Sunday, 15 September 2019
/ اسلامک / سید تنزیل اشفاق / عید غدیر اور ہم

عید غدیر اور ہم

آج 18 ذی الحج ہے، آج تکمیلِ دین ، تکمیلِ ایمان، تکمیلِ عشق اور تکمیلِ عہد کا دن ہے۔ ہم میں سے بہت سوں کو شاید علم نہ ہو کہ آج کا دن عید کے دنوں میں سے ایک دن ہے۔ عموماََ عالم اسلام دو ہی عیدوں سے متعارف ہے اور عملاََ دو ہی عیدوں کو منایا جاتا ہے۔ اگر ہم عارفین، اولیاء اور صاحبان علم سے استفسار کریں تو وہ یقیناََ اس امر کی گواہی دیں کہ آج کا دن نہایت متبرک اور خوشی کا دن ہے۔ آج کا دن باعثِ مسرت کیوں ہے؟ اس کی کئی جہتیں ہیں۔ پہلی وجہ تو قرآن کریم ہی نے بیان کی ہے ۔۔

[الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن دِينِكُمْ فَلاَ تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا][ المائدة-3] 

آج کافر لوگ تمہارے دین سے مایوس ہو گئے، سو تم ان سے مت ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرا کرو۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کر لیا۔

جس جدوجہد کو نبی کریم نے شروع فرمایا تھا  آج اس جدوجہد کی تکمیل کا دن ہے۔اگر آپ اندازہ لگانا چاہیں کہ کتنی صعوبتیں رسول کریم کو اٹھانا پڑیں تو ہمارا مشورہ ہے کہ ایک مرتبہ دی میسیج(The Message) فلم ضرور دیکھیں۔ اگرچہ یہ فلم مکمل طور پر ان مصائب کا احاطہ تو نہیں کر سکتی مگر پھر بھی ایک اچھی کاوش ہے۔

دوسری وجہ تکمیل عہد کا دن، وہ عہد جو نبی کریم نے دعوت ذوالعشیرہ  کے آغاز میں کیا تھا۔ کہ آج کے دن جو بھی میرا ساتھ دے گا وہ میرا بھائی بھی ہوگا، میرا وزیر بھی ہوگا اِس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں بھی۔ تاریخ شاہد ہے اس صدا پہ ایک چھوٹا سا بچہ اٹھا اور کہا لبیک یا رسول اللہ۔ میں آپ کا ساتھ دوں گا، میں آپ کی نصرت کروں گا۔ سامعین میں سے کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے رسولِ کریم کو ہنس کر طعنہ مارا تھا کہ یہ چھوٹا سا بچہ ساتھ دے گا اب۔۔۔ تاریخ اسلام اس امر پہ شاہد ہے اس بچے نے یہ وعدہ ساری زندگی نبہایا۔ ہر اس جگہ آپ کو یہ بچہ دکھائی دے گا جہاں اسلام اور رسول کسی قسم کے خطرے میں ہوں۔ یہ بچہ کوئی اور نہیں امیر کائنات، یعسوب الدین، امیر المومنین، امام اول،  برادر رسول، خونِ رسول، نفسِ رسول، بابِ رسول،  داماد رسول، فاتح بدر و احد و خیبر و خندوق و حنین،  ناصر رسول، ناصر اسلام حضرت علی علیہ السلام ہیں۔

میں نبی و علی علیھم السلام پہ فدا ہو جاوں، مقام غدیر خم پہ سوا لاکھ اصحاب کرام کے اجتماع میں، چلچلاتی دھوپ میں رسول مقدس نے تمام اصحاب کو روکا اور ممبرِ پالان  سجایا اور ممبر پہ جلوہ افروز ہو کہ نہایت فصیح و بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا  اور اپنے بھائی علی کو ممبر پہ بلایا اور اصحاب کرام سے فرمایا من کنت مولا، فھذا علی مولا۔ رسولِ مقدس کا یہ اعلان کرنا تھا کہ اصحاب کرام  حضرت علی علیہ السلام کے پاس آتے اور کہتے یا علی آپ کو مبارک ہو آپ ہمارے اور تمام مومنین کے مولا ہو گئے۔ یہ وہ دن ہے جو نور علیٰ نور کی واضح تمثیل تھی۔ میدان غدیر کے مقام پہ تمام نفوس نہ صرف خوش تھے بلکہ مبارکبادیاں دی جا رہی تھی۔ اصحاب علی علیہ السلام سے گلے مل مل کے اس کا اظہار کرتے رہے۔

آج کے دن بھی دوسری عیدوں کی مثل  نئے کپڑے پہننا چاہئے، ایک دوسرے کو اس دن کی مبارک باد دینی چاہئے۔ آج تاج پوشی امیر المومنین ہے۔ آج  نہ صرف زمین پہ خوشیوں کا اظہار ہو رہا ہے،  بلکہ آسمان پہ بھی خوشیاں منائی جا رہی ہونگی۔ تمام فرشتے ایک دوسرے کو تہنیت کے پیغامات دے رہے ہونگے۔ آج وہ دن ہے جس دن ہم اجر مودت  فی القربا کا اظہار کریں۔

آیئے  آج کے دن ہم خوشی کے اظہار کے ساتھ اپنے اندر موجود ایک خامی کو ختم کرنے کا عہد کریں، کوشش کریں، نیت کریں۔ کہ کچھ ہی روز بعد محرم کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ آیئے ہم خانوادہ رسالت کی خوشی میں خوش اور مصائب میں سوگ منا کر اس قابل ہو سکیں  کہ وہ ہمیں کہیں کہ یہ ہمارا ہے۔ تمام مسلمانانِ عالم کے لیئے نیک خواہشات اور عیدِ غدیر مبارک۔

سید تنزیل اشفاق

سید تنزیل اشفاق، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل، سافٹ ویئر انجینیر ہیں۔ اردو، اسلامی، سماجی ادب پڑھنا اور اپنے محسوسات کو صفحہ قرطاس پہ منتقل کرنا پسند کرتے ہیں۔