Thursday, 17 October 2019

امتحان

انسانی زندگی خوشی، غمی، امتحان، آسانی سے مزین ہے۔ ہر آسانی کے بعد مشکل اور ہر مشکل کے بعد آسانی لازم ہے۔ ضرورت بس ثابت قدمی کی ہے۔ کم ظرف لوگوں کا پیمانہ چھلک جاتا ہے اور اپنے آپ کو خود کشی کے ذریعے ختم کرنے میں کامیابی محسوس کرتے ہیں۔ کامیابی یہی ہے کہ ہمارے ظرف کا پیمانہ کسی طور نہ چھلکے۔ یہ زندگی اللہ کریم نے اس دنیا کے لئے صرف ایک مرتبہ ہی ودیعت کی ہے۔ اسے اس طرح سے گزاریں کہ آسانی ملے تو اس رب کریم کا سجدہ شکر ہو، مشکل ہو تو بھی اظہار سجدہ شکر سے ہو۔ ساتھ ہی ساتھ جہد مسلسل وہ بھی درست سمت میں لازمی امر ہے۔ وسیلہ بھی وہی مہیہ کرتا ہے۔

سن 2001 میں فسٹ ایئر کا امتحان پاس کیا تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اب سے مزید 7-8 ماہ بعد تعلیمی امتحان کے ساتھ ساتھ، زندگی کے امتحان کے پرچے بھی دینے پڑیں گے۔ دونوں امتحانوں میں کامیابی لازمی تھی، یوں سمجھیں کہ طارق عزیز صاحب والی 'دہ غلطی گنجائش نشتہ'۔

سال اول میں 400 میں سے کچھ ہی نمبر کم آئے تھے اور سوچا تھا کہ اگلے سال مزید محنت کرنا ہے اور کم از کم 450 میں سے کم از کم 400 نمبر حاصل کرنا ہیں۔ مقصد 800 کا ہندسہ عبور کرنا تھا۔ اس دوران تیاری یوں ہوتی کہ صبح ساتھ بجے تک نہانے اور ناشتے سے فراغت پاتے ہی رجسڑر اور درسی کتب اپنے سامنے رکھ لیتے، رجسٹر پہ سوال حل کرتے کرتے شام کے 4 بج جاتے۔ نہ رجسٹر ختم ہوتا نہ ہی حوصلہ۔ اس زمانے میں رجسٹر کا کاغذ تول کے حساب سے مل جاتا تھا۔ ایک کلو کاغذ کا بائنڈنگ کے بعد اچھا خاصا رجسٹر بن جاتا۔ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا، تا وقت یہ کہ دوسرے امتحان کی تیاری کا وقت بھی شروع ہوا۔

ابو جی، پرائویٹ ملازمت کرتے تھے، محنت اور ایمانداری میں کبھی کمی نہیں آنے دی۔ اپنے اسی خاصے کی بنا پہ باس کی آنکھ کا تارا بنے۔ سیلز کے سارے معاملات اب ابو جی ہی دیکھتے۔ یہ وہ دن تھے جب ہم پہ بھی خوشحالی آئی۔ لیکن ہمارے معاشرے کا مسئلہ یہ ہے کہ کھاتے کو دیکھ نہیں سکتے اور بھوکے کو کھلا نہیں سکتے۔ لگ گئی کسی حاسد کی نظر۔ ایک دن باس سے کسی بات پہ تلخ کلامی ہوئی، جو ابا جی نے استعفی باس کے میز پہ رکھ کے ختم کی۔

قانون یہ تھا کہ تب کے باس اپنے فارغ شدہ ملازمین کو بقایا جات دینے کے زمرے میں تنگ کیا کرتے۔ ابا جی اس بات سے واقف تھے سو کہا کہ تب تک مکان خالی نہیں ہوگا جب تک بقایاجات ادا نہیں ہو جاتے۔ اب تقریبا ہر دوسرے تیسرے روز نوٹس موصول ہوتا کہ گھر خالی کرو۔ عجیب پریشانی، امتحان در امتحان۔ تب ابا جی لاہور آچکے تھے، گھر کی تعمیر کے سلسلے میں۔ میں کبھی ابا جی کے دفتر جاتا، کبھی گھر، کبھی گھر کے سامان کی پیکنگ کے معاملات دیکھتا۔ ہفتہ وار کچن کا سامان لانا بھی میری ذمہ داری ٹھری۔ اس دوران تعلیمی تیاری تقریبا مفقود ہوگئی۔

پھر یوں ہوا کہ میں لاہور تھا، اور باقی افراد پشاور، میری غیر موجودگی میں سامان ٹرک پہ لوڈ ہوا۔ ہمارے محلے والے لوگوں نے اپنے آنسوں سے وداع کیا۔ اگلے دن سامان لاہور پہنچا، آف لوڈ کیا۔

اصل امتحان ابھی باقی تھا۔ میں اپنی بہن اور امی کے ہمراہ پشاور گئے کہ دونوں کے بورڈ کے امتحان ہونا تھے۔ امی جی نے بہن کو اپنی ایک سہیلی کے گھر چھوڑا لیکن میں اس گھر میں نہ رہ پایا۔ جہاں جگہ ملی وہ ایک کمرہ جس میں سامان ٹھنسا پڑا تھا۔ گرمیوں کے دن اور میں۔ غسل خانہ ایسا جیسے صدیوں سے استعمال نہ ہوا ہو۔ کچھ دن تو جیسے تیسے گزارے۔

کچھ دونوں بعد اپنے محلے کا چکر لگایا وہاں ایک محلے دار ملے، مجھے پوچھا پریشان ہو۔ اپنی کہانی سنائی کہ یہ مسئلہ ہے۔ کہا تو پھر کیا ہوا۔ میرا گھر ہے وہاں آجاو، وہاں رہو۔ اپنا مختصر سا سامان اٹھایا اور انکے گھر۔ ان کے ہاں جو دن گزارے، شاید میں ساری زندگی بھی اس احسان کا بدلہ نہ چکا سکوں۔ اس عالم میں کبھی اپنی پڑھائی، کبھی بہن کی طرف، برتن دھونا۔ کوئی ایک پریشانی ہوتی تو۔ ایسے عالم میں سیکنڈ ائر کا امتحان دیا، جی سی لاہور میں داخلہ ملا اور اب ایک باعزت نوکری کر رہا ہوں۔

ان کے لئے شاید یہ چھوٹی سی بات تھی، لیکن میرے لئے بہت بڑی بات تھی اور ہے۔ آج بھی میں ان کا احسان مند ہوں اور شاید تاقیامت رہوں۔ یہ دنیا اگر اب تک باقی ہے تو اس کا سبب ان جیسے اچھے لوگ ہیں۔  جو بغیر کسی لالچ خالصتا انسانیت کی خاطر اور اپنے اللہ کو راضی کرنے کی خاطر نیکی کرتے ہیں۔ میرے پاس انکے لئے صرف ایک ہی لفظ ہے 'شکریہ'۔

سید تنزیل اشفاق

سید تنزیل اشفاق، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل، سافٹ ویئر انجینیر ہیں۔ اردو، اسلامی، سماجی ادب پڑھنا اور اپنے محسوسات کو صفحہ قرطاس پہ منتقل کرنا پسند کرتے ہیں۔