اتوار, 08 دسمبر 2019
/ کالمز / سید تنزیل اشفاق / مانو کا وِداع

مانو کا وِداع

خوش نصیب ہیں وہ انسان جو اپنی زندگی میں اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہو جاتے ہیں۔ اللہ کریم کا فضل ہے ان لوگوں پہ جو کسی طور اس ذمہ داری کے بجا لانے میں کسی طور شریک حال ہوتے ہیں۔ اس شرکت کی نوعیت کچھ بھی ہو سکتی ہے، آپ کی موجودگی، جانی، مالی، معاشرتی طور پہ سہولت فراہم کرنا۔ نتیجے یا توقع کا لالچ رکھے بغیر۔

یہ رُوداد پچھلے کچھ دنوں کی ہے۔ سوچا سپرد قرطاس ہو جائے تا کے یادوں کا ذخیرے کا حصہ بن سکے۔ اپنی سب سے چھوٹی بہن جسے پیار سے سب گھر والے "مانو" کہتے ہیں کا رشتہ منسوب ہو چکا تھا۔ تیاری بھی زور و شور سے جاری تھی، کہ محرم و صفر کا مہنہ آگیا۔ ان دو مہنوں کا ہمارے ہاں احترام کیا جاتا ہے اور خوشی یا ایسا کام جو سامانِ خوشی کا باعث بن سکے سے اجتناب برتا جاتا ہے۔ جیسے ہی ماہِ ربیع الاول آیا دوبارہ سے گہما گہمی کا آغاز ہوا۔ شاید کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب اہل خانہ کی خواتین شاپنگ پہ نہ گئی ہوں۔ اسی دوڑا دوڑی میں 10 نومبر 2019 کا دن آگیا۔ اس دن بہن کے سسرال والوں نے نکاح کا دن رکھنے آنا تھا۔ بارات کا دن 16 نومبر 2019 کا طے ہوا۔ یعنی صرف چھ دن بعد نکاح ہونا تھا۔

یہ چھ دن کتنے ہنگامہ خیز تھے پوچھئے مت۔ یہ رہتا ہے، یہ خریدنا ہے، یہ تو یاد ہی نہیں رہا، سامان بہن کے سسرال بھیجنا ہے۔ ایک لمبی فہرست جسے کامیابی سے عبور کرنا ایک مشکل کام تھا۔ لیکن اللہ کریم کے فضل و کرم سے سب کام اپنے اپنے وقت پہ ہوتے رہے۔

15 نومبر 2019 کو رسمِ حنا تھی۔ شرکاء کی آمد جاری تھی۔ حالات کچھ ایسے بنے کہ توقع کے مطابق شرکاء کی آمد ممکن نہ ہوئی۔ شام ہوتے ہی شرکاء دو حصوں میں بٹ گئے۔ خواتین و حضرات۔ خواتین پہلی منزل جبکہ حضرات دوسری منزل پہ۔ ماہِ ربیع الاول کی مناسبت سے محفل نعت کا اہتمام ہوا اس اسکے بعد طعام کا بندوبست۔ جسے سب شرکاء نے پسند کیا۔ فراغت رات گئے ہوئی۔

بچپن کے بچھڑے دوست مل بیٹھے اور لگے یادیں تازہ کرنے، کھلا آسمان، موسم میں ٹھنڈک کا اضافہ، ہاتھ میں یخ بستہ مشروب، کب صبح کے چار بجے کچھ پتہ نہیں چلا۔ لیکن  یہ محفل ہماری زندگی کی یادگار محفل تھی۔ صبح سویرے ناشتہ کے اہتمام کا ہُمہ بھی ہمارے ہی سر بیٹھا۔ نیند کی تکمیل تو ابھی بہت دور تھی، لیکن مہمانان گرامی کی خدمت مقدم تھی۔

16 نومبر کی وہ شام بھی آہی گئی جسکا خواب ہر لڑکا، لڑکی اور انکے والدین دیکھتے ہیں۔ بارات توقع سے ذیادہ تاخیر سے پہنچی۔ رسوماتِ نکاح جلدی میں ہی پایہ تکمیل کو پہنچے۔ پھر وہ گھڑی بھی آئی  کہ جس کے ساتھ آپ ساری زندگی لڑتے، مناتے گزارتے ہیں ایسے جدا ہوتی ہے جسکا بیان ممکن نہیں۔ قرآن کے سائے میں ماں، باپ اپنی بیٹی کو رخصت کرتے ہیں کہ اللہ ان کی بیٹی کو نظرِ بد سے محفوظ رکھے۔ بدلے میں بیٹی چاول سر سے اوپر گزار کے گراتی ہے کہ میں اپنے حصے کا رزق یہی چھوڑے جا رہی ہوں۔

سب سے بڑے بھائی کا اپنی سب سے چھوٹی بہن کو وداع کرنا ایک امتحان سے ہرگز کم نہیں۔ خدا جانے ان لمحات میں کیا امتحان پنہاں ہوتا ہے کہ پتھر دل بھی موم ہو جاتا ہے۔ آنکھوں سے آنسوں کی جھڑی لگ جاتی ہے۔ ضبط کے بندھن ٹوٹ جاتے ہیں۔ اور وہ لمحہِ آخر کہ جب وہ آپ سے جدا ہونے کو ہو، گاڑی تیار کھڑی ہو، آپ کی آنکھوں میں گزرا ہوا زمانہ چند لمحوں میں گزر جائے، آپ آہستہ سے بہن کے کان میں کہیں، بیٹا مری ساری غلطیاں معاف کر دینا۔ رشتہ داروں کے دلاسہ دینے کے باوجود آپ جدا نہ ہو رہے ہوں۔ سینے میں قیامت کی ہلچل ہو، جیسے سینا ابھی پھٹ جائے گا۔ جدا ہوتے ہی گاڑی کا چل پڑنا۔ ایک ایک لمحہ جیسے صدیوں پہ محیط ہو گیا ہو۔

ازل سے ہی ایسا ہوتا آیا، تا ابد ایسا ہی ہوگا۔ یہ امتحان ہر باپ، بھائی، ماں، بہن کو دینا ہے۔ دعا اور کوشش ہے کہ اس امتحان کے بعد ہر ماں، باپ، بھائی اور بہن کو آسانیاں ہی ملیں اور کسی بدنظرے کی نظر نہ لگے۔ کہ بیٹی اگر اپنے گھر خوش ہو تو ماں اور باپ کے دل ٹھنڈے رہتے ہیں۔ ورنہ جب تک زندہ رہیں باقی ماندہ زندگی کرب اور ازیت کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

اللہ کریم بحق محمد و آلِ محمد سب کو آسانیاں عطاء فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔

سید تنزیل اشفاق

سید تنزیل اشفاق، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل، سافٹ ویئر انجینیر ہیں۔ اردو، اسلامی، سماجی ادب پڑھنا اور اپنے محسوسات کو صفحہ قرطاس پہ منتقل کرنا پسند کرتے ہیں۔