Thursday, 21 November 2019
/ کالمز / لقمان ہزاروی / شیلٹر ہوم

شیلٹر ہوم

ہم مشکل وقت میں جی رہے ہیں۔ مشکل وقت میں ملک کے ساتھ چمٹے رہنا ہی وطن سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہر شہری کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسے عزت و احترام ملے۔ اس کے ساتھ عزت والا برتاؤ برتا جائے۔ خوف کی زندگی جینے کے بجائے پر امید زندگی گزاری جائے۔ اس مشکل وقت سے دشمن خوب فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس دوران دشمن کی چالاکی پر تالیاں بجانے کے بجائے اس کا ادراک کرکے ہمت و قوت سے اس کامقابلہ کرنا چاہیے۔
ہر ملک کا باشندہ عزت چاہتا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ وہ کون ہے کیسا ہے لیکن اسے بنیادی حقوق ملنے کی خواہش ہر دم رہتی ہے۔ ان بنیادی حقوق کو حاصل کرنے کے لیے وہ مناسب جدوجہد بھی کرتا ہے اور یہی جمہوریت کا حسن ہے۔ ہر حکمران کی یہ بنیادی ترجیح ہونی چاہیے کہ وہ ہر ممکن سہولت شہری کو فراہم کرے۔ ایسا کرنے سے اس کی عزت بھی بڑھے گی اور ملکی وقار بھی بڑھے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ عوام خوشحال زندگی جیے گی۔
موجودہ حکومت کا ایک اچھا کارنامہ یہ ہے کہ اس حکومت نے غرباء اور سفراء کے لیے پناہ گاہیں قائم کیں۔ بلاشبہ غریب لوگوں کے لیے یہ ایک معجزہ ہے۔ جہاں بنیادی ضروریات کے ساتھ ساتھ تین وقت کا کھانا بھی ملے گا۔ کھلے آسمان تلے رات بسر کرنے والوں کے لیے یہ اقدام کس قدر خوشی و راحت کا باعث بنا یہ وہی بتلا سکتے ہیں جو اس کرب سے گزرے ہیں۔ کھلے آسمان تلے رات بسر کرنے والوں کی ایک کثیر تعداد ہے جو فٹ پاتھوں پر زندگی گزارتے ہیں۔ یہ لوگ بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہوتے ہیں۔ ان کے پاس دو وقت کھانے کا انتظام بھی نہیں ہوتا۔ رات بسر کرنے کے لیے مناسب بستروں کی بھی کمی ہوتی ہے۔ حفاظتی انتظامات بلکل نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔
ان کے پاس پہننے کو صاف ستھرے کپڑے نہیں ہوتے۔ اگر کپڑے ہوں بھی تو انہیں دھونے کی جگہ میسر نہیں ہوتی۔ موجودہ حکومت کا شیلٹر ہوم بنانا ایک شاندار قدم ہے۔ یہ حکومت کی سماجی رابطے کی ایک مثال ہے۔ محفوظ جگہیں فراہم کرنا جو بنیادی ضروریات زندگی سے لبریز ہوں ہر حکومت کی پالیسی ہونی چاہیے۔
احساس اور رحم دو ایسی چیزیں ہیں جو کسی کسی کو حاصل ہوتی ہیں۔ ان دو چیزوں سے ایک معاشرہ مہذب معاشرے کی شکل اختیار کرتا ہے۔ لوگوں سڑکوں پر پس رہے ہیں اور ہمارا احساس خرگوش کی نیند سو رہا ہے۔ فلاحی کاموں کے لیے ہمارا ضمیر مردہ ہے۔ یہ کام اگر صرف حکومت پر ہی نہ چھوڑے جائیں بلکہ ہر کوئی خود کو پیش کرکے کام کرنے کا جذبہ دل میں رکھے تو یقینا بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم ہر کام کو حکومت ہی کی ذمہ داری سمجھ کو خود کو اس سے بری کرتے ہیں۔
انتہائی غربت ایک ایسی بیماری ہے جو جان لیوا ثابت ہوچکی ہے۔ غربت میں زندگی گزارنے والوں کو نہ تو پیٹ بھر کر کھانا ملتا ہے اور نہ ہی پینے کے لیے صاف پانی۔ نہ ہی ان کے پاس سر چھپانے کے لیے جگہ ہوتی ہے اور نہ ہی صحت و تعلیم کی بنیادی سہولتیں انہیں دستیاب ہوتی ہیں۔ دنیا کے ایک ارب سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
غریب کی زندگی بہت مشکل ہے۔ چھوٹی سی خوشی حاصل کرنے کے لیے تڑپ جاتا ہے۔ تھوڑا سا سکون حاصل کرنے کے لیے کود پڑتا ہے۔ امیر لوگ ہر دوسرے تیسرے دن باہر کھانا کھاتے ہیں، لیکن کبھی غور سے انہیں دیکھیں تو ان کے چہروں پر عجیب سی بیزاری نظر آتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ وہ اس سے لطف اٹھانے کے بجائے کوئی کڑوا گھونٹ پی رہے ہوں۔ جبکہ غریب کو اگر ایسا موقع میسر آجائے تو وہ دو تین ماہ اس کے سحر سے نہیں نکلے گا۔ ہر وقت اسی تذکرے میں ہی لگا رہے گا۔ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ غریب کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرے۔ غریب پر ٹیکس کا بوجھ کم ڈالے۔ غریب کی زندگی کو مشکل بنانے کے بجائے آسان بنانے والے منصوبوں پر غور کرے اور پہر شروع بھی کردے۔

لقمان ہزاروی

لقمان ھزاروی  گزشتہ دو سالوں سے سیاسی، سماجی اور معاشرتی مسائل پر اپنے خیالات قلمبند کررہے ہیں۔ وہ ایک اچھا کالم نگار اور لکھاری بننا چاہتےہیں، ایک ایسا قلم کار جو حقائق پر مبنی تحاریر لکھے، حق و سچ کا بول بالا کرے۔