Thursday, 17 October 2019
/ کالمز / محمد محسن شیخ / عمران خان کی دبنگ تقریر

عمران خان کی دبنگ تقریر

سندھ میں خورشید شاہ کی گرفتاری کے بعد وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی گرفتاری متوقع ہے اور پھر اسکے بعد مسلسل گرفتاریوں کا سلسلہ چلنے کے بعد حکومتی وزراء کی گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔ ظاہر ہے بلا امتیاز کڑا احتساب سب کا ہونا ہے اور یہ ہونا بھی چاہیے۔ اگر احتساب کا یہ عمل الیکشن سے قبل ہی مکمل ہوجاتا تو آج موجودہ حکومت کو بے پناه مسائل اور چیلنجز کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور انشاء اللہ احتساب کا یہ عمل تیزی کے ساتھ اپنے منطقی انجام کی طرف گامزن ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ میں اقوام متحده کے ہیڈ کوارٹر میں دو ٹوک انداز میں خطاب کرکے عالمی طاقتوں کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ 80 لاکھ کشمیری قید ہیں، ‏اور عالمی ضمیر انسانوں پر ٹریڈ کو ترجیح دینے والے یہ نہ سمجھیں کہ انڈیا سوا ارب کی مارکیٹ ہے بلکہ یہ دیکھیں کہ اسکا تنازعہ ایک ذمہ دار ایٹمی قوت سے ہے اگرکشمیر پرجنگ ہوئی تو انکی انویسمنٹ کا کیا ہوگا آج اگر 8 ملین یہودی تو کیا 8 امریکن بھی اسی طرح قید ہوتے تو یہ یہودی لابی کب کی یکجا ہوکر اپنے امریکن کو چھوڑانے کے لیے حملہ آور ہوچکی ہوتی۔

ان عالمی طاقت کے ٹھیکیداروں نے ماضی سے لے کر اب تک کیا کیا ہے۔ کیا یونائٹڈ نیشنز نے دنیا کے درپیش مسائل حل کیے؟ کیا فلسطین کا مسئلہ حل ہوا؟ کیا یروشلم کا مسئلہ حل ہوا؟ کیا شام کا مسئلہ حل ہوا؟ کیا رخائن کا مسئلہ حل ہوا؟ کیا کشمیر کا مسئلہ حل ہوا؟ کیا اس یونائٹڈ نیشنز نے اسرائیل کو لگام ڈالی جس نے آج تک فلسطین کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ آج مودی سرکار کرفیو لگا کر پورے مقبوضہ کشمیر کو یرغمال بنا کر بیٹھا ہے۔

27 ستمبر کو اقوام متحده کی جنرل اسمبلی میں جو دبنگ خطاب عمران خان نے کیا ہے پاکستان کی تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی عمران خان کی دبنگ تقریر سن کر کشمیریوں سمیت امت مسلمہ کے دل خوشی سے سرشار ہیں۔ کشمیر اور اسلام کے معاملے پر انہوں نے قوم اور امت مسلمہ کے جذبات کی ترجمانی کی ہے اسلام کیخلاف ہونے والے پروپیگنڈے کو دلائل کے ساتھ رد کیا ہے عمران خان نے کشمیر کا مقدمہ ایسے لڑا ہے جیسے ایک مجاہد لڑتا ہے۔ اس مجاہد نے کہا فلسطین کی آزادی تک ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ دھرنا دینے والوں کے لیے عرض ہیں کہ آپ کو تو اب دھرنا ملتوی کرکے عمران خان کا ماتھا چومنا چاہیئے جس کو تم نے پورے سال یہودی ایجنٹ کہا آج اس نے مسلمانوں کو رلا دیا ہے۔

میں نے تاریخ میں پڑھا ہے کوئی مسلم لیڈر امت کا مقدمہ اس طریقے سے نہیں لڑ سکا جو اس مرد مجاہد نے لڑا ہے۔ عمران خان قدرت کا خاص عطیہ ہے ہم سعودیہ کو دیکھتے رہے ایران کو دیکھتے رہے ترکی کو دیکھتے رہے شام کو دیکھتے رہے پوری دنیا کی طرف دیکھتے رہے کوئی امت کی آواز اٹھائے اکیلے اس مرد قلندر نے امت کی آواز اٹھائی اور آج پوری دنیا کو اس نے اپنا گرویدہ بنا لیا ہے میری عوام سے اپیل ہیں کہ عمران خان کی سلامتی زندگی عمر دراز کے لیے خصوصی دعائیں کیجیے۔ اور عمران خان کا بھرپور ساتھ دیجئے۔

کیونکہ تاریخ ہمارے سامنے ہیں۔ دشمنوں کے گھر میں بیٹھ کر انکے منہ پر کہتا ہے کہ ہندوؤں نے سب سے پہلے خودکش حملے شروع کیے تم نے ہندوؤں کو دہشت گرد کیوں نہیں کہا تم مسلمانوں کو ہی دہشت گرد کیوں کہتے ہوں بہت بڑی بات ہے۔ ہمارے سابق حکمران تو ایسے بیٹھتے تھے کہ جیب میں لکھی پرچی گم ہوجاتی تھی تو الٹا بولتے تھے یہ مرد مجاہد بول تو رہا ہے امت کا کشمیر کا مقدمہ تو لڑ رہا ہے۔

تاریخ میں آج تک کسی مولوی نے کسی دین کے ٹھیکیدار نے کسی مسلم حکمران نے ایسا مقدمہ نہیں لڑا جیسا اس مرد قلندر نے امت کا مقدمہ لڑا ہے کہ ہم ایک اسلام مانتے ہیں۔ کہتے رہو قادیانیوں کا ایجنٹ ہے ارے بے شرموں تم نے دین اسلام کو بدنام کیا ہے۔ اس مرد مجاہد نے کہا اسلام ایک ہے ہم اس اسلام کو مانتے ہیں جو محمدﷺ کا دین ہے۔

بغض عمران رکھنے والے، عوام کو گمراہ کرنے والے، ملک کو دیوالیہ کرنے والے، ملک میں انتشار، عدم استحکام پھیلانے والے ملک چور ڈاکو کہتے ہیں کہ ایسی تقریروں سے کچھ نہیں ہونا ان چور ڈاکوئوں کو کوئی سمجھائے کہ تاریخ اٹھا کر دیکھو ماضی میں ایسی تقریروں نے تقدیریں بدل ڈالی تھیں۔ انشاء اللہ بہت جلد عمران خان کی یہ تقریر تقدیر بدلیں گی اس درویش مجاہد کے دور حکمرانی میں کشمیر بھی آزاد ہوگا اور پاکستان مضبوط معاشی قوت بن کر اپنے پیروں پر بھی کھڑا ہوگا انشاء اللہ۔