Thursday, 17 October 2019
/ کالمز / محمد محسن شیخ / کشمیر بنے گا پاکستان

کشمیر بنے گا پاکستان

مسئلہ کشمیر پر 50 سال بعد سلامتی کونسل کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں کشمیر کو بھارت کا اندورونی معاملہ نہ قرار دے کر پاکستان کے موقف کی تائید کی گی جس میں چین اور روس نے سفارتی محاذ پر پاکستان کی بھرپور حمایت کی سفارتی محاذ پر یہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا سلامتی کونسل کشمیر کی حیثیت دوباره بحال کرا سکتی ہیں۔

کیا سلامتی کونسل بھارت پر یہ دباؤ ڈال سکتی ہیں کہ بھارت آرٹیکل 370 کو بحال کریں کیا موذی مودی اپنا یہ فیصلہ واپس لے سکتا ہے نہیں لے سکتا مودی نے بارودی سرنگ پر پیر تو رکھ دیا ہے مگر خود بری طرح پھنس چکا ہے۔ اور خفیہ قوتیں پیچھے بیٹھ کر مودی سے جو فیصلے کروا رہی ہیں ان قوتوں میں امریکن اسرائیل اور آر ایس ایس اسٹیبلشمنٹ شامل ہیں یہ 1945 سے بیٹھی سلامتی کونسل نے کیا کیا ہے بھارت کشمیر ہڑپ کرگیا اسرائیل فلسطین نگل گیا لیبیا شام لبنان عراق وغیرہ پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں اور یہ بیٹھے جھک مار رہے ہیں۔

مجھے نہیں لگتا کہ سلامتی کونسل قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کروا سکے اسکے امکانات بہت ہی کم ہے اللہ کرے مسئلہ کشمیر قراد داد کے تحت حل ہوجائے تو یہ کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا۔ بہرحال ریاست پاکستان حکومت اور عسکری قیادت جارحانہ انداز میں سفارتی محاذوں پر ڈٹی ہوئی ہیں اور جس طرح چین، روس، سعودی، امارات کے وزرائے خارجہ نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی جو حمایت کیں ہیں سفارتی محاذ پر یہ الحمد اللہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہیں۔
ادھر ہم نظر ڈالتے ہیں حکومت کی ایک سالا کارکردگی پر عمران خان کی ایک سالا حکومت میں
احساس شیلٹر ہاؤس
ہیلتھ انشورنس
انڈسٹری کے لیے سستی گیس
فاٹا میں الیکشن
110 ارب کا فاٹا پیکیج
تمام محکمے منافع میں
ٹیکس نیٹ کا دائرہ وسیع تر
پاکستان کی سفارتی تنہائی ختم
تمام چور، قاتل اور منشیات اسمگلر گرفتار
کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن
فوج اور حکومت کا ایک پیج پر ہونا جنرل قمر جاوید باجوہ کی مزید تین سال کی توسيع کرنا حکومت کے زبردست اقدام ہیں
خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت
لفافے پریشان
انڈیا کو منہ توڑ جواب
کشمیر کو یواین میں لے جانا
جنوبی پنجاب کا بل پاس کرنا گردشی قرضوں کی تیزی کے ساتھ ادائیگی کرنا معاشی استحکام کے لیے بہتر پالیسی مرتب کرنا یہ حکومت کی کامیابیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں لیکن معاشی محاذ پر حکومت کو ابھی بھی بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔

معاشی استحکام پر حکومت کی بھرپور توجہ مرکوز تھیں کہ اچانک مسئلہ کشمیر کا معاملہ پیچیدہ ہوگیا۔ مودی سرکار نے کشمیر کی حیثیت کو ختم کرکے نہ صرف پاکستان کا بلکہ پورے خطے کا امن خطرے میں ڈالا ہے۔ موذی مودی کی بھڑکیں کہ ہم نے مقبوضہ کشمیر لے لیا اب ہم آزاد کشمیر گلگت بلتستان اور بلوچستان بھی لے گے۔ اوپر سے راج ناتھ سنگھ کی بونگی کہ ہم نیو کلئیر پہلے چلانے کا فیصلہ کرسکتے ہیں ارے ہم کیا چوڑیاں گھنگرو مہندی لگا کر بیٹھے ہیں کہ پاکستان کچھ نہیں کریں گا یہاں تو پہلے ہی رولا پڑا ہوا ہے کہ ان ایٹمی ہتھیاروں کو کس لیے رکھا ہوا ہے انہیں چلاتے کیوں نہیں قوم جزباتی ہیں ایٹمی حملہ کسی مسئلے کا حل نہیں سوائے انسانی جانوں کے ضیاع کے حکومت اور عسکری قیادت ان حالات کو بہت مثبت انداز سے ہینڈل کررہی ہیں۔

بھارت تو چاہتا یہی ہے کہ پاکستان جزبات میں بہہ کر حملہ کرنے میں پہل کردے اور دنیا کو بتایا جائے کہ پاکستان نے بھارت پر حملہ کردیا اور پھر اسکو جواز بنا کر بھارت اسرائیل کے ساتھ مل کر پاکستان پر حملہ آور ہوجائے۔ پاکستان اپنی جارحانہ سفارتی کاری کے زریعے دنیا بھر میں بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کررہا ہے۔ موذی مودی اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکے گا آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر اب بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔

پاکستان پر اس وقت سخت دباؤ ڈالا جارہا ہے ایک اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اور دوسرا آرٹیکل 370 کے خاتمے پر خاموش رہنے کا پاکستان کی سول عسکری دونوں قیادت کسی پریشر میں نہیں آنے والی ریاست پاکستان کسی بھی صورت اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گی اور نہ ہی مسئلہ کشمیر سے ایک انچ پیچھے ہٹے گی۔ مقبوضہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ  ہے بھارت نے پاکستان کی شہ رگ پر وار کیا ہے۔ ریاست پاکستان کشمیر پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں کریں گی میجر جنرل سر آصف غفور اور جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ ہم مقبوضہ کشمیر کی عوام کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے اسکے لیے ہم ہر حد تک جائے گے آخری گولی اور آخری سپاہی تک لڑے گے۔

اللہ تعالی اپنا رحم کریں مادر وطن پر یہ ایک اٹل حقیقت کہ نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشنگوئی کے مطابق غزوہ ہند کا معرکہ بالکل سر پر تیار کھڑا ہے۔ جو کسی بھی وقت مکمل جنگ کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان صاحب کو اب فوری طور پر سخت فیصلے کرنے چاہیئے اپنی کابینہ میں سنجيده لوگوں کو لائے اس کابینہ کے تمام وزرا کو فارغ کریں کیونکہ ریاست اب پروپر جنگ کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ وزیراعظم کو ایک وار کابینہ بنانی چاہیئے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر مثبت فیصلے کرسکے۔
انشاء اللہ کشمیر بنے گا پاکستان