/ اسلامک / سید تنزیل اشفاق / شہیدِ مظلوم

شہیدِ مظلوم

آج 21 رمضان المبارک ہے، آیئے ایک منظر دیکھتے ہیں۔ ایک حجرے میں گھر کے تمام افراد جمع ہیں، ماحول سوگوار ہے۔ یوں لگتا ہے گویا تمام افراد کعبہ کے گرد افسردہ کھڑے ہوں۔ ایسے میں عین وسط میں لیٹے ہوئے زخمی کو غش سے افاقہ ہوتا ہے، آنکھیں نیم وا ہوتی ہیں، دیکھتے ہیں کہ سر بڑے بیٹے کی آغوش میں ہے، جس کی آنکھیں مسلسل برس رہی ہیں، پاوں کے تلووں سے کسی کی ریش مس ہو رہی ہے، غور سے دیکھا پتہ چلاکہ یہ چھوٹا بیٹا ہے، جس کے آنسووں سے پاوں کے تلوے تر ہیں۔ ۔
جیسے ہی زخمی کو کچھ ہوش آیا تمام افراد کی آنکھوں سے آنسووں کی جھڑی سی لگ گئی۔ زخمی جیسے آخری مرتبہ اپنے کنبے کے افراد کو دیکھ رہا ہو۔ اب آخری وصیت ہونا شروع ہوئی، بڑے بیٹے کے سر پہ وراثت کی دستار سجائی گئی۔ کنبے کے کچھ افرادکا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دیا گیاکہ اب تم ان کے وارث ہو۔
چھوٹے بیٹے کے ہاتھ میں بہن کا ہاتھ دیا گیا اور کہا بیٹا تم ان کے وارث ہو۔ ایسے میں زخمی کی ایک زوجہ نے رونا شروع کیا کہ میرا بیٹا کسی کے حوالے نہیں کیا؟ کہا یہ میرے علم کا وارث ہے۔ اس بیٹے کو علم دیا اور سب کو کہاکہ وہ اس علم کے نیچے آئیں۔ جیسے ہی آخری خواہش مکمل ہوئی۔ فضاء میں نالہ وشیون بلند ہوا کہ زخمی اب اس دنیا میں نہ رہا۔ ۔ ۔ ۔
قارین محترم، یہ زخمی میرے مولا و آقا امیر المومنین جناب علی علیہ السلام ہیں، جو غریب الوطن پردیس میں حالت نماز میں سر پہ زہر آلود تلوار لگنے سے شہید ہوئے۔ خدا لعنت کرے عبد الرحمن ابن ملجم پہ، جس نے میرے مولا حسن علیہ السلام، مولا حسین علیہ السلام اور میری آقا زادیوں کو یتیم کیا۔
شہید میرے مولا علی علیہ السلام بھی ہوئے اور میرے مولا حسین علیہ السلام بھی ہوئے، لیکن یہ فرق ضرور تھاکہ مولا جب شہید ہوئے ان کے پاس ساری آل اولاد تھی، لیکن ہائے غربت میرے مولا حسین علیہ السلام کی، جب شمر لعین نے تیرہ ضربوں سے سر تن سے جداکیا، نا بابا پاس، نا اماں پاس، نا بھائی پاس۔ اکیلا ہے میرا مولا حسین علیہالسلام۔ ۔ ۔
الا لعنت اللہ علی القوم الظالمین۔ ۔ ۔

سید تنزیل اشفاق

سید تنزیل اشفاق، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل، سافٹ ویئر انجینیر ہیں۔ اردو، اسلامی، سماجی ادب پڑھنا اور اپنے محسوسات کو صفحہ قرطاس پہ منتقل کرنا پسند کرتے ہیں۔