Thursday, 21 November 2019
/ کالمز / ایاز رانا / ای کامرس انڈسٹری اور معیشت

ای کامرس انڈسٹری اور معیشت

کسی بھی ملک کی معیشت کا دارومدار اس ملک کی درآمدات اور برآمدات سے منسلک ہوتا ہے۔

اگر ہم درآمدات برآمدات توازن کی مثال دیں تو پاکستان کی معیشت سے بڑھ کے کوئی اور مثال ہو نہیں سکتی اگر ہم تجزیہ کریں تو سن 18-2017 میں درآمدات اور برآمدات کا توازن تقریبا 20 سے 30 بلین روپےکا فرق تھا جو کہ انتہائی زیادہ ہے یعنی ہم 20 سے25 بلین کا سامان ایکسپورٹ کرتے تھے اور 50 سے 60 بلین کا سامان بیرون ممالک سے امپورٹڈ کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں ڈالر کی کمی محسوس کی جا رہی ہے اوراسکے اثرات معیشت پڑتے نظر آئے۔

اب بات کرتے ہے جدید اور ٹکینالوجی کے دورکی پاکستان اور دیگر اور ممالک ٹیکنالوجی سے فائدہ کیوں نہیں اٹھا پا رہے ای کامرس نے دنیا کی معیشت میں اپنا کردار ادا کیا ہے مگر پاکستان اور اس جیسے کئی ملکوں میں کیاای کامرس کا فیوچر ہے یہ ایک اہم سوال ہے۔ اگر ہم اپنے قریبی دوست ملک چین کی بات کریں تو وہاں پے قائم علی بابا ای کامرس انڈسٹری کی سب سے بڑی مثال ہے جس کے بانی جیک ما ہے۔

یہ کمپنی 1999 میں وجود میں آئی 20 سال بعد آج یہ ای کامرس کی کمپنی سالانہ 56 بلین ڈالر کی آمدنی کمانے والی کمپنی ہے اس کے ساتھ ہی ایمیزون جو کی ایک امریکی کمپنی ہے اور علی بابا کے قیام کے 4 سال بعد وجود میں آئی۔ ان کا کام کرنے کا انداز ایک جیسا ہے یعنی یہ دونوں ای کامرس انڈسٹری کی سب سے بڑی کمپنیوں میں شمار کی جاتی ہیں۔

ای کامرس انڈسٹری با ظاہر تو بہت آسان کام نظر آتا ہے اس کو دیکھا دیکھی پاکستان میں بھی بہت ہی چھوٹے چھوٹے پیمانے پر یہ کام کیا تو جا رہا۔۔۔ مگر ابھی تک علی بابا یا ایمیزون کا مقابلہ پر کوئی اور کمپنی وجود میں نہیں آئی ہے۔ چین کی 2018 سے 2019 میں 2650 بلین ڈالر کی ایکسپورٹ کی ہے اور اس میں علی بابا کا کتنا کا حصہ اس کا انداز آپ اوپر پڑھ چکے ہے۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا 5 بڑا ملک ہے اور پاکستان میں اسمارٹ فون صارفین کی تعداد 55 لاکھ سے زائد ہے جو کہ تقریبا آبادی کا 11 فیصد بنتا ہے۔

پاکستان میں اس وقت ای کامرس کی بات کریں تو سب سے زیادہ اس وقت سروسز کے شعبے میں استعمال ہو رہا ہے۔ جیسے کے اوبر اور کریم ٹیکسی سروس اور اس کے بعد فوڈ پانڈا جو کہ گھروں میں کھانے پہچانے کا کام کر رہی ہے مگر علی بابا جیسی کمپنی ابھی تک یہاں کام نہیں کر رہی اس کی سب سے بڑی وجہ انڈسٹری کے شعبے میں کمی اور پیداواری لاگت بڑھ جانا سب سے اہم مسئلہ ہے۔ پاکستان میں دراز ڈاٹ پی کے (Daraz.pk) نامی کمپنی کام تو کر رہی ہے مگر علی بابا نے 150 ملین ڈالر میں یہ کمپنی بھی خرید لی ہے اس کے بر عکس یہ بات قابل ذکر ہے کہ علی بابا پوری دنیا میں کیوں مشہور ہوئی وہ اس کی ساکھ ہے یعنی (credibility) ہے جو وہ اپنی ویب پر دیکھتا ہے وہ ہی چیز آپ کو مل جائے گی اس کے برعکس اس وقت پاکستان میں کریڈبیلیٹی کا فقدان ہے جو مال ویب پر دیکھایا جاتا ہے یا تو وہ ہوتا نہیں ہے یا اس کی قیمت جو لکھی ہوتی ہے وہ سامان گھر پہنچنے کے بعد کچھ اور ہو جاتی ہے اور ساتھ ساتھ معیار کی بھی کمی ہے۔

دوسری بات جو سب سے اہم ہے چین اس وقت دنیا کا نمبر ون مینوفیکچرنگ ملک ہے ایک اندازے کے مطابق چین میں 29 لاکھ سے زائد فیکٹریاں موجود ہیں جو تقریبا پوری دنیا میں اپنا بنایا ہوا مال سپلائی کرتی ہے اور جتنی بھی مقدار آپ کو درکار ہے مل جائے گی۔ خام مال سے لے کر تیار شدہ مال اس وقت چین امریکہ سمیت پوری دنیا میں سپلائی کر رہا ہے۔ پاکستان میں ای کامرس سے جڑے لوگوں کو چاہے کہ وہ کم از کم جو چیز اس وقت ویب پر فروخت کر رہے ہیں اس کو دیانتداری اور وعدے کے مطابق اپنے صارفین تک پہنچائے تاکہ اس ای کامرس انڈسٹری پر بھی پاکستان کی عوام کا اعتماد بڑھ سکے۔