1. ہوم
  2. غزل
  3. شائستہ مفتی
  4. دو گھڑی راہ میں ملتے ہی جدا ہو جانا
Shaista Mufti

دو گھڑی راہ میں ملتے ہی جدا ہو جانا

دو گھڑی راہ میں ملتے ہی جدا ہو جانا
مجھ پہ جچتا نہیں اے دوست خفا ہو جانا

طوطئی دل کی بھلا کون سنے محفل میں
بزمِ اغیار میں تو میری صدا ہو جانا

وادئی عشق کی منہ زور ہواؤں سے سنو
عین ممکن ھے محبت میں فنا ہو جانا

تجھ کو پابند وفا کرکے بھی کیا حاصل ہو
تو بدلتے ہوئے موسم کی ادا ہو جانا

اب کہاں شبنمی خوابوں سے مہکتے مسکن
ہے ترا حرف تمنا بھی دعا ہو جانا

تھی وہ تصویر پرانی، وہی دھندلے سے نقوش
ایک دریچہ مرے افکار میں وا ہو جانا