Sunday, 15 September 2019

خوشی

انسان کی خواہشات کی فہرست شاید کبھی مکمل نہیں ہوتی۔ ہر خواہش کی تکمیل پہ انسان کو ایک عارضی خوشی ملتی ہے۔ گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ یہ خوشی بھی تحلیل ہو جاتی ہے۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد جب کبھی اس خوشی کے بارے خیال آتا ہے، تو لگتا ہے کہ یہ بھی کیا خوشی تھی جس پہ جشن منایا تھا۔ اسے بھلا خوشی کہتے ہیں؟

ہم اپنی ابتداء سے سونے یا چاندی کا چمچ کے کر اس دنیا میں نہیں آئے۔ والد محترم کے کندھوں پہ بچپنے سے ہی گھر کی ذمہ داری آن پڑی تھی، سو صرف فاقہ نہیں دیکھا باقی ہر طرح کے حالات کا سامنا رہا۔ وقت کے ساتھ ساتھ والد محترم کی تپسیہ کی بدولت دنوں نے پھیر کھانا شروع کیا۔ اپنے سکول کے زمانے میں دوسری کلاس تک والد محترم نے اپنی بساط سے بڑھ کر انگلش میڈیم سکول میں داخل کروایا لیکن ہمت جواب دے گئی۔

دوسری جماعت کے بعد سکول بدلا، جس کی فیس پہنچ میں تھی۔ آنے جانے کا خرچہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ جیسے تیسے پرائمری پاس ہوئی ایک سرکاری سکول سے دوسرے وفاقی سکول داخل ہوئے۔ روزانہ کے چار روپے ملتے۔ دو روپے جانے کے اور دو آنے کے۔ اس زمانے میں یہ چار روپے ہماری خوشی کا سامان ہوا کرتا تھا۔

گھریلو سامان لانے کے لئے قریب نصف کلومیٹر دور جانا پڑتا جو پیدل مارچ ہوتا۔ روٹی لانی ہے، کریانے کا سامان، دن میں دو، تین چار مرتبہ، طریقہ کار ایک ہی پیدل مارچ۔ اس زمانے میں ایک، دو روپے 'پھٹی' کے خوشی کا سامان ہوتا۔ حالات کی بہتری کے ساتھ ہی ایک عدد چائنہ کی سائکل گھر ایک نئی نویلی دلہن کی طرح پدہاری۔ ہر ہفتے اس کا دھویا جاتا ایک یقینی امر تھا۔ اس کی سواری ابتدا میں تو والد محترم تک محدود تھی، لیکن نئی سائکل کے آنے کی خوشی جب کچھ معدوم ہوئی تو ہمیں بھی اسے چلانے کی اجازت مرحمت ہوئی۔ ہماری خوشی کے بکسے میں ایک اور خوشی کا اضافہ۔

اب گھر کی سبزی اتوار بازار سے آنا شروع ہوائی جو ہمارے گھر سے پانچ کلومیٹر دور تھا۔ ابتداء کی خوشی اب اپنا رنگ بدل چکی تھی۔ اگلی منزل تب آئی جب یونیورسٹی داخل ہوئے، ابا حضور دفتر میں لوکل ٹرانسپورٹ سے جاتے۔ ایک دن انکے باس نے پوچھ ہی لیا کہ آپ دفتر کیسے آتے ہیں، کہا لوکل۔ ایک عدد موٹر سائیکل لینے کا کہا گیا، جس کے لئے کچھ پیسے باس نے دئے، باقی کے پیسے ہماری کی ہوئی بچت سے پورے ہوئے۔ اپنی بچت جانے کا رنج تو تھا، مگر موٹر سائکل کا خیال ہی دماغ میں رس گلوں کی شیرینی گھول دیتا۔

وہ دن بھی طلوع ہوا جب ایک عدد سیکنڈ ہینڈ موٹر سائکل ہمارے گھر کی زینت بنی۔ گھر کے ہر فرد کی خوشی دیدنی تھی۔ گو اس کا استعمال اکثر صرف ابا حضور ہی کرتے، لیکن اس کی گھر میں موجود ہونا ہمارے لئے کافی تھا۔ کچھ عرصے بعد ایک سے دو، دو سے تین موٹر سائکلیں ہوئیں۔ وقتی خوشی ملتی اور پھر معمول پہ زندگی۔

اس سے بڑی خوشی تب ملی جب ہمارے گھر کے آنگن میں ایک عدد برانڈ نیو 'سوزوکی بولان' کی آمد ہوئی۔ اب تو گویا اپنے رشتے داروں میں بھی ایک دھاک سی بیٹھ گئی۔ اب جب بھی ننھیال یا ددھیال جاتے، ہمارے کر و فر ہی الگ ہوتے۔ کچھ عرصہ گزرا کہ یہ خوشی بھی معمولِ زندگی کا شکار ہوئی۔

اگلی باری 'سوزوکی ویگن آر' کی تھی۔ جیسے ہی ہمارے گھر داخل ہوئی گویا ہر فرد کا بی پی خوشی میں ہائی ہو گیا۔ اس میں بیٹھ کے تصویر کھنچوانا بڑے اعزاز کی بات لگتی۔ لیکن چھ ماہ بھی پورے نہ ہوئے کہ یہ خوشی بھی پرانی ہوگئی۔

آج اس مقام پہ زندگی کی پہلی 'چائنہ سائکل' کی خوشی عجیب سی لگتی ہے۔ سوچتا ہوں کہ کیا بچپنا تھا۔ آج سے مزید پانچ سال بعد آج کی خوشی بچپنا لگے گی۔ کیا ہر خوشی ایسی ہی ہوتی ہے؟ شاید نہیں۔

کچھ خوشیاں ہمیشہ کے لئے ہوتی ہیں۔ یہ وہ خوشیاں ہیں جو اللہ کریم کی خاص عطائیں ہیں۔ جیسے ماں، باپ، بہن، بھائی، جیسے کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، جیسے کسی بے لباس کو لباس عطا کرنا۔ جیسے کسی بچھڑے کو آپس میں ملا دینا۔ جیسے کسی غریب کی بیٹی بیاہنے میں مدد کرنا۔ جیسے کسی کی چھوٹی خوشی کے لئے اپنی بڑی خوشی قربان کردینا۔ اسی نوع کی دیگر خوشیاں ایسی ہیں جن کی چاشنی ہمیشہ رہتی ہے۔

آئیے ہم کوشش کریں کہ روز کوئی ایک ایسا عمل کریں جس سے اللہ کریم خوش ہوں، اس لئے کہ اُس کی خوشی ابدی ہے اور اگر وہ خوش ہو گیا تو ہماری خوشی بھی اس کی خوشی کی بدولت دوام پالے گی۔

سید تنزیل اشفاق

سید تنزیل اشفاق، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل، سافٹ ویئر انجینیر ہیں۔ اردو، اسلامی، سماجی ادب پڑھنا اور اپنے محسوسات کو صفحہ قرطاس پہ منتقل کرنا پسند کرتے ہیں۔