1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. سید تنزیل اشفاق/
  4. رحمت کی واپسی بارِ دگر

رحمت کی واپسی بارِ دگر

خالقِ کائنات کے فیصلے اکثر ہم کم فہموں کو سمجھ نہیں آتے۔ ہر فیصلے پہ ہم سمجھتے ہیں گویا دنیا کے پہلے اور آخری مظلوم بس ہم ہی ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں۔ وقتی طور پہ فیصلہ گو گراں ہوتا ہے لیکن وہ کیوں ہوا، اس میں اللہ کریم کی کئی مصلحتیں شامل حال ہوتی ہیں جن کو ہم جیسے کوتاہ بین نہیں دیکھ پاتے۔ وہ مشکل وقت گزر جانے کے بعد جب اس فیصلے کی مصلحتوں کی افادیت کی گرھیں ہم پہ کھلنا شروع ہوتی ہیں تو سوائے یہ کہنے کے کوئی چارہ نہیں بچتا کہ شکرِ مولا۔

19 اپریل 2017 کو اللہ کریم نے ہمیں رحمت عطاء کی جو کچھ ساعتوں کے لئے ہمارے پاس رہی۔ ایک یا شاید دو گھنٹے۔ سر توڑ کوشش کے باوجود بھی ہماری کوششیں بار آور نہ ہوئیں۔ نہایت کرب کے عالم میں ہمیں "رحمت کی واپسی" تحریر کرنا پڑی۔ یہ تحریر سراپا کرب تھی، اس دوران جو ہم پہ بیتی اسے سپرد قرطاس کیا۔

16 اگست 2020 کو ہمارے اکلوتے ماموں جن سے ہمیں بے پناہ انس، پیار اور عقیدت تھی ہم سے جدا ہوئے۔ ماموں ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے سُسر بھی تھے، اس لحاظ سے انکا اور ہمارا رشتہ والد اور بیٹے کا بھی ہوا۔ انکے جانے سے یوں لگا جیسے ہم یتیم ہوگئے۔ انکے اور اپنے تعلق اور ساری کیفیت کو "الوداع" میں بیان کرنے کی کوشش کی۔

پھر یوں ہوا کہ 16 مئی 2021 کا دن آیا اور ہمارے لئے روشن دن کو تاریک رات میں تبدیل کر گیا۔ وہ دن کہ جس دن ہمارے "ابو جی" ہم سے جدا ہوئے۔ ان کا بیمار ہونا اور انکے اُس دنیا منتقل ہونے کے مراحل ہماری آنکھوں کے سامنے وقوع پزیر ہوتے رہے۔ ہم چاہ کر بھی ان کو اپنے پاس نہیں رکھ پائے۔ نہ کوئی دعا قبول ہوئی نہ ہی انکی جان کا دیا ہوا صدقہ کام آیا۔ افسوس تو یہ کہ ہم انکو کُھل کے رو بھی نہ پائے۔ ابو جی ہمارے سر کا تاج، ہمارے ماتھے کا فخر، ہماری آنکھوں کی عقیدت کا محور اور ہماری تربیت کرنے والے وہ بے مثل استاد جن کی نظیر ملنا محال۔ ہم نے کوشش کی کہ اپنے درد کو اپنے کالم "سید اشفاق حسین بخاری" میں رقم کریں۔

اوپر مذکور تین مثالیں ایسی ہیں کہ جب ہم اندر سے ٹوٹ گئے۔ پہلے دو واقعات جب وقوع پذیر ہوئے تو تھامنے والے ابو جی تھے۔ انہوں نے حوصلہ بھی دیا اور سرپرستی بھی کی۔ مگر تیسرا واقعہ ایسا بیتا ہم پہ کہ اب کوئی ایسا نظر نہیں آتا کہ جو سر پہ شفقت بھرا "پدری ہاتھ" رکھ کے دلاسہ دے۔  آس پاس کوئی بھی تو نظر نہیں آتا۔عجب نہیں کہ جن پہ یہ واقعات گزریں وہ صبر کا دامن چھوڑ بیٹھیں۔ اس بار بھی شاید ایسا ہی تھا۔ سینے میں اتنی گھٹن تھی پوچھیں مت۔

پھر یوں ہوا کہ 5 جون 2021کا سورج طلوع نہیں ہوا تھا کہ ایک اور امتحان پیشِ نگاہ تھا۔ رات دو بجے اپنے مولا کی بارگاہ میں سر جھکانے کو اٹھا۔عبادت خداوندی سے فراغت کے بعد تین بجے آنکھ لگی۔ بیگم صاحبہ تین بجے واش روم گئی اور وہیں فشارِ خون اسقدر بلند ہوا کہ سانس لینا دو بھر ہوگیا۔ آدھ گھنٹے بعد جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی ایک گھٹی ہوئی چیخ نے بیدار کیا۔ اوسان خطا، یا مالک یہ کیا ماجرا ہو گیا۔ فشار خون کی جانچ کی گئی جو بہت بلند تھا۔ ساتھ ہی ساتھ سانسوں کی آمد و رفت شدید متاثر۔

دن دس بجے سی ایم ایچ لے جایا گیا۔ انہوں نے جاتے ہی ایڈمٹ کیا اور پھر لگی دوائیوں پہ دوائیاں آنی، چکر پہ چکر۔ قریب دن 2 بجے یہ خبر سنائی گئی کہ ایمرجنسی آپریشن ہوگا۔ یہ خبر کیا تھی ایسا لگا کہ جیسے کسی نے پیروں تلے زمین کھینچ لی ہو۔

ایمبولنس منگوائی گئی، بیگم کو شفٹ کیا گیا۔ ہم ابھی وضو کر کے اپنے مولا کریم سے فریاد ہی کر رہے تھی کہ مولا کرم فرما، میں اتنے امتحان کیسے دے پاوں گا۔۔۔ ابھی پانچ منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ آواز آئی کہ نومولود کے کپڑے اور پیمپر کہاں ہیں لے آئیں۔۔۔ یقین نہیں آیا کہ میرے مولا تو اتنا قریب سے اتنی جلدی فریاد رسی کرتا ہے۔ فورا کپڑے حاضر کیئے گئے اور اللہ کی رحمت کو نرسری میں منتقل کیا گیا۔

شکر الحمد للہ، آج اللہ کی رحمت کو وصول کئے چھ دن گزر چکے۔ جیسے ہی اللہ کی رحمت کی آمد کی خبر ملی، الحمد للہ کہا، جب کان میں آذان و اقامت کہی، خوشی میں آنسو نکل آئے، کاش ابو جی ہوتے، یہ فریضہ وہ ادا کرتے۔ وہ آغوش جو "رحمت کی واپسی" کے سبب خالی ہوگئی تھی "رحمت کی واپسی بارِ دگر" کی بدولت پھر سے آباد ہوگئی۔ کسی بھی ماں کا غم دیکھنا ہو تو ویران آغوش والی ماں کو دیکھئے، اور خوشی دیکھنی ہو تو آباد آغوش والی ماں کو دیکھئے گا۔

میں اپنے اللہ کریم کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے، وہ دل جو چھلنی تھا، اس دل کے لئے اللہ کریم نے اپنی رحمت مرہم کے طور ارسال کی۔ میرے اللہ میں کیسے آپ کا شُکر ادا کروں، ہوں تو کم ظرف لیکن میری طرف سے سجدہ شکر قبول فرمایئے۔ اللہ کی رحمت کو ہم نے "سیدہ سکینہ عباس بخاری" سے موسوم کیا ہے۔ آپ سب سکینہ عباس کے حق میں دعا کیجئے گا۔

اللہ کریم ہم سب کو آسانیاں عطاء فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطاء فرمائے۔

سید تنزیل اشفاق

سید تنزیل اشفاق، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل، سافٹ ویئر انجینیر ہیں۔ اردو، اسلامی، سماجی ادب پڑھنا اور اپنے محسوسات کو صفحہ قرطاس پہ منتقل کرنا پسند کرتے ہیں۔