/ اسماعیل آفتاب / پانی کا قطرہ

پانی کا قطرہ

یہ کہانی ایک لالچی بادشاہ کی ہے، جسے دھن، دولت سے بہت لگاؤ تھا، جسے اپنی سلطنت، اپنی حکمرانی پرگھمنڈ تھا، اور جسے اپنی دولت، ہیرے، جواہرات پر غرور و تکبر تھا، اُس میں بھی فرعونیت کے آثار موجود تھے، وہ ہر وقت اپنے قبضہ میں موجود قیمتی ہیرے، جواہرات کو دیکھتا رہتا، اور دل ہی دل میں خوش ہوتا رہتا، اس نے شاہی محل کے دور، جنگل میں موجود کسی ایک غار میں اپنے ہیرے جواہرات چھپا رکھے تھے، اس غاراور، اس غار میں موجود بیش بہا قیمتی جواہرات کا علم بادشاہ اور اس کے وزیر کے علاوہ کسی کو نہ تھا، بادشاہ کبھی کبھار، اپنے وزیر کو ساتھ لیئے اس غار کی طرف جاتا، اور اس میں موجود ہیرے، جواہرات کی آرائش کرتا رہتا، اور اپنے امیر اور بادشاہ ہونے پر غرور کیا کرتا، ایک دن بادشاہ بغیر اپنے وزیر کوبتائے، اُس غار میں گیا، اتفاقا، اسی دن وزیر کسی کام سے جارہا تھا، تو اس کا گزر بھی اُسی جگہ سے ہوا، اس نے غار کو، کھلے ہوئے دیکھا تو سوچا کہ بادشاہ توبغیر میرے یہاں نہیں آتے، اور ہمارے علاوہ کسی کو اس جگہ کا علم بھی نہیں، لہذاقلت وقت سے اس نے اندر جانے کی زحمت نہ کی، اور غار کو بند کر کے اپنے کام کی طرف چل پڑا، غار کے اندر بادشاہ ہیرے جواہرات کی آرائش میں مشغول تھا، وہ یکدم لپکا، مگر غار مکمل طور پر بند ہو چکا تھا، اور غار کے باہراب کوئی بھی موجود نہ تھا، جو مدد کو آتا، بادشاہ غا ر کے اند ہی چیختا، چلاتا رہا، مگر مدد کو کون آتا؟، جب کافی وقت گزر گیا تو بادشاہ کو پیاس ستانے لگی، مگر وہاں پینے کے لئے ذرہ پانی بھی موجود نہ تھا، اسی پیاس کی حالت میں جب اسے یقین ہو گیا کہ اب زندگی کے بچنے کا کوئی چانس نہیں، اور نہ ہی غار سے باہر نکلنے کا موقع ہے تو، مرنے سے پہلے اُس نے کاغذ پہ ایک نوٹ لکھا، کہ "یہ سارے ہیرے جواہرات، پانی کے ایک قطرہ قیمت کے برابر نہیں، کہ جو مجھے مل جاتا اور میں کچھ دیر زندہ رہ پاتا"۔ جی ہاں! پانی کے ایک قطرہ برابر قیمت کے۔
آپ اپنے اردگرد دیکھ لیجئے، آپ کو بھی نوعیت  کے کئی چھوٹے چھوٹے فرعون ملے گے، جواپنی پوری عمرپیسہ کمانے اور اُسے بچانے کے پیچھے لگے رہتے ہیں، ان لوگوں کے دلوں میں موجود لالچ کبھی کم نہیں ہو پاتی، اونچے اونچے مکان، بڑے بڑے بنک بیلنسزاور اچھا معیار زندگی ہونے کے باوجود، ان کے اندر موجود حرص، لالچ اور طمع کم ہونے کا نام نہیں لیتی، اسی دولت کی لالچ کے پیچھے، لوگ اپنے ہی خون کے خود پیاسے ہو جاتے ہیں، زمین، دولت اور جائیداد کی خاطر بھائی اپنے ہی بھائی کوٹ، کچہریوں میں ذلیل کرتا ہے، آپ غوروفکر کر کے دیکھ لیجئے، آپ کو اسی دولت کے پیچھے لوگ لڑتے اور مرتے نظر آئیں گے، دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ملیں گے جو بہت زیادہ امیر ہونے کے باوجود بھی اتفاق کے ساتھ زندگی بسر کرتے نظر آتے ہیں، جب انسان کے پاس دولت اور اس کے دل میں لالچ آجاتی ہے تو وہ لالچ کسی کو کسی کا نہیں رہنے دیتی، یہ دولت کی لالچ انسان سے اُس کے عزیزواقارب، دوست تک چھین لیتی ہے یہ اسے ہر رشتہ سے بیگانہ بنا دیتی ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ ہر انسان دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں ہے، آپ کبھی انسان کی نہ ختم ہونے والی خواہشات کا تجزیہ کر کے دیکھ لیجئے، جو انسان کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیتی، انسان تکمیل خواہشات کے پیچھے پوری عمر صرف کر دیتا ہے، آپ اردگرد دیکھ لیجئے، آپ کو امیر سے زیادہ غریب سکھ، چین اور امن سے زندگی گزارتا نظر آئے گا، اور آپ کو غریب، امیر سے زیادہ، سخی، رحم دل اور خدا ترس معلوم ہوگا، بسبب لالچ، دولت مند افراد مضطرب نظر آئیں گے، مال و دولت کی حرص و لالچ کرنے والوں کا حال ویسا ہی ہے، جیسا کہ اُس بادشاہ کا، کہ جس نے پوری عمر دولت، ہیرے اور جواہرات اکٹھے کرنے میں صرف کر دی، اور آخر میں مرتے وقت پوری دنیا کو نصیحت کر گیا کہ یہ ہیرے، جواہرات اپنی قیمت میں پانی کےایک قطرہ برابربھی نہیں۔