سید محمد زاہد30 دسمبر 2024افسانہ0281
بے انت اداسی و مایوسی اس انجام سے پہلے کی کہانی ہے۔ یہ تباہی ایک نئی آبادکاری لائے گی، یہ خرابی ایک نئی بحالی کی بنیاد بنے گی۔ موت ایک نئی زندگی کی ابتدا ہے: یہ
مزید »ڈاکٹر ارشد رضوی12 دسمبر 2024افسانہ1308
یہ تیزی سے غائب ہوتے دنوں کا قصہ ہے جو کسی کے ہاتھ نہیں لگے، اگر لگے بھی ہوں تو کچھ اسطرح جیسے کوئی احساس، جسے سمجھا نہ گیا ہو۔ لگا کوئی کائی لگی شے چھو کر گزر
مزید »سید محمد زاہد08 دسمبر 2024افسانہ1282
میں نے اسے پروپوز کیا تو وہ یوں سمٹ گئی جیسے چھوئی موئی کملا گئی ہو۔
تیز طرار زہرہ پہلی بار اپنی چوکڑی بھولی تھی۔ میں نے اسے بازوؤں میں سمیٹ لیا۔
اندھیری رات
مزید »سید محمد زاہد29 نومبر 2024افسانہ2305
میں بات بات کی آہٹ لیتے اونچے مکانوں سے گھری تنگ گلیوں میں اسے ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ گلیاں جہاں روشن دن میں بھی سورج کی کرنیں پہنچ نہیں پاتیں۔ جہاں بھوک اور مفلوک ا
مزید »سید محمد زاہد05 نومبر 2024افسانہ0271
اسوج کا مہینہ شروع ہوتے ہی گرمیاں رخصت مانگتی ہیں اور جاڑا دستک دینے لگتا ہے۔ اس مہینے میں بارش ہو جائے تو کسان بھی نہال ہو جاتا ہے"برسے اسوج تو ناج کی موج"۔ ہل
مزید »سید محمد زاہد31 اکتوبر 2024افسانہ0278
اب سفید بالوں نے کنپٹیوں پر ہنسنا شروع کر دیا تھا۔ برف کے ان گالوں نے چہرے پر چھائے سال ہا سال کے آلام کو ٹھنڈا ٹھار کر دیا۔ موسم خضاب شروع ہوچکا تھا لیکن مریم
مزید »شائستہ مفتی08 اکتوبر 2024افسانہ1325
آج پھر نوچندی جمعرات ہے۔
الہڑ ناری نے شام کے آسمان پر نظر ڈالی تو عین وسط میں نوچندی کا ہلال نئی دلہن کی طرح چمک رہا تھا۔ ہلال کے ایک کونے پر ایک چمکدار ستارہ
مزید »شائستہ مفتی28 ستمبر 2024افسانہ1387
کتنے ہی برس بیت گئے اسے اس جگہ اور ملک کو چھوڑے ہوے۔۔ ابھی کل کی ہی بات لگتی ہے کہ وہ اپنے والد کا ہاتھ پکڑ کر اس مسجد میں آیا کرتا تھا۔۔ ادب سے سر جھکاے ہوے خا
مزید »ڈاکٹر ارشد رضوی13 ستمبر 2024افسانہ12359
ملاقات ایک اچانک رونما ہونے والے واقعے کی دلیل ہوتی ہے۔ کچھ ایسا جو پہلے سے نہ سوچا گیا ہو لیکن وہ ہو جائے۔ کچھ ایسا ہی ہوا جب زمین کے ایک خاص حصے میں ملاقات ہو
مزید »سید محمد زاہد04 ستمبر 2024افسانہ12415
سردیوں کی لمبی اور اداس رت میں دھڑکنیں بھی برف ہو جاتی ہیں۔ اپریل کے مہینے میں سورج نے منہ دکھایا تو برف پگھلنا شروع ہوئی۔ درختوں سے جھانکتا سورج بمشکل اتنا گرم
مزید »