اتوار, 08 دسمبر 2019
/ نظم / فاخرہ بتول / دسمبر اب کے آؤ تو

دسمبر اب کے آؤ تو

دسمبر اب کے آؤ تو، 

تم اُس شہرِ تمنا کی خبر لانا

کہ جس میں جگنوؤں کی کہکشائیں جھلملاتی ہیں

جہاں تتلی کے رنگوں سے فضائیں مسکراتی ہیں

وہاں چاروں طرف خوشبو وفا کی ہے

اور اُس کو جو بھی پوروں سے

نظر سے چھو گیا پل میں

مہک اُٹھا

دسمبر اب کے آؤ تو

تم اُ س شہرِ تمنا کی خبر لانا

جہاں پر ریت کے ذرے ستارے ہیں

گُل و بلبل، مہ و انجم، وفا کے استعارے ہیں

جہاں دل وہ سمندر ہے، کئی جس کے کنارے ہیں

جہاں قسمت کی دیوی مٹھیوں میں جگمگاتی ہے

جہاں دھڑکن کی لے پر بے خودی نغمے سُناتی ہے

دسمبر! ہم سے مت پوچھو ہمارے شہر کی بابت

یہاں آنکھوں میں گزرے کارواں کی گرد ٹھہری ہے

لبوں پر العطش ہے، بطن میں فاقے پنپتے ہیں

محبّت برف جیسی ہے یہاں

اور دھوپ کے کھیتوں میں اُگتی ہے

یہاں جب صبح آتی ہے تو

شب کےسارے سپنے

راکھ کے اک ڈھیر کی صورت میں ڈھلتے ہیں

یہاں جذبوں کی ٹوٹی کرچیاں آنکھوں میں چُبھتی ہیں

یہاں دل کے لہو میں اپنی پلکوں کو

ڈبو کر ہم سُنہرے خواب بُنتے ہیں

پھر اُن خوابوں میں جیتے ہیں

اُنہی خوابوں میں مرتے ہیں

دریدہ روح کو لفظوں سے سینا گو نہیں ممکن

مگر پھر بھی

دسمبر! اب کے آؤ تو

تم اُ س شہرِ تمنا کی خبر لانا

فاخرہ بتول

فاخرہ بتول نقوی ایک بہترین شاعرہ ہیں جن کا زمانہ معترف ہے۔ فاخرہ بتول نے مجازی اور مذہبی شاعری میں اپنا خصوصی مقام حاصل کیا ہے جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ فاخرہ بتول کی 18 کتب زیور اشاعت سے آراستہ ہو چکی ہیں جو انکی انتھک محنت اور شاعری سے عشق کو واضح کرتا ہے۔ فاخرہ بتول کو شاعری اور ادب میں بہترین کارکردگی پر 6 انٹرنیشنل ایوارڈز مل چکے ہیں۔