Sunday, 15 September 2019

بیٹی

اللہ کریم نے کچھ رشتے ایسے خلق کیے ہیں کہ جب تک آپ اس رشتے کے حامل نہ ہو جائیں، آپ کو اس رشتے کا احساس، پاس و اہمیت حاصل نہیں ہو پاتی۔ ان رشتوں کا عرفان تب آتا ہے جب یہ رشتے آپ پہ بیت جائیں۔ بشمول ان رشتوں میں ماں، باپ، بہن، بھائی، بیٹا، بیٹی اور دیگر رشتے ہیں۔ ان میں سے ہر رشتہ اپنی حیثیت و اہمیت رکھتا ہے۔ ان میں سے ہر رشتہ جداگانہ اور منفرد احساس کا مالک ہے۔ ہر رشتہ کی الگ سے پہچان اور مٹھاس ہے۔

ان تمام رشتوں میں بیٹی کا رشتہ وہ رشتہ ہے جو منفرد اور اپنی نوعیت کا الگ ہی رشتہ ہے۔ بیٹی کی اہمیت صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس کو اللہ کریم نے بیٹی عطاء کی ہو۔ بیٹا اگر نعمت ہے تو بیٹی رحمت ہے۔ اللہ کی نعمت اور رحمت میں تفریق کوئی نہیں، لیکن ہم جیسے ناقدرے اللہ کریم کی رحمت ملنے پہ افسردہ ہو جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بیٹے والد کی جائداد کے وارث اور بیٹیاں جنازوں کی وارث ہوا کرتی ہیں۔ بیٹیاں جب تک پہنچ نہ جائے جنازہ نہیں اٹھایا جاتا کہ بیٹی پہنچنے والی ہے۔ بڑے بوڑھوں کو سنا کہ دعا مانگو کہ اگر اللہ سات بیٹے بھی عطا کرے تو پھر بھی ایک بیٹی اپنے اللہ سے مانگو، کہ وہ صحن ویران لگتے ہیں جہاں بیٹیاں نہ ہوں۔

نعمت کے باب میں اللہ کریم کی طرف سے حساب ہے اور رحمت کے باب میں کوئی حساب کتاب نہیں۔ ہاں یہ احسان الگ کہ اگر بیٹی کی پرورش ٹھیک کرلی تو آپ کی بخشش کی ضامن بن جائے گی۔ بیٹی چاہے زندگی کے جس حصے میں مرضی ہو، اپنے والدین سے بے انتہا پیار کرتی ہے۔ کیوں نہ کرے، کہ بیٹی کا تعلق نوع انسانی کی اُس شاخ سے ہے، جو ماں باپ کے گھر رہے تو مسافروں کی طرح، کہ ایک دن اسے بیاہ دیا جانا ہے۔ اگر قسمت اچھی ہو تو خوب، ورنہ سسرال میں بھی ایسے ہی دھڑکا لگا رہے کہ اب نکالی گئی کہ تب۔۔۔

ہماری قسمت میں اللہ کریم نے دو بیٹیاں لکھیں، ایک تو دینے کے کچھ ساعتوں بعد ہی واپس لے لی، دوسری بیٹی قدرتی طور پہ ایک بیماری کے ساتھ دنیا پہ آئی۔ جس کا سبب نامعلوم اور علاج بہت طویل اور صبر آزما ہے۔ مارچ 2019 میں پہلا آپریشن ہوا تو یہ سوچ کے ہی دل دھل جاتا کہ 6 سال کی بچی یہ سب کیسے برداشت کرے گی۔ جس کی عمر ابھی گڑیوں کے ساتھ کھیلنے کی ہے وہ آپریشن کا سامنا کر رہی ہے۔ جیسے تیسے پہلے آپریشن کا مرحلہ مکمل ہوا، دل کو ڈھارس بندھی کہ چلو اللہ کریم بہتر کریں گے اب چھٹی مل جائے گی اور گھر جا کہ کچھ سکون ہوگا۔

آپریشن کے اگلے دن اطلاع ملی کے پہلے آپریشن میں کچھ کمی رہ گئی ہے، اب دوسرا آپریشن ہوگا۔ ابھی پہلے آپریشن کے صدمے سے باہر نکلے ہی نہیں تھے کہ ایک اور صدمہ ایک اور امتحان۔ آپریشن کا دن اور انتظار کی رات جیسے صدیوں پہ محیط ہو۔ ایک دن کے وقفے سے دوسرا آپریشن ہوا۔ دو دن مزید ہسپتال میں رکنے کے بعد چھٹی مل پائی۔ اب کے یوں لگا کہ اگلا آپریشن شاید 2-3 سال میں ہی ممکن ہوگا۔۔۔

لیکن کیا کیجئے، مصیبت در مصیبت اور امتحان در امتحان۔ ابھی 4 ماہ بھی نہیں گزرے تھے کہ پہلے ہونے والے آپریشن میں دوباری خرابی آگئی، چیک اپ پہ پتہ چلا تیسرا آپریشن کرنا پڑے گا۔ جب یہ خبر ملی خون کی نسوں میں رفتار جیسے رک گئی ہو، جیسے آپ ہوا میں معلق ہوگئے ہوں۔ بیٹی آپریشن سے پہلے تک بالکل ٹھیک، خوش باش، لیکن جیسے ہی پری-آپریشن وارڈ میں منتقل ہوئی، بیٹی کی مسکان غائب ہو چکی تھی۔ وہ منظر اب بھی آنکھوں کے سامنے آئے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ وہ تصویر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کی، جب بھی اسے دیکھتا ہوں، دل سے اک ہُوک اٹھتی ہے۔

تیسرے آپریشن کے بعد بیٹی نے دو دن تک کچھ نہیں کھایا۔ آج شاید ہسپتال سے چھٹی مل جائے۔ سوچتا ہوں مجھ سے کون سی خطا سرزد ہوئی ہے، جس کی سزا بیٹی کو مل رہی ہے۔ لیکن یہاں تو امتحان دونوں کا ہے۔ لیکن اپنا ہر امتحان، ہر مصیبت پہ صبر آجاتا ہے جب اپنے مولا و آقا امام حسین علیہ السلام کا مصائب یاد آتا ہے۔

بیٹی کا درد بھول جاتا ہے، کہ میرے مولا ع کی بیٹی بھی درد سے گزری۔ وہ پاک بی بی جس کا سن 4 سال تھا، اپنے سامنے اپنے مظلوم بابا کو شہید ہوتے دیکھا، شامِ غریباں میں دامن کو آگ لگی، ظلم کی انتہا ہوئی جب کانوں سے بالیاں اتاری نہیں گئیں بلکہ اس انداز سے کھینچی گئی کہ ان زخمی کانوں کی وجہ سے جب کبھی پاک بی بی سر زمین پہ رکھ کہ سونے کا ارادہ کرتی تو کان دکھ جایا کرتے۔ ۔ ۔ ۔

دعا ہے کہ اللہ کریم ہر بیٹی کے نصیب اچھے کرے اور ہمہ جہت مصائب و آلام اور بیماریوں سے دور رکھے۔

 

سید تنزیل اشفاق

سید تنزیل اشفاق، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل، سافٹ ویئر انجینیر ہیں۔ اردو، اسلامی، سماجی ادب پڑھنا اور اپنے محسوسات کو صفحہ قرطاس پہ منتقل کرنا پسند کرتے ہیں۔