Tuesday, 12 November 2019
/ کالمز / احسن اقبال / عوام کے نام اہم پیغام

عوام کے نام اہم پیغام

آج کل انتخابات کا موسم ھے اور ھمارے سیاسی لیڈروں کو عوام کی یاد آرھی ھے، اور جگہ جگہ عوام کے پنڈال لگائے ہوئے ہیں، کہ اس دفعہ پھرعوام کو کچھ خواب دکھا کر اور کچھ نئے پرانے وعدے دوھرا کر ووٹ حاصل کر لیں۔ اور ھمارے عوام بھی محض اُن کی تقریروں کو سن کر اُن کو اپنا قیمتی ووٹ دینے کے لیے تیار ھو جاتے ھیں۔ کچھ حضرات تو ایسے بھی ھیں کے جو صرف خاندان یا قبیلہ کی بنیاد پر کسی مخصوص فرد کے حق میں ووٹ ڈالٹے ھیں، قطع نظر اس بات سے کہ آیا وہ فرد اُس منصب کی اھلیت بھی رکھتا ھے یانہیں، جو منصب اسکے حلقہ کے عوام اس پر اعتماد کرتے ہوئے اسے سپرد کر رہے ہوتے ہیں۔ اورکچھ حضرات ایسے بھی ھیں جو ووٹ ڈالنے کی زحمت بھی نہیں کرتے۔ 

لیکن میرے مسلمان بھائیو اور بزرگو! یہ سب کب تک ھمارے ملک میں ھوتا رھے گا، اور ھم خاموش تما شائی بنے رھیں گے۔ 

اب چند دن باقی ہین تمام سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کے پیچھے لگیں ہیں اور ہر ایک کی کوشش یہ ہے کے عوام ان کا انتخابات میں ساتھ دیں۔ لیکن ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے کرتوت بھی عوام کو بتا رہے ہیں، اور یہ ایک ایسی دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی ہےکہ جس میں تمام پاکستانی ان کا بخوبی جائزہ لے سکتے ہیں۔ اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکتےہیں کہ ان کا آئندہ کا حکمران کون ہونا چاہیے۔ اور یہ فیصلہ ہمارے ملک کے وہ لوگ کریں گے جن کے ووٹ رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ لہذا اُن حضرات سے گزارش ہیکہ انتخابات کے دن اپنےووٹ کواستعمال کر کے اپناحقیقی محب وطن شہری ہونے کامکمل ثبوت دیں۔ اور وہ ووٹ جو آپکا قیمتی سرمایہ ہے، انہیں ان شخصیات کے چناؤ میں استعمال کریں جو پوری ریاست کے محافظ ہوں۔ نہ کہ ان لوگوں کوکہ جن کی سوچ و فکر کسی خاص علاقے یا افراد کی ترقّی کے لیے محدود ہو۔ اور ان انتخابات میں اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر کچھ لمحے اپنے ملک کے ان غریب عوام کا سوچیں، تپتی دھوپ میں جن کے پاس سایہ نہیں، سخت سردی میں جن کے پاس بستر نہیں، بیماری میں جن کو علاج میسر نہیں، غم کے دوران جن کا کوئی غم خوار نہیں۔ اگر ہمیں سب کچھ آسانی سے میسر ہے تو اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں، اگر آج ہم ان کا نہ سوچیں گے تو اللہ کا یہ فرمان ہمیں جنجھوڑ رہا ہے کہ:؛  

( "ان دنوں کو ہم لوگوں میں باری باری تبدیل کرتے ہیں"(س:۳ آیۃ۱۴۰

جب ہمارا اس فرمان الٰہی پر پورا یقین ہے، کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ کل کوہماری بھی معاشی حالت خراب ہو جائے اور ہمیں بھی کسی دروازے پر دستک دینی پڑ جائے، تو کیا اس وقت ہمیں ہوش آئے گی؟ کیا ہم اتنے گر چکے ہیں کہ ہمارا دل کسی غریب پر رحم نہیں کرتا؟۔ ۔

میرے ملکِ پاکستان کے نوجوان دوستو اور بزرگو۔ ۔ ۔ ۔ !۔ 

اس ملک کا آپ سے کوئی مالی یا جانی مطالبہ نہیں ہے۔ یہ ملک اس وقت تم سے ایک بااعتماد حکمران کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اور اس حکمران کو ہم نے اپنی صفوں میں تلاش کرنا ہوگا۔ ان ہی لوگوں میں کوئی مسیحا ہو گاجس کو اقتدار حوالے کیا جا سکتا ہے۔ جو ملک و قوم کا محافظ ہو۔ جو باطل قوتوں کی ملک مخالف سازشوں کو ناکام بنائے۔ جو ملک کو حقیقی معنوں میں ترقّی کی راہ پر گامزن کرے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان لوگوں کو رد کرنا ہو گا۔ جو ماضی میں کہتے رہے کہ ملک کامستقبل شاندار بنائیں گے، افسوس۔ ۔ !کہ وہ مستقبل جس کو شاندار بنانا تھا وہ حال بنا تو ان لوگوں نے ماضی کی داستانیں بیان کرنا شروع کر دیں، کہ ہمارے بڑوں نے یہ کارنامہ کیا تھا، جب ان کی تقریروں میں ان کے کارناموں سے زیادہ ان کے بڑوں کے کارنامے گردش کر رہے ہوتے ہیں۔ تو تب زبان پر یہ الفاظ آتے ہیں:  

 تھے تو آبا وہ تمہارے ہی، مگر تم کیا ہو؟ 

ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو 

اور اسی طرح کچھ لوگ۲۰۱۳ کے انتخابات سے پہلے ہی وزارت عظمیٰ کو اپنا مقدر سمجھنے لگے تھے۔ لیکن جب عوام نے اہمیت نہ دیتے ہوئےٹھکرایا تو ان سے یہ بات برداشت نہ ہو سکی، تو انہوں نے حکمران جماعت کی بھر پور مخالفت کی، اور اسی مصرفیت میں۵ سال گزر گئے۔ لیکن افسوس کہ جن لوگوں نے ان پر اعتماد کیا ان کو کیا صلہ ملا۔ ٹھیک ہے کچھ نہ کچھ کیا ہو گا، اتنا تو سب کرتے ہیں۔ لیکن وہ جووعدے کیے گئے تھے ۵ سال پہلے ان کا کیا بنا۔ ۔ صاحب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !۔ 

مجھے سب ہے یاد ذراذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔ 

اور عجیب بات یہ ہیکہ کچھ لوگوں کی زبان سے انکی تائید میں یہ الفاظ سننے کو ملے کہ نیا ٹیلنٹ ہے، انکو آزمالیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ پتہ نہیں انکے نزدیک پرانا کسے کہتے ہیں، کیوں کہ ۵ سال میں تو کچھ نہیں ہوا، آگے کس بنیاد پر ان سےامید لگائی جائے، سمجھ سے بالا تر ہے۔ 

لیکن اس دفعہ ان کو اگر شکست دینی ہے اور اس نظام کو ختم کرنا ہے تو ہمیں آگے بھڑنا ہو گا۔ بالخصوص ہمارے ملک کے نوجوانوں کو۔ کہ وہ ان انتخابات میں اپنا قیمتی ووٹ استعمال میں لائیں، اور اپنی قوم کے لیے کسی باشعور حکمران کا چناؤ کریں۔ اسکو ترقّی کی راہ پر گامزن کرنے میں اسکی مدد کریں۔ کیوں کہ کسی قوم کی ترقّی میں نوجوان طبقے کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔ اسی بارے میں شاعر مشرق علامہ اقبال نے کیا خوب کہا

کبھی اے نوجوان مسلم ! تدبّر بھی کیا تونے

وہ کیاگردوں تھاتو جس کاہےاک ٹوٹاہواتارا

 کوئی بھی پاکستانی یہ نہ سوچے کہ اسکے ایک ووٹ سے کیا فرق پڑے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے۔ اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اسکا ایک ووٹ کسی اھل کے حق میں آ جائے اور اس سے قوم کو کرپٹ مافیا سے نجات مل جائے۔ اور یہ ہی ایک ایسا موقع ہوتا ہے جس سے قومیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔ 

لھذا یہ انتخابات جتنے اہم ہیں، اتنا ہی ہمارے نوجوانوں کو اپنے جذبات کو قابو کرنا پڑے گا، اور تھوڑا سوچ و فکر سے کام لینا پڑے گا، کیوں کہ کچھ قوتیں ان کو جذباتی کر کےان کے ووٹ کو ہتھیانے کی ہر ممکن کوشش کریں گی۔ اوراگر انکے یہ جذبات کسی نا مناسب جگہ استعمال ہوئے تو اس سے ملک و قوم کو نقصان ہو گا۔ اور ساتھ ہی اس بات سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا ہمیں، کہ ا ب یہ تمام لوگ ٹولیاں بنا کرلوگوں کے پاس آئیں گے، ووٹ کے بھکاری بن کر، لیکن انکی گزشتہ کار کردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے، ملک پاکستان کے باشعور عوام کو ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے کے لیئے کسی باکردار شخصیت کا چناؤ کرنا ہو گا۔ 

 اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے، کہ کیا آپ نے اپنے اس پیارے وطن پاکستان کا ساتھ دینا ہے، یا پھر اس پر ایسے لوگوں کو مسلط کرنا ہےجس سے اس ملک کو کوئی فائدہ نہیں۔ ابھی وقت ہے کہ ہم دیکھیں اور جائزہ لیں کہ گزشتہ حکومت چاہے وہ وفاقی ہے یا صوبائی اس نےعوام کے ساتھ کیسا سلوک رکھا۔ کیا انکے وہ وعدے جو انہوں نے کیے تھے انکو پورا بھی کیا ہے؟۔ ۔ اگر نہیں کیا، توآئندہ انتخابات میں بھی اس سےزیادہ کی توقع نہ کیجیے گا۔ ۔ ۔ ۔ اور ان کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اوپر حکمرانی کا حق کسی اھل کو دیجیئے۔ 

اٹھو۔ ۔ ! کہ منزل قریب تر ہے۔