوظ ہوسکتا ہے۔ ٹریفک کے قوانین اسی لیے بنائے گئے ہیں کہ مسافر حادثات سے محفوظ رہیں اور آرام دہ سفر کریں۔ ٹریفک کے اصول پر عمل کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں ٹریفک حادثات بہت زیاہ پیش آتے ہیں۔ پاکستان میں ٹریفک کے مسائل اور حادثات کے چند بڑے اسباب میں غیرمحتاط ڈرائیونگ، سڑکوں کی خستہ حالی، ٹریفک قوانین کی آگاہی اور پابندی سے دوری اور خاص طور پر روڈ سیفٹی کی تعلیم کا فقدان شامل ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کبھی کبھار منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنا پڑتا ہے اس کی ایک وجہ غلط اور ٹیکنگ کے ساتھ ساتھ غلط جگہ پارک کی گئی گاڑیاں بھی ہوتی ہیں۔ کسی بازار میں آپ چلے جائیں تو وہاں گاڑیوں کو یوں کھڑا کیا گیا ہوتا ہے جیسے راستہ بند کرنے کے لیے کنٹینر لگائے جاتے ہیں۔ یہ ہماری بے حسی کا ایک بڑا ثبوت ہے۔ ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہماری غلطی سے دوسرے کو کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے، بس اپنا کام پورا کرنا ہے دوسرا جائے کھڈے میں، ہمارا یہ رویہ بن چکا ہے کہ ملکی قوانین کی صرف باتیں کرنی ہیں عمل کرنا ہماری ذمہ داری نہیں، سادہ سی بات ہے قوانین بنتے ہیں عمل درآمد کے لیے، اگر یہ احساس سب کے دلوں میں پیدا ہوجائے کہ کوئی قانون پر عمل کرے یا نہ کرے لیکن میں ضرور عمل کروں گا اس سے قانون پر عمل کرنے کا کا عملی نمونہ بھی مل جائے گا اور دھیرے دھیرے دوسرے لوگ بھی ایسا کرنے لگیں گے۔ اس سے ہمارے ملک میں قانون پر عمل نہ کرنے کی جو فضا قائم ہوچکی ہے وہ بھی رفتہ رفتہ ٹوٹے گی اور قانون پر عمل کرنابھی سہل ہوجائے گا۔
ایک بہت بڑی غلطی جو ہم سب کرتے ہیں وہ غلط جگہ گاڑی کھڑی کرنا ہے۔ بورڑ پر لکھا بھی ہوتا ہے کہ یہ پارکنگ کی جگہ نہیں ہے پہر بھی ہم اس سے نظر چرا کر گاڑی کھڑی کرلیتے ہیں۔ جب آدمی سڑک کے اوپر کوئی گاڑی چلاتا ہے، تو کسی ایسی جگہ آدمی گاڑی روک دے جہاں دوسرے آدمی کا راستہ بند ہوجائے تو یہ صرف اتنی ہی بات نہیں کہ یہ غیر اخلاقی حرکت ہے، صرف اتنی ہی بات نہیں کہ یہ غیر قانونی ہے بلکہ یہ گناہ ہے۔ اس لئے کہ آدمی دوسرے کو تکلیف پہنچانے کا سبب بن رہاہے، دوسرے کی ایذا رسانی کا سبب بن رہاہے اور کسی مسلمان کو بلاوجہ تکلیف دینا حرام ہے۔ فرض کریں آپ ایسی جگہ گاڑی کھڑی کرکے چلے گئے چاہے نماز ہی کے لیے گئے ہوں کہ دوسرے آدمی کی گاڑی وہاں جا کے پھنس گئی، اب اس کو کوئی ضرورت درپیش ہے، ہسپتال جانا چاہتا ہے، اس کی ملازمت کا وقت ہورہا ہے یا کوئی اور کام درپیش ہے لیکن آپ کی گاڑی پیچ میں کھڑی ہونے کی وجہ وہ نہیں جاسکتا تو اس طرح کرنا حرام ہے۔ یہ ایسا ہی گناہ ہے جیسے دوسرے مشہور گناہ ہوتے ہیں، لیکن کوئی اس کو گناہ سمجھتا ہی نہیں۔
ہم اپنے طور طریقے بھول چکے ہیں، ہم یہ نہیں جانتے کہ زندگی گزارنے کا اصول کیا ہے، طریقہ کیا ہے، کیسے ہم ایک بہترین قوم بن سکتے ہیں، کیسے دو دن کی زندگی کو جینا ہے، ہم کیسے کسی کو خوش کرسکتے ہیں، کیسے کسی کو ہم سے راحت و سکون مل سکتا ہے؟ ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے کہ ہم نے ہر دوسرے کو تکلیف دینی ہے۔ ہمارے قانون بنانے والے قانون بناتے ساتھ ہی توڑ کر اس قانون کی دھجی اڑا دیتے ہیں۔ ہمارے ملک کے بڑوں نے کہیں جانا ہو تو پروٹوکول کے سوا جانے میں ان کی شان میں شاید کوئی کمی آجاتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اس پروٹوکول نے کئی لوگوں کی زندگیاں اجاڑ پھینکی ہیں۔ جب ہمارے ملک کے بڑے ہی قانون پر عمل نہیں کرتے تو عوام کیا عمل کرے گی۔ باڑ ہی جب کھیت کو کھائے تو رکھوالی کون کرے؟

لقمان ہزاروی

لقمان ھزاروی  گزشتہ دو سالوں سے سیاسی، سماجی اور معاشرتی مسائل پر اپنے خیالات قلمبند کررہے ہیں۔ وہ ایک اچھا کالم نگار اور لکھاری بننا چاہتےہیں، ایک ایسا قلم کار جو حقائق پر مبنی تحاریر لکھے، حق و سچ کا بول بالا کرے۔