ریٔس احمد کمار15 جنوری 2025افسانہ1302
دفتر سے واپس گھر آنے اور چائے نوش کرنے کے بعد سلام خواجہ نے سیدھے نائی کے دکان کی طرف رخ کیا۔ اگلے روز انہیں دعوت پر جانا تھا۔ اس لیے اس کی بیوی نے اسے بال بنوا
مزید »شائستہ مفتی10 جنوری 2025افسانہ0345
وہ کتنے پیار سے اُسے دیکھ رہا تھا، مارے بوکھلاہٹ کے اُس کے ہاتھ سے گلاس چھٹتے چھٹتے رہ گیا، ہائے میں مر گئی! حیا سے اُس کے گال گلال ہو گئے، ہزاروں تتلیاں جیسے چ
مزید »سید محمد زاہد09 جنوری 2025افسانہ1305
"میرا دل اس کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا۔ وہ کتابوں میں کھویا تھا اور میں اس کے کتابی چہرے میں۔ گھبرو جوان پنجابی مرد، دراز قد، مضبوط ہاتھ پاؤں اور بڑی بڑی خمار
مزید »سید محمد زاہد30 دسمبر 2024افسانہ0295
بے انت اداسی و مایوسی اس انجام سے پہلے کی کہانی ہے۔ یہ تباہی ایک نئی آبادکاری لائے گی، یہ خرابی ایک نئی بحالی کی بنیاد بنے گی۔ موت ایک نئی زندگی کی ابتدا ہے: یہ
مزید »ڈاکٹر ارشد رضوی12 دسمبر 2024افسانہ1321
یہ تیزی سے غائب ہوتے دنوں کا قصہ ہے جو کسی کے ہاتھ نہیں لگے، اگر لگے بھی ہوں تو کچھ اسطرح جیسے کوئی احساس، جسے سمجھا نہ گیا ہو۔ لگا کوئی کائی لگی شے چھو کر گزر
مزید »سید محمد زاہد08 دسمبر 2024افسانہ1298
میں نے اسے پروپوز کیا تو وہ یوں سمٹ گئی جیسے چھوئی موئی کملا گئی ہو۔
تیز طرار زہرہ پہلی بار اپنی چوکڑی بھولی تھی۔ میں نے اسے بازوؤں میں سمیٹ لیا۔
اندھیری رات
مزید »سید محمد زاہد29 نومبر 2024افسانہ2326
میں بات بات کی آہٹ لیتے اونچے مکانوں سے گھری تنگ گلیوں میں اسے ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ گلیاں جہاں روشن دن میں بھی سورج کی کرنیں پہنچ نہیں پاتیں۔ جہاں بھوک اور مفلوک ا
مزید »سید محمد زاہد05 نومبر 2024افسانہ0290
اسوج کا مہینہ شروع ہوتے ہی گرمیاں رخصت مانگتی ہیں اور جاڑا دستک دینے لگتا ہے۔ اس مہینے میں بارش ہو جائے تو کسان بھی نہال ہو جاتا ہے"برسے اسوج تو ناج کی موج"۔ ہل
مزید »سید محمد زاہد31 اکتوبر 2024افسانہ0294
اب سفید بالوں نے کنپٹیوں پر ہنسنا شروع کر دیا تھا۔ برف کے ان گالوں نے چہرے پر چھائے سال ہا سال کے آلام کو ٹھنڈا ٹھار کر دیا۔ موسم خضاب شروع ہوچکا تھا لیکن مریم
مزید »شائستہ مفتی08 اکتوبر 2024افسانہ1479
آج پھر نوچندی جمعرات ہے۔
الہڑ ناری نے شام کے آسمان پر نظر ڈالی تو عین وسط میں نوچندی کا ہلال نئی دلہن کی طرح چمک رہا تھا۔ ہلال کے ایک کونے پر ایک چمکدار ستارہ
مزید »